• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صورتحال ہر امکانی طریقے سے سلجھائیں مگر بدترین کیلئے تیار رہیں

امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کو سات سال گزرنے کے باوجود عراق اور افغانستان میں جس ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کو دنیا کی واحد سپر پاور کی جانب سے آسانی کے ساتھ ہضم کرنا ممکن نہیں ہو رہا ہے اس لئے اب امریکی حکومت اور اس کے زیر اثر کام کرنے والے مغربی ذرائع ابلاغ نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے کہ عراق میں تو صورتحال قابو میں آ رہی ہے مگر افغانستان میں حالات دن بدن ایسی ابتری کی طرف جا رہے ہیں کہ ساری توجہ اس کی طرف مرکوز کرنا ناگزیر ہو گیا ہے اس نئی حکمت عملی کے تحت ایک طرف تو عراق سے امریکی افواج کو نکال کرافغانستان میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور دوسری طرف اس علاقے میں جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کو بھی باقاعدہ میدان جنگ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے مختلف حصوں میں امریکی جاسوس طیاروں کی مسلسل پروازیں اور ان سے میزائل پھینک کر معصوم اور بے گناہ عورتوں اور بچوں کو خاک و خون میں غلطاں کرنے کے جو واقعات حالیہ دنوں میں خاصے تسلسل کے ساتھ پیش آ رہے ہیں انہیں امریکہ کی اسی نئی جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ سمجھا جانا چاہئے۔
پاکستان اب تک بڑے صبروتحمل کے ساتھ ان ساری سرحدی خلاف ورزیوں کو برداشت کرتے ہوئے امریکی حکام اور اتحادی افواج کے دوسرے ذمہ داران کو یاد دلاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے وضع کردہ رولز آف دی گیم میں یہ طے کیا گیا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی جنگی کارروائیوں کا دائرہ افغانستان تک محدود رکھیں گے اور اگر پاکستانی سرحد کے اندر القاعدہ کے غیر ملکی دہشت گردوں کی کوئی مشکوک سرگرمی انٹیلی جنس اداروں کے نوٹس میں آئے گی تو اس کی پاکستان کو باضابطہ اطلاع دی جائے گی اور پھر ان کے خلاف پاکستانی افواج ہی کارروائی کرنے کی مجاز ہوں گی۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کبھی اس مفاہمت کی پابندی کو لائق توجہ نہیں سمجھا اور جب بھی وطن عزیز کی داخلی خود مختاری کے تقاضوں کے منافی کسی اقدام پر احتجاج کیا گیا تو ان کی طرف سے اسے غلط فہمی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کر کے پاکستان کی اشک شوئی کر دی گئی لیکن عملی طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنا پرنالہ وہیں رکھا اور سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ جاری رہا لیکن اب یہ تکلف بھی ختم کر کے علی اعلان یہ دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ جنگ کا دائرہ پاکستانی علاقوں تک وسیع کر دیا جائے گا۔ اہل پاکستان ایک عرصہ سے اس تشویش ناک صورتحال پر مضطرب ہیں لیکن اب تو امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن بھی ارکان کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے جنگ کا دائرہ پاکستانی علاقوں تک بڑھانے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اخباری اطلاعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خود صدر بش نے بھی اس کی خفیہ طور پر منظوری دے دی ہے اس سے صورتحال ایک سنگین تر شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے کہ جوں جوں امریکی صدارتی انتخابات کا مرحلہ قریب تر آتا جا رہا ہے بش انتظامیہ ری پبلکن پارٹی کا گرتا ہوا مورال بلند کرنے اور عوام میں اس کی ساکھ بہتر بنانے کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے راستے ڈھونڈ رہی ہے اس صورتحال میں اگر امریکہ اور اس کے اتحادی آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کوئی بڑی فوجی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تو اسے خالی از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ برطانیہ نے جس طریقے سے امریکہ کی نئی جنگی حکمت عملی کی کھل کر حمایت کی ہے اور افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے سربراہ حامد کرزئی نے جس انداز میں واشنگٹن کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ کہا ہے کہ وہ پچھلے ساڑھے تین سال سے اسی بات کی دہائی دے رہے ہیں کہ جنگ کا دائرہ پاکستان کے قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملہ اب محض زبانی کلامی بیانات تک ہی محدود نہیں بلکہ بہت آگے بڑھ چکا ہے اور جنگ ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ نیٹو کمانڈروں کا افغانستان کے اندر تک محدود رہنے کا اعلان خوش آئند ہے لیکن اگر امریکی دباؤ بڑھا تو ان کے حالات کے دھارے میں بہہ جانے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کسی سے جنگ یا تصادم کا خواہاں نہیں لیکن اگر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سرحدوں کی خلاف ورزی اور قومی خود مختاری پر حملے کی صورت میں ناخوشگوار صورتحال مسلط کر دی گئی تو اس کا جواب دینا ناگزیر ہو جائے گا۔ افواج پاکستان کے ترجمان کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دیا جانے والا یہ انتباہ بروقت اور عوام کے حوصلوں کو بلند کرنے والا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کوئی کارروائی اب برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ بات امریکی اور اتحادی فوجوں پر واضح کر دی گئی ہے غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے مذکورہ انٹرویو سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اب پاکستانی علاقوں میں مداخلت ہوئی تو بارڈر فورسز جوابی کارروائی کریں گی۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اس کو حکومتی پالیسی کا آئینہ دار قرار دینا بھی بہت ہمت بڑھانے والا ہے لیکن چونکہ یہ کوئی ہنگامی نوعیت کا معاملہ نہیں اور اس سے پوری قوم کا مستقبل وابستہ ہے اس لئے اس بارے میں محض انفرادی بیانات پر اکتفا نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لا کر تفصیلی آزادانہ اور کھلی بحث کر کے اس بارے میں ایک متفقہ قومی لائحہ عمل طے کیا جانا چاہئے۔
دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ دفاع کے لئے پوری طرح چوکس اور تیار رہنے کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر یہ واضح کر دیا جائے کہ اگر وہ اپنی جارحانہ کارروائیوں سے باز نہ آئے تو پاکستان کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دینا ممکن نہ ہو گا۔ افغانستان میں اتحادی افواج کی نقل و حمل کے لئے پٹرول اور خوردونوش کی تمام اشیاء پاکستان کے راستے ہی جاتی ہیں اگر باامر مجبوری ان کی ترسیل پر پابندی عائد کی جائے تو چند ہی دنوں میں امریکی و اتحادی افواج کو تارے نظر آ سکتے ہیں، فرانس کے صدر سرکوزی نے حال ہی میں کہا ہے کہ اس نازک موڑ پر پاکستان کو تنہا چھوڑ دینا عالمی برادری کے لئے بہت سی مشکلات پیدا کر سکتا ہے اس لئے اسے بہرطور ساتھ لے کر چلنا چاہئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر پاکستان سفارتی محاذ پر اپنا مقدمہ پوری قوت کے ساتھ لڑے تو وہ صرف یورپی ممالک ہی نہیں بلکہ خود امریکہ کے متعدد ایسے حلقوں کو اپنا ہمنوا بنا سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید پھیلانے سے روکنے میں اس کے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں ان تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کا مقصد یہ ہے کہ معاملات کو بہترین طریقے سے سلجھانے کے تمام ممکنہ ذرائع بھی استعمال کئے جائیں اور بدترین صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی پوری طرح تیار رہا جائے۔
تازہ ترین