اسلام آباد (مہتاب حیدر) تجارتی ڈیٹا میں 18 ارب ڈالر سے زائد کا فرق، اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کا اعتراف، فرق کی نشاندہی کر کے اسے دور کر دیا گیا؛ تجارتی اعداد و شمار پر پی بی ایس کی رپورٹ آئی ایم ایف کو پیش ۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار میں مالی سال 2020-21 سے 2024-25 تک پانچ سال کے دوران 18 ارب ڈالر سے زائد کا فرق موجود ہے۔ تاہم، اس فرق کی نشاندہی کر کے اسے دور کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے کمیٹی کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے، جس میں تجارتی اعداد و شمار کے ذرائع کو پی آر اے ایل سے پاکستان سنگل ونڈو پر منتقل کرنے کے عمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ وزارتِ منصوبہ بندی اور وزارتِ خزانہ کو پیش کر دی گئی ہے، جبکہ اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم آفس کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 2025 میں ابتدائی طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ یہ اقدام چین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی اعداد و شمار میں تضادات سامنے آنے کے بعد کیا گیا، خصوصاً پاکستان کی جانب سے چین سے کی جانے والی درآمدات اور چین کی جانب سے پاکستان کو کی جانے والی برآمدات کے اعداد و شمار میں بڑے فرق کی نشاندہی ہوئی تھی۔ اس کمیٹی نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹیٹسٹکس اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے وی بوک سے حاصل کردہ درآمدات کے اعداد و شمار کو 2017 کے بعد سے جامع طور پر اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں، بعد ازاں متعارف کرائے گئے بعض گڈز ڈیکلریشنز کے تحت ریکارڈ کی جانے والی درآمدات سرکاری رپورٹنگ کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا میں شامل نہیں ہو سکیں۔