پنجاب کے دور افتادہ ضلع میں تعینات ہونے والا ایس پی جب علاقے کے دورے پر نکلاتوضلع کی آخری تحصیل کی آخری چوکی تک جا پہنچا ‘ وہاں ایک کانسٹیبل مامور تھا جو لاپرواہی سے ایک کرسی پر بیٹھا سگریٹ کا دھواں اڑا رہا تھا ‘ ایس پی کو دیکھ کر بھی اس کی بے نیازی میں کوئی فرق نہ آیا ‘ اس نے ہڑبڑا کر سگریٹ پھینکا نہ اٹھ کر سیلوٹ کیا ۔ایس پی غصے سے چنگھاڑا ’’تم جانتے نہیں میں کون ہوں ؟‘‘ سپاہی نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے جواب دیا ’’جی میں جانتا ہوں آپ علاقے کے نئے ایس پی ہیں ۔‘‘ اس پر ایس پی مزید سیخ پا ہوا’’پھر تم نے مجھے سیلوٹ کیوں نہیں کیا؟‘‘ اس مرتبہ سپاہی نے اپنا سگریٹ بجھایا اور کھڑے ہو کر اپنی وردی ٹھیک کرتا ہوا بولا’’اس لئے سر کہ یہاں سے آگے کوئی چوکی نہیں اور کانسٹیبل سے نیچے کوئی رینک نہیں !‘‘ یہ ہے ہماری سرکاری ملازمت کا کل خلاصہ۔سرکاری ملازمت کے نظام میں تین بڑی خرابیاں ہیں۔ پہلی اور سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ آجر (employer) کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، سرکاری ملازم سرکار سے تنخواہ وصول کرتے ہیں اور یوں ریاست کے ملازم ہوتے ہیں، ریاست کے پاس یہ اختیار ہونا چاہئے کہ اس کا جو بھی ملازم کام نہ کرے ‘ نا اہل یا بدعنوان ہو اسے ملازمت سے برطرف کردے مگر ریاست کا یہ اختیار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سول سرونٹس ایکٹ ‘ ایسٹا کوڈ ‘ ای اینڈ ڈی رولز‘ کنڈکٹ رولز‘ انکوائری کے قواعد و ضوابط ‘ سروس ٹربیونل اور اس کے بعد اعلی عدالتیں …ان تمام عوامل کی موجودگی میں اگر کسی نا خلف قسم کے کلرک کو نوکری سے نکال بھی دیا جائے تو چند سال بعدوہ انکوائری کمیٹی کی کارروائی میں کوئی تکنیکی نقص نکال کر سروس ٹربیونل کے ذریعے اپنی گزشتہ تنخواہ اور مراعات سمیت بحال ہو جائے گا اور ریاست منہ دیکھتی رہ جائے گی۔ یہ تمام ادارے ‘عدالتیں اور قواعد اس لئے بنائے گئے تھے کہ اگر کسی شخص کا حق سلب کیا جاتا ہے تو وہ داد رسی کے لئے عدالت یا ٹربیونل کا دروازہ کھٹکھٹاسکے یاقانون اس کو تحفظ دے ‘ مگر موجودہ صورتحال نے سرکاری ملازم کو ریاست کا داماد بنا کر رکھ دیا ہے ‘اگر حکومت کسی سرکاری ملازم کا تبادلہ کسی نا پسندیدہ جگہ کر دے تو وہ عدالت میں چلا جاتا ہے کہ فلاں شخص مجھ سے جونئیر ہے ‘وہ مجھ سے زیادہ عرصے سے اس جگہ تعینات ہے ‘ اس کی بجائے میرا تبادلہ کرکے میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے لہٰذا میری ’’داماد‘‘ والی پوزیشن بحال کرتے ہوئے تبادلہ منسوخ کیا جائے ۔گویا employer اورemployeeمیں فرق ہی ختم ہو گیا ہے ‘ اگر آجرنے اپنے ملازمین میں امتیاز بھی نہیں برتنا تو اور اس نے کیا کرنا ہے ؟ کیا گدھوں اور گھوڑوں میں فرق کرنا ضروری نہیں ‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ دونوں کو ایک ہی طرح ٹریٹ کریں اور سروس ڈیلوری کی امید بھی رکھیں ؟ اگر آجر اپنی مرضی سے اپنے ملازم کو تعینات نہیں کر سکتا ‘ نا اہلی کی بنیاد پر اسے برطرف نہیں کر سکتا اور ملاز م کی ترقی بھی اس کی ’’بزرگی‘‘ کی بنیاد پر ہو نا کہ قابلیت اور استعداد کی بنیادپر تو کیسے ممکن ہے کہ اس سے وہ پورا کام لیا جا سکے جس کی اسے تنخواہ ملتی ہے! یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکار اتنی ہی بے بس ہے تو پھر سرکاری ملازم اپنے افسران کے آگے بھیگی بلی بنے کیوں بنے رہتے ہیں ‘ آخر انہیں نوکری میں کوئی خوف تو ہے ! یقینا انہیں خوف ہے مگر اس بات کا نہیں کہ انہیں نوکری سے نکالا جاسکتا ہے ‘ انہیں خوف اس بات کا ہے کہ ان کا تبادلہ لاہور سے راجن پور ہوسکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ تھوڑا بہت کام بھی کر لیتے ہیں ۔مگرتبادلے کے خوف کی یہ پالیسی کسی بہتری کا باعث نہیں بنتی کیونکہ اس حکمت عملی میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ راجن پور میں اہل سرکاری ملازم کی ضرورت نہیں اور یوں سروس ڈیلوری کی جو ناکامی لاہور میں ہو رہی تھی وہ اب اس سرکاری ملازم کے ہاتھوں راجن پور میں ہوگی ۔
اس نظام میں دوسری بڑی خرابی گریڈ سسٹم ہے ۔اگر آپ کسی طرح سینٹرل سپیرئیر سروسز جسے عرف عام میں سی ایس ایس کہا جاتا ہے ‘ پاس کر کے سول سرول کا حصہ بن جائیں اوراس کے بعد کوئی پہاڑ جیسی غلطی نہ کریں ‘ بگو گوشوں کی طرح تربیتی کورسز مکمل کریں اور اعلی ٰ افسران کے سامنے ہمیشہ رکوع کی حالت میں رہیں تو ایک کے بعد دوسرا گریڈ پھلانگتے ہوئے گریڈ اکیس تک با آسانی جا سکتے ہیں ۔ترقی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سرکاری ملازم کی سالانہ ’’خفیہ‘‘ رپورٹ (جسے خفیہ کہنا کسی لطیفے سے کم نہیں تھا اسی لئے اس کا نام تبدیل کرکے اب پرفارمنس ایویلوایشن رپورٹ رکھ دیا گیا ہے ) اچھی ہو ۔ہر سال لاکھوں سرکاری ملازمین کی سالانہ رپورٹیں لکھی جاتی ہیں اور ان میں سے چند ہی بدقسمت ہوتے ہیں جن کی اے سی آر خراب ہو ورنہ ہمارے ہاں آنکھ کی شرم اتنی ہے کہ کسی کی اے سی آر شاذ و نادر ہی خراب ہوتی ہے ‘ مگر ان لاکھوں ملازمین سے اگر ان کے اپنے محکمے کی کارکردگی کے بارے میں ہی پوچھ لیا جائے تو سب مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئیں گے ‘ مثلاً پولیس کے بارے میں پولیس کے افسران سے پوچھا جائے تو ان کا جواب کم از کم یہ نہیں ہوگا کہ ان کا محکمہ قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے مگر پولیس کے ہر افسر کی اے سی آر outstandingنہیں تو کم از کم ویری گڈ ضرور ہوگی ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی محکمے کی کارکردگی تو اوسط درجے کی ہو جبکہ وہاں تعینات افسران غیر معمولی طور پر قابل ہوں !گویا اے سی آر کی بنیاد پر ترقی دینے کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور عملاً اگر کوئی سرکاری افسر سینیارٹی کی قطار میں کھڑا ہے تو لا محالہ اسے اگلے گریڈ میں ترقی مل جاتی ہے بشرطیکہ اس نے ’’رکوع و سجود ‘‘کی دیگر شرائط پوری کی ہوں۔ یوں پاکستان میں سول سروس عامیانہ لوگوں کی پناہ گاہ بن کر رہ گئی ہے، یہاں قابلیت اور استعداد کی بنیاد پر ترقی کا تصور مفقود ہو چکا ہے ۔
تیسری بڑی خرابی اس نظام میں تنخواہ کا ڈھانچہ ہے۔ سرکار ایک شخص کو گریڈ بیس میں کسی محکمے کا سربراہ تعینات کرتی ہے ‘ اس کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ حکومت کیلئے ایسی پالیسی وضع کرے جس کے نتیجے میں صوبے میں صحت کی بنیادی سہولتیں دیہی علاقوں تک با آسانی میسر ہوں ‘ اس افسر کے ماتحت بیسیوں ذیلی ادارے کام کرتے ہیں اور اسکے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ اسے رات گئے اور چھٹی کے دن بھی کام کرنا پڑتا ہے۔دوسری طرف گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول چیچہ وطنی کا ہیڈ ماسٹر بھی گریڈ بیس میں ہے ‘ اسکے ذمے صرف ایک اسکول چلانا ہے مگر ہیڈ ماسٹر کی تنخواہ بھی اتنی ہے جتنی اس ادارے کے سربرا ہ کی مگر دونوں کے کام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ نقصان اس سے یہ ہوتا ہے کہ جب بھی حکومت یہ سوچتی ہے کہ کام کی نوعیت کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئے تو گریڈ آڑے آ جاتے ہیں اور یوں ان تمام لوگوں کی تنخواہیں بڑھانی پڑتی ہیں جو اس گریڈ میں کام کرتے ہیںچاہیں ان کے کام کی نوعیت تنخواہ میں اضافے سے مطابقت نہ بھی رکھتی ہو۔تنخواہوں کے اس ڈھانچے میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کو معطل بھی کر دیا جائے تو اسے گھر بیٹھے تنخواہ ملتی رہتی ہے ‘ ایک ہی گریڈ میں اگر دو سرکاری ملازم کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک نا اہل اور دوسرا قابل ہے تو بھی دونوں کی تنخواہ وہی ہے ‘ اہلیت کی بنیاد پر تنخواہ دینے یا بڑھانے کا کوئی نظام نہیں ‘ گدھے اور گھوڑے سب برابر ہیں ‘ سب سرکار کے داماد ہیں!ان خرابیوں کا حل کیا ہے ‘اس کا ذکر پھر کبھی۔