وہی ہوا جس کا ڈرتھا ! ابلیسی گروہ نے بالآخر اسلامی طاقتوں کو کمزور کرنے کی داغ بیل ڈال دی۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ ایک ایسے گرداب میں دھکیل دیے گئے ہیں کہ جس سے نکلنا ممکن نظر نہیں آتا۔ روز بروز مشرقِ وسطیٰ کے حالات دگر گوں اور خطے کا امن و امان غارت ہو رہا ہے۔ متحارب ممالک چاہے کسی بھی حیثیت سے اس جنگ میں شامل ہیں، ان کے عوام معاشی، معاشرتی اور فرقہ واریت کے ہیجان سے علیحدہ نبرد آزما ہو رہے ہیں۔ حرمین کے تقدس اور حفاظت کے حوالے سے پوری پاکستانی قوم یکسو ہے اور ہمیشہ سے رہی ہے کہ ہم اس کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔تاہم ایسے واقعات جن کی تصدیق بھی نہ ہوئی اور مبینہ ذمہ داران ان سے قطعی طور پر انکاری ہوں،ان کی ذمہ داری کسی پر ڈال کر طبل ِجنگ بجا دینا مناسب نہیں۔ ایران امریکہ جنگ میں جس بردباری و معاملہ فہمی کا مظاہرہ سعودی عرب نے کیا تھا وہ واقعی قابلِ صد تحسین ہے۔ پاکستان کی برادرانہ مشاورت سے سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر قائم امریکی ایئر بیسوں اور تیل کی تنصیبات پر ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا۔ یوں خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے بال بال بچ گیا وگرنہ سعودی عرب اگر جوابی حملے کا فیصلہ کرتا تو تمام خلیجی ریاستوں کا اس جنگ میں شامل ہونا ناگزیر ہو جاتا۔ امریکہ اور اسرائیل کو شاید اسی بات کا قلق ہے کہ وہ سعودی عرب اور اس کے توسط سے باقی تمام خلیجی ریاستوں کو ایران سے لڑوانے میں ناکام رہے۔ اب اسی لیے سعودیہ، پاکستان اور ترکیہ کو جان بوجھ کر الجھانے کے لئے 2022سے سعودیہ اور یمنی انصار اللہ کے درمیان ٹھنڈی پڑی جنگ کی آگ دوبارہ بھڑکائی گئی ہے۔ 13جولائی کو اس جنگ بندی توڑنے کی وجہ بقول سعودی عرب ایک مخبری تھی جس کے مطابق آیت اللہ خامنئی کے جنازے سے واپسی پر ایرانی جہاز میں سوار انصار اللہ کے وفد کے ساتھ کچھ ایسے آلات تھے جو سعودیہ میں بڑی تباہی پھیلا سکتے تھے۔ یہ مخبری کس نے کی؟ اس کا کیا ثبوت ہے کہ درست معلومات فراہم کی گئیں ؟ اور یہ خبر کیسے اور کن باوثوق ذرائع سے سعودی اہلکاروں تک پہنچائیں گئیں؟ واضح نہیں۔ اگر وہ جہاز ایران سے اڑا تھا تو یقیناً وہ ممنوعہ آلات بھی ایران سے جہاز میں لادے گئے ہوں گے۔ اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ ایرن ایسے مشکل وقت میں جب وہ امریکہ اور اسرائیل سے حالتِ جنگ میں ہے کیوں سعودی عرب سے مخاصمت بڑھائے گا؟پھر اگر ایران کے پاس ایسے خطرناک آلات تھے جو سعودی عرب کی بقاء کو خطرے میں ڈال سکتے تھے تو انصار اللہ کے حوالے کرنے کے بجائے اس نے اسرائیل کے خلاف کیوں نہ استعمال کئے۔ یقیناً یہ مخبری قابل ِاعتماد و بھروسہ ممالک کے ذریعے سعودی عرب، ایران اور انصار اللہ کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے کے لیے پہنچائی گئی تھی۔ یوں مسلمان دشمن امریکہ اور اسرائیل نے ایک تیر سے کئی شکار کر لئے یعنی" ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے"۔ سعودی عرب کو امریکہ کی حمایت میں ایران سے نہ لڑنے کی ، پاکستان کو ہندوستان کو شکست فاش دینے، خلیجی ممالک کو ایران سے جنگ میں الجھنے سے بچانے کی سزا دے کر جبکہ ترکیہ کو اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف رکھنے اور شام میں ترکیہ کے اثر رسوخ کو زائل کرنے کے لئے الجھایا گیا۔
صدر رشد العلیمی کی حکومت یمنی آئین کے مطابق نہیں۔ 2022 میں یمن کے آئینی صدر منصور ہادی نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے اپنی تمام طاقت اور اختیارات صدارتی کونسل کو تفویض کر دیے جو ناقابلِ واپسی تھے۔ اس فرمان کو اقوامِ متحدہ اور خلیجی ریاستوں کی آشیرباد حاصل ہے لیکن یمنی آئین کی نہیں۔ انصار اللہ یمن کی80 فیصد آبادی پر مشتمل ایک تہائی حصے یعنی شمالی و مغربی یمن پر ، علاوہ ازیں دارالخلافہ صناء پر بذریعہ سپریم سیاسی کونسل 2014 سے حکمران ہیں۔ عام طور پہ خیال کیا جاتا ہے کہ حوثی قبائل اور سعودیہ کی لڑائی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور وہ ایران کی پراکسی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے مغرب زدہ اور یمن کے اندرونی حالات سے ناواقف کار اسے شیعہ سنی فرقہ واریت کے باعث اختلافات سے جوڑتے ہیں۔ درحقیقت انصار اللہ ایک مقامی یمنی تحریک ہے جس میں شامل ایک قبیلہ حوثی ہے جو زیدی شیعہ ہیں۔ عملاً زیدی شیعہ سنی العقیدہ سے نسبتاً قریب تر تصور کیے جاتے ہیں جبکہ تحریک میں سنی شافعی فقہہ کے قبائل اورسلفی قبیلے بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ تحریک کے رہنما انصار اللہ تحریک کو سنی شیعہ فرقوں کی لڑائی سےاوپر اُٹھ کر مغرب اور اسرائیل کے خلاف اسلامی جنگ قرار دیتے ہیں۔ ایران پر یہ الزام کہ وہ انصار اللہ کے ذریعے سعودی عرب پر جنگ مسلط کر رہا ہے بالکل درست نہیں۔ امریکہ ایران جنگ میں ایران کی آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کی حکمتِ عملی سے واضح ہوتا ہے کہ ایران تیل کی قیمتیں 200ڈالر فی بیرل لے جا کر امریکہ کو معاشی اور سیاسی طور پرکمزور اور مفلوج کرنا چاہتا ہے ۔مزید برآں خلیجی ریاستوں کو اس نہج پر لانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے ملکوں سے امریکہ کو بوریا بسترلپیٹنے پر مجبور کریں۔ تاہم ایران سعودی عرب وخلیجی ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں اور صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس لیے ایران کے مفاد میں باب المندب کا مکمل بند ہونا ہی ہے۔ 13 جولائی کو انصار اللہ کے وفد پر حملے سے معاملہ ایران کے ہاتھ سے نکل گیا اور انصار اللہ نے 21جولائی کو تین سعودی ٹینکروں کو آگ لگا کر جوابی وار کیا۔ ایرانی حکمتِ عملی کے برعکس سعودی ٹینکروں کی باب المندب سے آمد و رفت بند کر ڈالی لیکن امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کو اس آبی گزرگاہ کے بھرپور استعمال کی اجازت دی۔ اسی لیے تیل کی قیمت اب بھی 105ڈالر فی بیرل سے اوپر نہیں جا سکی جبکہ آبنائے ہرمز پر امریکی جوابی ناکہ بندی سے ایران کا 25 اگست سے اب تک ایک ٹینکر بھی نہیں گزر سکا نتیجتاً ایرانی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔
یوں واضح ہوتا ہے کہ انصار اللہ کسی کی ایماء اور رضا کے لئے نہیں بلکہ اپنی علیحدہ حکمتِ عملی کے تحت جنگ کر رہے ہیں اور امریکہ سے اپنے معاملات بھی خود ہی طے کر رہے ہیں۔قران مجید فرقانِ حمید میں ہے : "اے ایمان والو!بہت سے گمانوں سے بچو،بعض گمان گناہ ہوتے ہیں"۔ سورت الحجرات 12:49۔البتہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر سکون سے اپنے ممالک میں انتخابات پر یکسو ہو چکے ہیں۔ان کے انتخابات سے فارغ ہونے تک مسلمان باہم لڑ لڑ کر کافی حد تک کمزور اور مقروض ہو چکے ہوں گے یوں شاطر ابلیسی ٹولہ چن چن کر ہمارا شکار کرسکے گا۔ مشتری ہوشیار باش!
؎خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو، زباں تو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے