اپنے چھوٹے بھائی شہید شاہ نواز بھٹو کی تدفین کے بعد ایک دن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نوڈیرو میں اپنے گھر کے لان میں مغموم اور اداس بیٹھی ہوئی تھیں۔ لوگ تعزیت کے لیے آرہے تھے۔ کہتے ہیں کہ وہاں ایک غریب برقعہ پوش خاتون آئی اور اس نے سینہ کوبی شروع کردی۔ اس خاتون نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ”بی بی ہم آپ کو کیسے پرسہ دیں۔ حضرت بی بی زینب کے ساتھ جو کچھ ہوا‘ وہی آپ کے ساتھ ہوا۔ حضرت بی بی زینب کے بابا کو شہید کیا گیا اور آپ کے بھی بابا کو شہید کیا گیا۔ حضرت بی بی زینب کے بھائیوں کو شہید کیا گیا اور آپ کے بھی بھائیوں کو شہید کیا گیا۔ جس طرح حضرت بی بی زینب کو قید میں رکھا گیا‘ اسی طرح آپ کو بھی قید میں رکھا گیا۔“ کہتے ہیں کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس خاتون کو گلے لگایا اور دلاسہ دیا۔ اس بات کو محض اتفاق ہی سمجھیں یا کچھ اور‘ لیکن 27 دسمبر 2007ء کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا‘ اس دن اسلامی کیلنڈر کے مطابق 16 ذی الحج کی تاریخ تھی اور 16 ذی الحج ہی حضرت بی بی زینب کے وصال کا دن ہے۔
آج جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے‘ غم واندوہ کی وہی کیفیت ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اس قدر دکھ جھیلے‘ جن کا کوئی تصور ہی نہیں کرسکتا اور ان کی موت انتہائی مظلومیت میں ہوئی۔ یہ باتیں پاکستان کے وہ غریب لوگ کبھی نہیں بھول سکتے‘ جن کے سیاسی‘ جمہوری اور بنیادی حقوق کے لیے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بچوں نے لازوال قربانیاں پیش کیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے جس طرح جرات و بہادری کے ساتھ اپنی موت کو گلے لگایا‘ اس نے تو بھٹو خاندان کو ہمیشہ کے لیے امر کردیا ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ پاکستان واپس جائیں گی تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ انہیں سب روکتے رہے کہ وہ نہ جائیں لیکن انہوں نے کسی کی بات نہیں مانی۔ ان پر ایک جنون سوار تھا کہ وہ اپنے عوام میں واپس جائیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مرنا جینا عوام کے ساتھ ہے۔ ان کی بہن صنم بھٹو کہتی ہیں کہ میں نے ان سے کہاکہ آپ کے بچے چھوٹے ہیں‘ آپ نہیں جاؤ۔ شہید بے نظیر بھٹو نے جواب دیا ”میں تو تین بچے چھوڑ کر جارہی ہوں‘ پاکستان میں لاکھوں کروڑوں بچوں کو میری ضرورت ہے۔“ وطن واپس آکر انہوں نے ایک جلسے میں کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ عوام سے میری جدائی ختم نہیں ہوئی۔ وطن اور وطن کے لوگوں کے ساتھ ان کے سچے رشتے کا ثبوت اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی دھرتی پر اپنے لوگوں کے درمیان ہی جام شہادت نوش کیا۔ اگر پاکستان کے عوام انہیں حق و سچ کا علمبردار اور مظلوم سمجھتے ہوئے انہیں حضرت زینب کا پیروکار گردانتے ہیں تو وہ اپنی دانست میں ٹھیک ہی کرتے ہیں۔ بقول شاعر غلطی پر ہیں‘ وہ لوگ جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو ایک ایسا واقعہ قرار دیتے ہیں‘ جسے ان کے خیال میں عوام وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بھول جائیں گے۔ یہ بھول ہے ان لوگوں کی جو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی حیرت انگیز اور کرشماتی شخصیت کے پاکستان کے تہذیبی ارتقاء پر مرتب ہونے والے اثرات کو سیاست اور حکومت کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان اثرات کو وہ زائل کردیں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پتہ نہیں کس وجہ سے اپنی پیاری بیٹی کا نام بے نظیر رکھا تھا لیکن وہ تاریخ میں واقعی بے نظیر بن گئیں۔ ایک مرتبہ شہید بی بی نے کہا تھا کہ ”تم ایک فرد کو قید کرسکتے ہو‘ ایک نظریے کو قید نہیں کرسکتے۔ تم ایک فرد کو جلاوطن کرسکتے ہو‘ ایک نظریے کو جلاوطن نہیں کرسکتے اور تم ایک فرد کو قتل کرسکتے ہو‘ ایک نظریے کو قتل نہیں کرسکتے۔“ والٹیئر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ تاریخ میں بعض ایسی عظیم شخصیات پیدا ہوتی ہیں‘ جن کی قیادت عوام صدیوں تک قبول کرتے ہیں اور استعماریت کے خلاف اپنی صف بندی برقرار رکھتے ہیں۔ شہید بے نظیر بھٹو ویسی ہی ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک ایک پہلو بے نظیر تھا۔ وہ منظر پوری دنیا نے دیکھا‘ جب 18اکتوبر 2007ء کے بم دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے لیے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جناح اسپتال پہنچیں۔ جو زخمی‘ موت اور زندگی کی کشمکش میں تھے‘ وہ بھی شہید بی بی کو دیکھ کر جئے بھٹو کے نعرے لگانے لگے۔ 18 اکتوبر کے شہداء کی تعزیت کے لیے جب بی بی لیاری پہنچیں تو ساجد نامی ایک شہید کا رکن کی مائیں اور بہنیں ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کے نعرے لگا رہی تھیں۔ عوام اور ہر دلعزیز قیادت کے درمیان اس رشتے کو وہ لوگ ہرگز نہیں سمجھ سکتے‘ جنہوں نے سیاست کو طاقت اور دہشت گردی کا کھیل سمجھ رکھا ہے۔ یہ رشتہ سچ کا رشتہ ہے‘ جس کی آبیاری بھٹو خاندان نے اپنے خون سے کی ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو واقعتاً اپنے عہد کی سیاسی قلندر تھیں۔ قلندر اپنی جان کا حساب کتاب نہیں رکھتے اور موت کو دیکھ کر پیچھے نہیں ہٹتے۔
اگلے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں صنم بھٹو سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو کس نے قتل کیا ہے؟ اس پر صنم بھٹو کا کہنا تھا کہ ”یہ کوئی سوال ہے۔ جس نے میرے باپ اور میرے بھائیوں کو قتل کیا‘ وہی میری بہن کے قاتل ہیں۔“ یہ ایک حقیقت ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان لوگوں نے ہی اپنی سفاکیت کا نشانہ بنایا ہے‘ جو ملک میں جمہوریت نہیں چاہتے۔ جو انصاف پر مبنی ایک نئے معاشرے کی تخلیق کے دشمن ہیں اور جو مظلوم لوگوں کی پرامن جدوجہد کو تسلیم نہیں کرتے۔ اب ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو اقتدار دینے پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرکے اسے ناکام بنانے کے بعد اس عظیم سانحہ کے اثرات کو زائل کردیا جائے گا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے منصوبے پر عمل شروع کردیا ہے۔ وہ تاریخ سے نابلد ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا صدمہ کس قدر گہرا ہے۔ اس شہادت نے مغموم اور دکھی لوگوں کی ایک نئی نسل کو پروان چڑھایا ہے‘ پاکستان کے تمام علاقوں پر مشتمل وادی سندھ کے لوگ بہت پرامن ہیں۔ وہ تاریخ کا پرامن ارتقاء چاہتے ہیں۔ انہیں پاکستان کی آمریت نواز قوتوں نے بہت دکھ دیئے ہیں۔ اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو مظلومانہ شہادت کا دکھ تو اس دھرتی کو طویل عرصے تک سوگوار رکھے گا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے خون سے وادی سندھ کی عظیم اقدار کو جلا بخشی ہے اور لوگوں کو روحانی طاقت میں اضافہ کردیا ہے۔ لوگوں کو آزادی سے اس عظیم صدمے پر ماتم کرنے دیا جائے اور اس جمہوری عمل کو پروان چڑھنے دیا جائے‘ جس کے لیے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جان کی قربانی دی۔