• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان جب بھی راندہ درگاہ ہوتے ہیں تو ان کے والد مفتی محمود سے منسوب یہ جملہ زبان زدعام ہوجاتا ہے کہ’’ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔‘‘کیا واقعی مولانا مفتی محمود نے یہ بات کہی تھی ؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے جمعیت علمائے اسلام کی تاریخ کنگھالنا اور تناظر جاننا بہت ضروری ہے۔علمائے دیوبند کی برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا آغاز شاہ ولی اللہ کے فرزندشاہ عبدالعزیز دہلوی کے اس فتوے سے ہوتا ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیااور پھرجذبہ حریت سے سرشار سید احمد شہید ،مولانا قاسم نانوتوی،حاجی صاحب ترنگ زئی اور فقیر ایپی جیسے متوالے وطن کی مٹی پر قربان ہوتے چلے گئے ۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہ جدوجہد مزید تیز ہوگئی ۔انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی پاداش میں فضل حق خیر آبادی کالے پانی کی سزا کاٹتے چل بسے ،ملا احمد اللہ شاہ مدراسی کو سور کی کھال میں لپیٹ کر زندہ جلا دیا گیا،ملاکفایت اللہ کافی کا بدن لوہے کی گرم استری سے داغا جاتا رہا،شیخ الہند مولانا محمود الحسن مالٹا میں اسیر رہے ،ملا عبیداللہ سندھی کو سرنگ میں قید کردیا گیا ،مولانا ابوالکلام آزادکی زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے گزر گیا اور مولانا حسرت موہانی زندگی بھر چکی پیستے رہے۔شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے ملا عبیداللہ سندھی کو کابل بھیجا تاکہ برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں تعاون حاصل کیا جاسکے۔انہوں نے کابل جو تاج برطانیہ کے خلاف بغاوت کیلئے جو خفیہ خطوط ارسال کئے،وہ برطانوی حکام کے ہاتھ لگ گئے اور222علما ء کو گرفتار کرلیا گیا۔مولانا محمودالحسن جنہیں حجاز سے تحویل میں لیا گیا ،پہلے انہیں مصر لے جایا گیا اور مالٹا میں قید کردیا گیا۔ملا عبیداللہ سندھی کے خطوط چونکہ ریشمی رومالوں پر لکھے گئے تھے اسلئے انگریزوں نے اس مقدمہ کو Silken Letter Conspiracy Caseکا نام دیا۔ریشمی رومال تحریک ناکام ہونے کے بعد نومبر 1919ء میں جمعیت علمائے ہند تشکیل دی گئی تو مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے ۔اگلے برس یعنی 8جون 1920ء کو مولانا محمود الحسن کی مالٹا کے قید خانے سے واپسی ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ اور کانگریس سے کہیں پہلے جمعیت علمائے ہند نے انگریز سرکار سے داخلی خودمختاری کے بجائے آزادی کا مطالبہ کیا۔ موجودہ بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر ’’کاکیناڑا‘‘میں جمعیت علمائے ہند کا پانچواں سالانہ اجلاس جو مولانا حسین احمد مدنی کی سربراہی میں ہوا،اس میں تاج برطانیہ سے کامل آزادی کی بات ہوئی اور1926ء میں کلکتہ کے مقام پر ساتویں سالانہ اجتماع میں اس حوالے سے باقاعدہ قرار داد منظور کی گئی۔تحریک ترک موالات جسے تحریک عدم تعاون بھی کہا جاتا ہے ،تحریک خلافت یا پھر سول نافرمانی تحریک میں جمعیت علمائے ہند نے بہت سرگرم اور فعال کردار اداکیا مگر جب تحریک آزادی کے آخری مرحلے میں دو قومی نظریئے کی بنیاد پر مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے حصول کا مطالبہ سامنے آیا تو جمعیت علمائے ہند میں پھوٹ پڑ گئی۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ،مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات تقسیم ہندوستان کیخلاف تھیں جبکہ مولانا اشرف علی تھانوی کی قیادت میں کئی قدآور علما ء قیام پاکستان کے حق میں تھے ۔چنانچہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے 1945ء میں جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد رکھی جس میں مولانا ظفر احمد عثمانی ،مولانا مفتی محمد شفیع ،مولانا مفتی محمد حسن،مولانا احتشام الحق تھانوی اور دیگر علمائے کرام شامل تھے ۔جمعیت علمائے اسلام نے تحریک پاکستان میں بہت سرگرم اور فعال کردار ادا کیا مگرمولانا مفتی محمود تب اس دھڑے میں تھے جو قیام پاکستان کا مخالف تھا۔البتہ جب پاکستان بن گیا تو مولانا حسین احمدمدنی ،مولانا ابوالکلام آزاد ،عطااللہ شاہ بخاری اور مولانا مفتی محمود نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔پاکستان میں رہنے والے مولانا حسین احمد مدنی کے عقیدت مندوں نے جب ان سے مستقبل کے حوالے سے رہنمائی طلب کی تو انہو ں نے کہا ،ماضی کو بھول جائیں اور اس ضمن میں مسجد کی مثال دی کہ اس کی تعمیر سے پہلے تو اختلاف ہوسکتا ہے مگر جب مسجد بن جائے تو اس کے تقدس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 1953ء میںجمعیت علمائے اسلام مغربی پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو مولانا احمد علی لاہور ی امیر جبکہ مولانا احتشام الحق تھانوی ناظم منتخب ہوئے۔1962ء میں جمعیت علمائے اسلام مشرقی پاکستان اور پھر 1967ء میں کل پاکستان جمعیت علمائے اسلام بنائی گئی اور پھر اس کی زمام کار مولانا مفتی محمود نے سنبھال لی ۔جب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود کو ملک توڑنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تو ابو عما ر زاہد الراشدی کے مطابق اس طعنے کے جواب میں اکتوبر 1975ء کوجامع مسجد نور مدرسہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ میں ملک گیر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی محمود نے کہا ’’ہم پاکستان کی تقسیم کے ذمہ دار نہیں ہیں، اس کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ ہم تو ہندوستان کی تقسیم کے حق میں بھی نہیں تھے پاکستان کی تقسیم کے کس طرح حق میں ہو سکتے ہیں؟ یہ تقسیم کرنا تمہارا ہی کام ہے، کل بھی ملک تم نے تقسیم کیا اور آج بھی تم نے ملک کو دولخت کیا ہے۔ اگر یہ تقسیم گناہ ہے تو اس گناہ میں ہم نہ کل شریک تھے اور نہ آج اس گناہ میں ہم حصہ دار ہیں‘‘۔یہ وہ تقریر تھی جسے اختصار کے ساتھ اس جملے میں تبدیل کردیا گیا کہ ’’ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے‘‘۔بالکل ایسے ہی جیسے مرحوم عباس اطہر نے 1970ء کے عام انتخابات کے بعد یہ جملہ ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب کردیا کہ ’’اُدھر تم،اِدھر ہم ‘‘۔بعد ازاں وہ زندگی بھر یہ وضاحتیں دیتے رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں یہ جملہ نہیں کہا تھا بلکہ انہوں نے ان کی گفتگو کا خلاصہ اخبار کی سرخی میں بیان کیا۔قصہ مختصر یہ کہ مولانا مفتی محمود بےشک پاکستان بنانے کے ’’گناہ ‘‘میں شریک نہ رہے ہوں مگر مولانا فضل الرحمان کا پاکستان بچانے میں بہت کلیدی کردار رہا ہے اور اس کی تفصیل میں کئی کالم لکھے جاسکتے ہیں۔

نوٹ:گزشتہ کالم میں سہواً صدر ممنون حسین لکھا گیا ،اسے صدر رفیق تارڑ پڑھا جائے۔شکریہ

تازہ ترین