• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق، اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد (ناصر چشتی/عاصم جاوید/رانا غلام قادر) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی قرار دادیں کثرت رائے سے منظور‘اپوزیشن کا احتجاج ‘ گورنر راج نا منظور‘غنڈہ راج نامنظور‘ عمران خان کو رہا کرو کے نعرے لگائےجبکہ وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑکاکہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا رویہ سنجیدہ نہیں تھا ۔ خیبر پختونخواہ میں ایمر جنسی کے نفاذ کیلئے مکمل جمہوری اور آئینی طریقہ اختیار کیا گیا‘ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنے کے لئے یہ بڑا اقدام اٹھایا گیا‘نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے مطابق فیصلہ کیا، کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا گیا‘وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آخری منٹ تک کوشش تھی ایمرجنسی نہ لگے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے قرار دادیں پیش کی گئیں۔ طارق فضل چوہدری کا کہناتھاکہ جب تک خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک ایمرجنسی نافذ رہے گی ۔ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ بڑی مشکل سے کیا گیا، اب بھی اس خطرے سے نہ نمٹا گیا تو پھر کب نمٹیں گے؟ صدر مملکت نے آئین کے مطابق فیصلہ کیا، کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا گیا‘وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آخری منٹ تک کوشش تھی ایمرجنسی نہ لگے، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو دہشت گردی کیخلاف آن بورڈ لیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید