تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک )امریکا اور اسرائیل کی ایرانی سرحدپرنئے فضائی حملوں کی مشقیں‘ انتہائی شدید حملوں کی حتمی تیاریاں جاری‘ ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام باراک کاکہنا ہے کہ واشنگٹن اس ہفتے کے اختتام پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے ‘ ایران میں رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں ایران پر حملے کےبارے میں کچھ علم نہیں‘جنگ بہت جلد ختم کر سکتے ہیںمگر سوال یہ ہے کہ معاملہ ایک ہی بار میں نمٹائیں یا انہیں بتدریج کمزور ہونے دیں‘دوسری جانب ایرانی فوج نے تمام یونٹ کمانڈرزکو جنگی تیاری کی اعلیٰ ترین سطح برقرار رکھنے کا حکم دیدیا ‘ ترک وزیرخارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی‘ امن کیلئے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے‘ پاسداران کاکہناہے کہ ہرمز میں امریکا کی کوئی جگہ نہیں‘ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پراپنے ٹیکس دہندگان کے 11ارب ڈالر خرچ کیے ہیں‘ اسرائیل کے دفاع میں امریکا نے خود اسرائیل سے بھی زیادہ انٹرسیپٹر میزائل داغے ہیں۔ادھر سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے ریاض‘نجران اور خمیس مشیط پر حوثی حملوں کی کوشش ناکام بنادی ہے ‘اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے سعودی عرب کے شہروں ریاض اور دمام کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی میں 5 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔