• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چوراہا … حسن نثار,,,,الفاظ کے اوزار، زندہ روبوٹس

کچھ الفاظ … ”اوزاروں“ کی طرح استعمال ہورہے ہیں۔ حکمرانوں کی اس ”ٹول کٹ“ پر غورکریں کہ اس میں کیسے کیسے ”اوزار“ موجود ہیں جنہیں استعمال کرکے حسب ِ ضرورت ”باشعور“ عوام کے نٹ پیچ ڈھیلے کئے جاتے ہیں یا کسے جاتے ہیں۔ ان سب الفاظ کی ”فیملی“ ایک ہی ہے جیسے چکوترا، کینو، مالٹا، سنگترہ، لیموں، کھٹی اور ٹینجرین وغیرہ مختلف ذائقوں اور سائزز کے باوجود ایک ہی ”فیملی“ کے ممبرز اور آپس میں”کزن“ ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ جیسے برگد اور پیپل عام فائیکس سے مختلف نظر آنے کے باوجود فائیکس فیملی سے ہی تعلق رکھتے ہیں یا یہ کہ بنیادی طور پر سیب اورگلاب کا بوٹینکل خاندان بھی ایک ہی ہے حالانکہ سیب پھل اورگلاب پھول ہے۔ مختصراً یہ کہ میں جن چند الفاظ کا ذکر کرنے والا ہوں… یہ سب بھلے بظاہر اک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد دکھائی دیں، ان کا تعلق ایک ہی فیملی سے ہے۔ میں نے شروع میں ”باشعور عوام“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو ان کا تعلق بھی الفاظ کی اسی فیملی کے ساتھ ہے جو ہم روبوٹس پرگزشتہ اکسٹھ (61) سال سے اوزاروں کی طرح استعمال ہورہے ہیں۔
یوں تو ہم جیسے ”زندہ روبوٹس“ پر کامیابی سے استعمال ہونے والے اوزاروں یعنی الفاظ کی تعداد سینکڑوں میں ہے لیکن کیونکہ بیچارہ کالم اتنے بوجھ کا متحمل نہیں ہوسکتا اس لئے میں فقط چند الفاظ، اصطلاحوں یعنی اوزاروں پرہی اکتفا کروں گا۔ یہ الفاظ ساتھ ساتھ نہیں… اوپر نیچے درج کرنا اسی لئے ضروری ہے کہ ان پر علیحدہ علیحدہ … رک رک کر غورکیاجاسکے۔ بسم اللہ کیجئے۔
”قومی مفاد“
”غیرت و حمیت“
”عہد کیا ہے“
”برداشت نہیں کریں گے“
”آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے“
”میلی آنکھ“
”فرد ِواحد“
”آمر مطلق“
”سیسہ پلائی دیوار“
”غم و غصہ“
”جوش و جذبہ“
”عقیدت و احترام“
”اسلام کا قلعہ“
”شان و شوکت سے منایا“
”عوام کی امنگیں“
”جمہوری روایات“
”مشرقی روایات“
”ہماری اقدار“
”خودمختاری“
”وقت آگیا ہے“…… وغیرہ وغیرہ وغیرہ
قارئین!
خدارا ذہنی طور پر زیرو میٹر… غیرمتعصب، غیرجانبدار ہوکر اس ساری لفاظی پر ٹھنڈے دل سے گہرائی میں جاکر غور فرمایئے کہ یہ لفظ کتنے گھسے پٹے، بے معنی، بودے اور کھوکھلے ہیں اور ان میں قصور ان معصوم الفاظ کا نہیں… ان شیطانوں یا ابوجہلوں کا ہے جنہوں نے ان زندہ الفاظ کے ابدان سے روحیں نکال کر انہیں ہمارے مختلف قسم کے استحصال کے لئے اوزاروں کی طرح استعمال کیا… یہ الفاظ شہید ہوئے یا ہلاک؟ اس بحث میں پڑے بغیر میری گذارش ہے کہ مختلف حوالوں، زاویوں اور نتیجوں کوسامنے رکھتے ہوئے… زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچئے تو سہی کہ یہ الفاظ تھے کیا؟ بن کیاگئے اور آج ان کاکوئی مطلب بھی ہے یا ہم سب رواداری میں ہی انہیں سنے، بولے، لکھے اور پڑھے جارہے ہیں۔
زیادہ نہیں صرف چند الفاظ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں مثلاً…
”قومی مفاد“ کی اصطلاح اتنی کثرت سے استعمال ہوئی کہ گھستے گھستے… گھٹتے گھٹتے اس کی حیثیت پاکستانی روپیہ جتنی بھی نہیں رہ گئی اور آج اس ملک کا ہر ذی شعور (ذی شعورہونے کی شرط لاز م ہے) شخص بخوبی جانتا ہے کہ ”قومی مفاد“ کا مطلب ”ذاتی مفاد“ کے علاوہ کچھ نہیں… لیڈری چمکتی رہے، پراپرٹی بڑھتی رہے!
اک اور ڈائیلاگ کا بھی جواب نہیں… ”کوئی ہمیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا“ حالانکہ ڈھاکہ سے براستہ کارگل فاٹا تک کی فرینڈلی فائرنگ کسی ”فیری ٹیل“ سے کم نہیں لیکن پھر کہتے ہیں ”اجازت نہیں دیں گے“ حالانکہ وہ اجازت لیتے ہی نہیں۔
جس جمہوری بچے جمورے کو دیکھو اسے آج کل ”فرد ِ واحد“ … ”آمر مطلق“… ”ڈکٹیٹر شپ“ کا دورہ پڑاہے حالانکہ مین سٹریم پارٹیوں میں سے ایک بھی ایسی نہیں جس کے بڑوں نے فل بوٹوں کے تسمے نہ باندھے ہوں اور برسہا برس کسی ڈکٹیٹر کی چاکری نہ کی ہو …جنرل ضیاء الحق کے حواری، درباری بھی آج کل کہاں کہاں بیٹھے کیسی کیسی نہیں چھوڑ رہے؟ لیکن یہاں سب چلتاہے۔ عوام کی یادداشت کمزور، ان کی ڈھٹائی طاقتور ۔
غور کریں تو ”سیسہ پلائی دیوار“ بھی خاصی بیزار کن اصطلاح ہے کیونکہ ملکی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے ہمیں انتشار کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ملکی کیا ہم تو گلی کی سطح پرمتحد نہیں اور جہاں انصاف عنقا ہو وہاں یہی کچھ ہوتا ہے لیکن ”مکالمہ“ بولنے میں کیا حرج ہے۔
اسی طرح ”غم و غصہ“ … جس میں آج تک کبھی کچھ نکلتے نہیں دیکھا۔
”فلاں یوم عقیدت و احترام سے منایا“… حالانکہ عقیدت و احترام کا تقاضا یہ ہے کہ جس کا یوم منایاجارہا ہے، حکام اور عوام اس شخصیت کی ہدایات اور تعلیمات پر عمل کریں۔ نری لڈیاں بھنگڑے ڈالنا، جھنڈیاں لگانا عقیدت و احترام نہیں… بدتمیزی ہے۔ اس سے گھٹیا کون ہوگا جو اپنے بڑوں بزرگوں کی باتوں کے بالکل برعکس اور الٹ زندگی گزارے اورپھر ”عقیدت و احترام“ کادعویدار بھی ہو۔
”خودمختاری“ کی پٹاری سے بھی روز سانپ نکالے جاتے ہیں حالانکہ تاریخ کااولین سبق یہ ہے کہ کاسے، ٹھوٹے، کشکول، پھیلی ہوئی جھولیاں اورہاتھ کبھی خودمختار نہیں ہوتے۔ ذرا حساب لگاؤ گزشتہ پانچ سال میں امریکہ کتنے کھرب روپے کی ”امداد“ دے چکا… ”کھانا بھی غرانا بھی“ والی بات تلخ تو بہت ہے لیکن کیا کریں… صحت کے لئے کڑوی گولیاں نگلنا تو کیا… خوفناک سرجری سے بھی گزرنا پڑتاہے لیکن ہم نے اور ہمارے حکمرانوں نے شاید طے کر رکھا ہے کہ آپس میں بھی سچ نہیں بولنا۔
الفاظ کے اوزرار ہیں اور زندہ روبوٹس!
”چھلکے سجے ہوئے ہیں پھلوں کی دکان پر“

تازہ ترین