ذرا ایک تجربہ کیجیے۔ آٹھ دس احباب کو بٹھائیے اور پوچھئے، آج ایک ہزار روپے لیجیے گا یا مہینے بھر بعد گیارہ سو؟ اکثر آج کا ہزار اٹھا لیں گے۔ پھر پوچھئے، ایک برس بعد ہزار، یا ایک برس اور ایک مہینے بعد گیارہ سو؟ اب وہی حضرات گیارہ سو فرمائیں گے۔ انتظار وہی ایک مہینہ، انعام وہی سو روپے، مگر جواب الٹ گیا۔ فرق بس اتنا کہ پہلا انتظار آج کی دہلیز سے اٹھتا ہے اور دوسرا برس بھر کی دوری سے۔ وہی آدمی، وہی رقم، وہی مہینہ، دو جواب :صاحب، یہی کل کا ٹیڑھا بھاؤ ہے۔ ہم کل کو آج سے سستا جانتے ہیں اور یہ عیب نہیں، جینے کی شرط ہے۔جو آج کا نوالہ کل پر وارتا رہے وہ کل تک پہنچتا ہی نہیں۔ مگر ہمارا بھاؤ سیدھی ڈھلان پر نہیں اترتا،آج اور کل کے بیچ قیمت ایک دم گرتی ہے، پھر دھیرے دھیرے بڑی کٹوتی آج کی دہلیز پر ہے۔
معاشیات نے یہ بات دیر سے مانی، مگر مانی۔ 1937ء میں پال سیموئلسن نے کل کی قیمت کا جو قاعدہ لکھا وہ سیدھا تھا، ہر دن ایک ہی تناسب سے کٹوتی۔ پھر 1981ء میں رچرڈ تھیلر نے لوگوں سے اوپر والے دو سوال پوچھے اور یہی دو جواب پائے۔ اِسی ٹیڑھ کو ناپنے پر برسوں بعد اُسے نوبیل انعام ملا۔ یوں تو یہ جھگڑا صدیوں پرانا ہے۔ ایک طرف وہ مکتب جس کا سب سے بڑا ترجمان مولانا روم ہے، آخِر بین ہو، انجام پر نظر رکھو، آج کے چارے پر کل کی فصل مت وارو۔ دوسری طرف خیام کا مکتب، جو یونان کے ایپی کیورس سے چلا آتا ہے اور کہتا ہے کہ نقد لو، ادھار چھوڑو، کہ ڈھول کی تھاپ دور ہی سے بھلی ہے۔ ایک بھاؤ سیدھا کرنا چاہتا ہے، دوسرا اُسی ٹیڑھے بھاؤ پر بضد ہےمگر بھاؤ دونوں کے سامنے ایک ہے، اور دونوں اُسے مانتے ہیں۔ جھگڑا یہ نہیں کہ کل سستا ہے یا نہیں، جھگڑا یہ ہے کہ اِس سستے کا کیا کیا جائے۔
تاریخ میں جس نے یہ بھاؤ سیدھا کیا، فائدے میں رہا۔ یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کا خواب سنا تو کہا کہ سات بااَفراط برسوں کا اناج بالیوں ہی میں رہنے دوکہ سات قحط کے برس آنے کو ہیں۔ یہ ریاست کے ہاتھوں بھاؤ سیدھا کرنے کی پہلی تدبیر تھی، اور ہمارے بزرگ یہی سبق یوں دیتے تھے کہ بیج کھا جانے والا کسان اگلی فصل نہیں دیکھتا۔ جاپان اور کوریا کی دو نسلیں جنگ کے بعد آج کا نوالہ کل پر وارتی گزر گئیں، اور تیسری نسل اُس کا پھل کھا رہی ہے۔اُن کی ترقی کا راز کوئی سرِ نہاں نہیں، سیدھا بھاؤ ہے۔
ہمارے ہاں یہ بھاؤ ہر بہی کھاتے میں لکھا ہے۔ قوم آمدنی کا تیرہ فیصد بچاتی ہے، پڑوسی تیس کے آس پاس۔ ہم اُن سے کم نہیں کماتے، آج کو ذرا زیادہ چاہتے ہیں۔ گھر میں موٹر سائیکل تیس فیصد سود کی قسطوں پر آ جاتی ہے اور بیٹی کی فیس، جو اُس قسط کا تہائی ہے، ٹلتی رہتی ہے۔ یہ کنجوسی نہیں، کل کا بھاؤ ہے، سواری کی سہولت آج ہے اور فیس کا پھل پندرہ برس بعد۔ پیٹ میں بچہ پالتی ماں کا نوالہ آج کا ہے اور بچے کا قد بیس برس بعد کا۔دس میں سے چار بچے یونہی تو چھوٹے نہیں رہ جاتے ۔ یہ بھی کل کا بھاؤ ہے، بدنیتی نہیں۔
ریاست کا بھاؤ گھر سے جدا نہیں، بس اُس کی دہلیز اونچی ہے۔ نئی سڑک کا فیتہ آج کٹتا ہے اور پرانی سڑک کی مرمت کا بجٹ ہر برس سب سے پہلے، کہ فیتہ آج دکھتا ہے اور گڑھا تین برس بعد۔ بائیس فیصد پر قرض اٹھا کر آج کا خرچ چلانا، بجلی کے بل پر رعایت دے کر گردشی قرضہ بڑھانا، تنگی کے برس تعلیم کا بجٹ نہ بڑھانا، سب اُسی ٹیڑھ کی شکلیں ہیں۔
علاج دو ہیں، اور دونوں میں وعظ نہیں کہ وعظ صدیوں سے ہو رہا ہے۔ پہلا، دور کے کل کو آج کی دہلیز پر لے آنا۔ 2011ء میں اسٹینفرڈ یونیورسٹی کی تجربہ گاہ میں بیس برس کے لگ بھگ پچاس نوجوانوں کو مجازی آئینے میں اُن کا اپنا چہرہ دکھایا گیا، آدھوں کو جیسا آج ہے اور آدھوں کو ستر برس کی عمر میں ڈھال کر، پھرفرضی ہزار ڈالر بانٹنے کو دیے تو بڑھاپا دیکھنے والوں نے بڑھاپے کے کھاتے میں دوگنی سے زیادہ رقم رکھی کہ جو کل آنکھ کے سامنے آ جائے وہ سستا نہیں رہتا۔ ماں کی خوراک کا پھل بیس برس دور ہے، مگر جو ریاست قد ناپ کر محلے کی دیوار پر لکھ دے وہ دور کا کل قریب کھینچ لاتی ہے۔
دوسرا، دہلیز کے دونوں طرف کے دام بدل دینا، آج کو مہنگا کیجیے یا کل کو مالدار۔ سگریٹ پر محصول اور قسط پر سود آج کو مہنگا کرتے ہیں۔لمبی مدت کی بچت پر زیادہ منافع، تنخواہ سے کٹنے والی بچت پر آجر یا ریاست کا ایک حصہ ڈال دینا، اور کمیٹی کی قرعہ اندازی، جس میں انتظار کا انعام نکلتا ہے، کل کوپرکشش بناتے ہیں۔ بھاؤ ٹیڑھا رہے، بس ترازو کے دوسرے پلڑے میں اتنا رکھ دیجیے کہ ٹیڑھ کے باوجود کل جیت جائے۔ ریاست کیلئے سبق وہی ہے، بچوں کی خوراک اور پرانی سڑک کی مرمت کو اُسی بھاؤ پر نہ چھوڑیے جس پر فیتہ جیت جاتا ہے، اُن کے پلڑے میں وزن رکھیے، خواہ یہ وزن قرض دینے والے کی شرط ہو یا آئین کی ایک سطر۔
ایک آخری بات، جو بھاؤ کے بارے میں سب سے کم کہی جاتی ہے۔ دہلیز سب کی ایک جیسی نہیں،جس کا آج غریب ہے اُس کی دہلیز اونچی ہے اور کل کی قیمت اُس پر صفر کے قریب، کہ جو شام کی روٹی کا یقین نہ رکھتا ہو وہ بیس برس بعد کے قد کا حساب کہاں سے رکھے۔ غربت کل کے بھاؤ کو اورٹیڑھا کرتی ہے اور ٹیڑھا بھاؤ غربت کو، اور یہ چکر وعظ سے نہیں، آج کو خوشحال کرنےسے ٹوٹتا ہے۔ سو بھاؤ آدمی کے کردار کا بیان نہیں، اُس کے فاصلے کاپیمانہ ہے اور قوم کا بھاؤ اُس کے سب سے بھوکے آدمی کی دہلیز پر طے ہوتا ہے۔ بقول فیض
جن کی آنکھوں کو رخِ صبح کا یارا بھی نہیں
اُن کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے