ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
عرب میڈیا میں شائع کی گئی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان یورینیئم کی افزودگی اور ایران کے جوہری ذخیرے کے مستقبل پر اختلافات برقرار ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے ایرانی جوہری مواد کو بیرون ملک منتقل کرنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افزودہ یورینیئم کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔
دوسری جانب امریکا چاہتا ہے کہ ایران طویل مدت کے لیے قابلِ تصدیق ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت دوبارہ حاصل نہیں کرے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی یورینیئم کی افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی پر زور دیا ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت یورینیئم کی افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز شامل تھی تاہم اس میں کئی اہم معاملات طے نہیں ہو سکے تھے۔
اس مفاہمتی یادداشت میں افزودہ یورینیئم کی مقدار اور اسے کس سطح تک محدود کیا جائے گا، جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اسے یورینیئم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ امریکا اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے، یہی اختلاف دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔