بھارتی اداکاراؤں شلپا شندے اور حنا خان نے ایک دوسرے کے خلاف لفظی جنگ شروع کردی، جہاں جنسی ہراسانی کے الزامات جھوٹے ہونے کے اعتراف پر حنا خان نے شلپا کو آڑے ہاتھوں لیا تو انہوں نے حنا کی کینسر جیسی موذی بیماری کو پبلسٹی کےلیے استعمال کا ذریعہ کہہ دیا۔
مقبول ٹیلی ویژن شو ’بھابھی جی گھر پر ہیں‘ کی سابقہ اداکارہ شلپا شندے کی جانب سے 10 سال پرانے جنسی ہراساں کرنے کے جھوٹے الزامات کے اعتراف نے طوفان کھڑا کر دیا۔
شلپا نے حال ہی میں بھارتی کامیڈین بھارتی سنگھ اور ہرش لمباچیا کے پوڈکاسٹ کے دوران اعتراف کیا کہ 2016 میں شو کے پروڈیوسر سنجے کوہلی کے خلاف انہوں نے جنسی ہراساں کرنے کے جو الزامات لگائے تھے وہ سراسر جھوٹے تھے اور انہوں نے مجبوری میں یہ قدم اٹھایا تھا۔
اس سنسنی خیز اعتراف کے بعد سوشل میڈیا اور شوبز حلقوں میں ان کے خلاف شدید غصے کی لہر دوڑ گئی اور ان پر حقیقی متاثرین کے مقدمات کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
اس شدید تنقید کے بعد شلپا شندے نے ایک دھماکے دار ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے ان پر تنقید کرنے والے شوبز ستاروں، بالخصوص اداکارہ حنا خان کو آڑے ہاتھوں لیا۔
شلپا نے براہِ راست نام لیے بغیر کہا، ’"مجھے نہیں معلوم کہ لوگ میرا نام استعمال کر کے پبلسٹی حاصل کرنا کب بند کریں گے؟ پبلسٹی کے لیے آپ لوگوں کے پاس پہلے ہی اپنی بیماریاں اور اپنے خاندان والوں کی اموات کی باتیں کرنے کے لیے موجود ہیں، تو پھر آپ کو شلپا شندے کی کیا ضرورت ہے؟‘
سوشل میڈیا صارفین شلپا کے اس بیان کو حنا خان پر ایک گہرا وار قرار دے رہے ہیں، جو ان دنوں کینسر جیسی موذی بیماری کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔
شلپا نے اپنے جھوٹے الزام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انڈسٹری میں وہ بالکل اکیلی پڑ گئی تھیں، اس لیے انہوں نے قانونی جنگ جیتنے کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ کے تحت یہ راستہ چنا۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ اس جھوٹ کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتی تھیں، اس لیے انہوں نے سچ بولا۔
دوسری طرف اداکارہ حنا خان نے شلپا شندے کا نام لیے بغیر ان کے اس اعتراف پر سخت ترین ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
حنا نے کہا کہ پیسے نکلوانے یا اپنا مقصد پورا کرنے کے لیے اپنے عورت ہونے کا غلط استعمال کرنا ایک سنگین جرم ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کچھ لوگ اس مجرمانہ فعل پر بھی شلپا کی حمایت کر رہے ہیں۔ حنا نے وارننگ دی کہ ایسے جھوٹے الزامات سے کسی کی ازدواجی زندگی برباد ہو سکتی ہے اور انسان بدنامی کے ڈر سے خودکشی بھی کر سکتا ہے۔
حنا نے مزید کہا کہ شلپا کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے ’می ٹو‘ جیسی اہم مہمات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب ان خواتین پر کوئی یقین نہیں کرے گا جو واقعی کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کا شکار ہوتی ہیں۔