کراچی( ثاقب صغیر )ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں درج مقدمے میں 6 کروڑ روپے سے زائد کا سونا اور چاندی تفتیشی افسر کے کمرے سے غائب ہوگئی ۔ایف آئی اے کراچی نے تفتیشی انسپکٹر کو گرفتار کرلیا ۔ 7 مئی 2026 کو مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران ضبط شدہ مال ایف آئی اے کی تحویل میں لیا گیا تھا۔ اس میں شامل اہم اشیا 350 تولے چاندی اور 108 ڈائیز، دکان نمبر 303-304 سے ضبط کیے گئے۔265 تولے چاندی، مختلف ڈائیز، لیجرز اور رجسٹرز دفتر نمبر 1101 سے برآمد کیے گئے۔چاندی کی دو سلاخیں جن میں ایک کا وزن ایک کلوگرام درج ہے۔دکان نمبر G-39 اور G-41، گولڈ ٹاور، صدر کراچی سے رجسٹرز، مہریں، وزن کرنے والی مشین اور ایک لاکر بھی تحویل میں لیا گیا۔مقدمےکے مطابق مجموعی طور پر 4,584 تولے، یعنی تقریباً 53 کلوگرام چاندی، سونے اور دیگر متعلقہ اشیا کا ذکر ہے جن کی مالیت تقریباً 6 کروڑ 40 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔مقدمہ کے مطابق ضبط شدہ قیمتی دھاتوں کی تحویل انسپکٹر شیخ سہیل محمود کے سپرد کی گئی تھی جو ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی میں تعینات تھے۔مقدمہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ضبط شدہ مال کو باقاعدہ مال خانے میں جمع کرانے کے بجائے ایک علیحدہ کمرے میں ذاتی تالے اور چابی کے تحت رکھا گیا۔