اگر آپ کو سفید رنگ پسند ہے، گورے لوگ اچھے لگتے ہیں تو آپ Racist ہیں۔لیکن اگر آپ سفید رنگ سے نفرت کرتے ہیں تو آپ بہترین انسان ہیں۔کالا انسان گورے لوگوں سے نفرت کرے تو وہ Racist نہیں کہلاتا۔گھر میں بیٹیاں ہیں تو آپ پر خدا کی خاص رحمت ہے لیکن اگر بیٹے ہیں تو آپ کسی محفل میں خدا کی اس نعمت پر فخر نہیں کر سکتے کیونکہ تعریف بیٹی کی ہونی چاہیے بیٹے کی نہیں۔لڑکے کی ماں اپنے بیٹے کیلئے خوبصورت دلہن اور کھاتا پیتا گھرانہ ڈھونڈے تو وہ لالچی ہے لیکن لڑکی کی ماں اپنا گھر اور کاروبار والا لڑکا چاہے تو وہ حق بجانب ہے۔ لڑکے والوں کو لڑکی پسند نہ آئے تو وہ بے حس اور ظالم ہیں لیکن لڑکی والےپچاس لڑکوں کو بھی مسترد کردیں تو یہ اُن کی مرضی ہے۔پڑھی لکھی لڑکی کی شادی ان پڑھ لڑکے سے ہونا لڑکی پر ظلم ہے لیکن لڑکی ان پڑھ ہو اور لڑکا پڑھا لکھا تو لڑکی بہت خوش قسمت ہے۔مرد کا فرض ہے کہ وہ عورت کیلئے کما کر لائے اور عورت کا فرض؟ داماد رن مرید ہوتوپیار کرنے والا ہے، بیٹا رن مرید ہو تو تعویزوں کااثرہے۔غریب کی قبر پر سانپ نظر آجائے تو عذاب کی نشانی ہے، پیرکی قبر پر آئے تو سلام کرنے آیا ہے۔ساس کی خدمت بہو پر فرض نہیں لیکن یہی بات بہو کی بھابھی پر لاگو نہیں ہوسکتی۔امیر بندہ سکون کی نیند نہیں سوتا، یہ سہولت صرف غریب کو میسر ہے۔
کسی جگہ لڑکیاں بیٹھی ہوں اور وہاں سے کسی کا بھائی گزرے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو کہہ سکتی ہیں کہ تمہارا بھائی تو بالکل ہیرو جیسا ہے لیکن اگر کہیں لڑکے بیٹھے ہوں اور……خیر چھوڑیے۔
٭ ٭ ٭
کیا کسی اور زبان کالفظ بولنے سے ہم اپنے عقیدے سے دستبردار ہوجاتے ہیں؟ خاندان کی بجائے اگر کوئی ’پریوار‘ کا لفظ بول جائے تو کیا وہ کسی گناہ کا مرتکب قرار پائے گا۔ جب دشمن سے نفرت ہوتی ہے تو اُس کی ہر چیز قابل نفرت لگنے لگتی ہے۔ سرائیکی کی ایک مثال ہے کہ’بھاندے دی ہر شے بھاندی اے‘ یعنی پسند کے بندے کی ہر چیزپسند آتی ہے۔ہماری ایک دور پار کی عزیزہ تھیں، ان کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہو ا تو اُس کا نام ’ریحان‘ سوچا گیا لیکن گھر میں فساد برپا ہوگیا کیونکہ ریحان نامی بندہ پندرہ بیس سال پہلے اُن کی ساس کی کمیٹی کھا گیا تھا۔جن لوگوں کو انگریزی سے نفرت ہے وہ چائنیز اورنارویجن زبان سے کوئی بیر نہیں رکھتے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں عام بول چال میں بھی زبان کے اسلوب کا نہیں پتا، اسی لیے نوٹ کیجئے گا جب لوگوں کی آپس میں تکرار ہوتی ہے تو محض زبان کے استعمال سے ناواقفیت کی بنا پر اکثر یہ خونخوار لڑائی میں بدل جاتی ہے۔چھوٹے علاقوں اور دیہاتوں میں ’مائی‘ کالفظ کسی بھی عمر کی عورت کیلئے احترام کے طور پر بولا جاتاہے لیکن شہروں میں ذرا کسی کو یہ کہہ کر دیکھیں۔چاچی کہنے پرشائد معافی مل جائے لیکن آنٹی کہنا فساد برپا کرسکتاہے۔ہمارے بچپن میں ہر دکاندار چاچا جی ہوتا تھا،ہر عورت خالہ یا ماسی ہوتی تھی۔آج کل ماسی سے مراد گھر کے کام کرنے والی ہے۔سالا رشتے سے گالی میں تبدیل ہوگیا۔چلیں معانی بدل گئے لیکن اس سے کیا ہوتاہے اور روزمرہ کی اُردو زبان تو مسلسل بدلتی چلی آرہی ہے۔اعتراض صرف خبردار کو’کھبردار‘ ریگل کو ’ریغل‘ اور مرغی کو ’ مُرگی‘ بولنے پر ہے۔جو احباب اُردو اسپیکنگ ہیں اُن کے ہاں بھی اُردو خالص لہجے سے محروم ہوتی جارہی ہے۔’اتنے اتنے‘ کو ’اِتے اِتے‘اور ’کیا ہوا‘ کو ’کیا وا‘ عام سننے کو ملتاہے۔اذیت ناک بات تو یہ ہے کہ نئی نسل ’سہی اور صحیح‘ کے فرق سے بھی محروم ہوتی چلی جارہی ہے’محروم اور مرحوم‘ کی نزاکت سے ناآشنا ہے۔تماشا دیکھنا ہو تو سوشل میڈیا کے تھمب نیل دیکھئے جہاں اکثر کچھ ایسا لکھا ہوا نظر آجاتاہے ’فرک تلاش کریں‘۔
٭ ٭ ٭
ہم سب حکومت سے ریلیف مانگتے ہیں لیکن ہوتا کیا ہے۔اگرکسی چیز میں کوئی ریلیف ملتا بھی ہے تو اُسے حاصل کرنے کیلئے جن لوگوں کے پاس جانا پڑتاہے وہ سارا حساب برابر کر دیتے ہیں۔انصاف حاصل کرنے کا طریقہ کار بڑا سادہ ہے۔کسی نے کوئی زیادتی یافراڈ کیا ہے تو داد رسی کیلئے پولیس کے پاس جائیں یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔لیکن کیا بس اتنا ہی کافی ہے؟آگے کا احوال سب جانتے ہیں۔ ایل پی جی گیس کے بارے میں اکثر خبریں آتی ہیں کہ گھریلو سلنڈر سستا کر دیا گیا ہے لیکن اپنے ایمان سے بتائیے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ گھریلو سلنڈر سے کیا مراد ہے اور جب ہم گیس بھروانے جاتے ہیں تو کیا وہاں گھریلو سلنڈر کے ریٹ الگ سے لکھے ہوتے ہیں؟توپھر گھریلوسلنڈر کہاں سے بھروایا جائے؟ حکومت نے تو ریٹ مقرر کر دیا، دُکانوں کے ریٹ کون سنبھالے؟کیاہر چیز سرکاری نرخ پر دستیاب ہے؟حکومت نے مزدور کی جو ماہانہ آمدنی مقرر کی ہے کیا وہ کسی کو مل بھی رہی ہے؟۔آپ ٹرین کے بہترین اے سی پارلر میں بھی سفر کررہے ہوں تو جس صفائی، کھانے اور کمبل کے پیسے آپ اپنے ٹکٹ میں کٹوا چکے ہوتے ہیں اُس پر بھی کوئی نہ کوئی ملازم ہاتھ پھیلا کر اپنا انعام مانگ لیتاہے۔ٹریفک وارڈنز کا کام ٹریفک قوانین کی پابندی کروانا ہے لیکن اکثر کسی سنہرے موڑ پر گھات لگا کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ جو بھی موٹر سائیکل والا گزرے اسے دھر لیں۔پہلے عید پر لوگ اپنے اور رشتہ داروں کے بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے اب آپ عید کے دنوں میں پٹرول ڈلوانے جائیں، بال کٹوانے جائیں یا پنکچر لگوانے جائیں، اکثریت عیدی مانگے گی۔پچھلی عید پرتو بجلی اور ٹیلی فون کے لائن مین بھی بیل دے کر عیدی مانگنے تشریف لائے ہوئے تھے۔اِنہیں لگتاہے کہ خوشی کے اس موقع پر عام آدمی کو ہنستے مسکراتے،ناچتے گاتے اِنہیں پیسے دے دینے چاہئیں۔ انکو انکار کریں تو یہ حوالے دینا شروع ہو جاتے ہیں کہ فلاں فلاں نے بھی تو عیدی دی ہے۔ اسی لئے اکثر عید کے روز بیل بجے تو اندر سے آواز آتی ہے کہ وہ گھرپر نہیں ہیں۔