آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ افسانوی ادب کی طلسماتی حقیقت نگاری سے واقف ہیں اور آپ نے داستانوں کی جادونگری میں سفر کیا ہے تو پھر آپ شاید اس منظر کو قبول کرلیں جو میں پیش کرناچاہتا ہوں۔ سوچئے کہ جیسے کسی ماہر نفسیات کا مطب ہے جس میں ایک مریض صوفے جیسے بستر پر نیم دراز ہے۔ وہ آنکھیں موندے اپنی کہانی بیان کررہا ہے اور قریب کی کرسی پر بیٹھا ڈاکٹر اس کی باتیں سن رہا ہے اور نوٹ بک اس کے ہاتھوں میں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ تحلیل نفسی کا عمل ہے۔ ماحول پرسکون ہے اور کمرے کی روشنی مدھم ہے ۔ اب فرض کیجئے کہ یہ مریض پاکستان ہے اور وہ اپنی نفسیاتی الجھنوں اور شدید ذہنی دبائو سے نجات چاہتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ مریض اپنی کیفیت بیان کررہا ہے۔ چند علامتیں جانی پہچانی ہیں۔ بچپن کی کئی یادیں تنگ کرتی ہیں۔ کئی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں کہ ہوکیا رہا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی ہم سوچ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر کہ جو نفسیاتی امراض کا ماہر ہے، کئی سوال پوچھتا ہے۔ پھر ایسے بھی کئی سوال ہیں جو مریض اپنے ساتھ لایا ہے۔ جیسے یہ کہ میں کون ہوں؟ میری پہچان کیا ہے؟ میری زبان کیا ہے؟ میری وراثت کیا ہے۔ ؟ اب یہ ممکن ہے کہ ہر سوال کے ساتھ مریض کے ذہن میں کئی تصویریں ابھرتی ہوں جن کا اظہار وہ نیم خواندگی کے عالم میں کرتا جارہا ہو۔ یہ وہ اسکرپٹ ہے جسے لکھنے کی میں جسارت

نہیں کرسکتا ۔ پاکستان کے مسائل اور اس کی ذہنی اور جذباتی صورت حال کی تشریح مختلف لوگ مختلف انداز میں کریں گے ۔ کیونکہ یہ تشریحات ایک دوسرے سے متصادم ہوتی ہیں اسی لئے یہ بھی جیسے پاکستان کا ایک ذہنی عارضہ ہے۔ اگر پاکستان کا کوئی اجتماعی ذہن ہے تو وہ یقیناً بہت الجھا ہوا ہے۔ کش مکش میں ہے۔ اب پتہ نہیں ان دکھوں کا علاج کون کرے گا ۔ یہ ذہنی تنائو، یہ ڈپریشن کیسے ختم ہوگا۔
آپ یہ سوال ضرور کریں گے کہ میں نے یہ منظر کیوں کھینچا ہے کہ پاکستان کسی ماہرنفسیات سے اپنا علاج کرارہا ہے۔ دراصل میرا حوالہ ذہنی صحت کا وہ عالمی دن ہے جو اس ہفتے منگل کے دن منایا گیا ۔ اسی سلسلے میں کئی تقریبات منعقد ہوئی ہیں جن میں چھوٹے بڑے ذہنی امراض کے علاج کے لئے پاکستان میں ناکافی سہولتوں کا ذکر بھی ہوا ہے۔ یونہی میرے دل میں آئی کہ اگر ہم اپنے ملک یا اپنے معاشرے کی ذہنی صحت کا تجزیہ کریں تو کتنی اور کیسی علامتیں ظاہر ہونگی ۔ میں نے سوچا کہ یہ ایک دلچسپ لیکن انتہائی مشکل مشق ہوسکتی ہے کہ ہم اپنے تخیل کے سہارے پاکستان کے نفسیاتی مسائل کا ایک خاکہ تیار کریں۔ یہ بات بھی ذہن میں تھی کہ اس وقت جو عمومی کیفیت پائی جاتی ہے اس میں ہیجان اور افسردگی اور بے یقینی کو غلبہ حاصل ہے۔ تحلیل نفسی کا خیال اس لئےآیا کہ اس طرح کسی مریض کو اپنی پوری زندگی کا جائزہ لینے کا موقعہ ملتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اجتماعی طور پر ہم اپنی زندگی۔ میرا مطلب ہے تاریخ۔ پر بھرپور نظر ڈالنے سے کتراتے ہیں۔ میں نفسیات کا ماہر نہیں ہوں۔ بس ادھر ادھر سے چند باتیں اور خیالات اٹھا لیتا ہوں جسے اپ کسی صحافی کی پیشہ ورانہ ضرورت کہہ سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تحلیل نفسی میں مریض کے تحت الشعور اور لاشعور میں چھپے ایسے واقعات اور احساسات کا کھوج لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جن کا علم مریض کے لئےسود مند ہو اور جن کی مدد سے وہ اپنی الجھنوں کو سلجھا سکے ۔ اس میں خود اعتمادی پیدا ہو ۔ اس سلسلے میں بچپن کے دن بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ہاں یاد آیا کہ ماہرین نفسیات بھی اور شاعر بھی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک بچہ ساری عمر زندہ رہتا ہے۔ ہم اپنے اندر کے اس بچے سے کس قسم کے تعلقات قائم رکھتے ہیں اس کا اثر ہماری شخصیت پر ضرور پڑتا ہوگا۔ دنیا کے عظیم رہنمائوں کے بارے میں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ ان میں سے بیشتر نے اپنے بچپن میں کوئی بڑا دکھ سہا ہوتا ہے اس کی ایک مثال باپ یا ماں کا انتقال ہے۔
افسوس کہ ایک کالم کی تنگ دامنی ہر منزل سے سرسری گزر جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پاکستان کی ذہنی صحت کی بات کریں اور اسے تحلیل نفسی کی ڈرامائی شکل میں دیکھیں توایک پورا اسکرین پلے تحریر کیا جاسکتا ہے کہ جس میں مریض کی خود کلامی اور ڈاکٹر کے سرگوشی میں کئے گئے سوالات کے ذریعے کہانی کا خاکہ بن جائے۔ تحلیل نفسی کا آغاز وائڈ نے کیا تھا اور اس نے خوابوں کو فرد کی شخصیت کی بنیاد سمجھا تھا کیونکہ خواب ہمارے لاشعور اور تحت الشعور کا اظہار ہوتے ہیں۔ اتفاق سے اکتوبر کا یہ مہینہ پاکستان کے بچپن اور جوانی کے کئی واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ شاید کہانی1951میں 16اکتوبر کے دن پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے قتل سے شروع ہوتی ہے۔ راستے میں12اکتوبر1999کا دن بھی آتا ہے۔ لیکن اکتوبر ایک سال یعنی1958میں بھی تواہم تھا ۔ سویہ تواکتوبر کی بات ہوئی لیکن پاکستان کی یاد میں سب سے بڑاسانحہ تو دسمبر 1971کا ہے اور اسے آپ پاکستان کا بچپن کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ پاکستان نے اسے بھلانے کی بہت کوشش کی ہے۔ اور اس عمل میں اس کی ذہنی صحت بہت متاثر ہوتی ہے۔ میں فلسفے کی تاریخ پر مبنی ایک یورپی ناول کا نوجوانوں سے بہت ذکر کرتا ہوں جس کی ابتدا15سالہ لڑکی کو ملنے والے ایک گمنام خط سے ہوتی ہے جس میں صرف تین لفظ ہوتے ہیں۔ ’’تم کون ہو‘‘۔ یہ سوال ہم میں سے ہرایک کےلئے غور وفکر کا ایک دروازہ کھول سکتا ہے۔ پاکستان کی حد تک تو یہ شناخت کی وہ پہیلی ہے جس کا جواب ہم ٹھیک سے دے نہیں پارہے ۔ بہرحال ہم پاکستان کے ساتھ ساتھ ، پاکستان کے عوام کی ذہنی صحت کے بارے میں بھی بات کرسکتے ہیں۔ ایک سچی بات یہ ہے کہ ہر معاشرے میں لگ بھگ دس فی صد افراد کسی نہ کسی نوعیت کی ذہنی کشمکش یا بیماری میں مبتلا رہتے ہیں۔ غریب ملکوں میں جہاں علاج کی سہولتیں ناکافی ہوں، یہ تعداد بہت ہوسکتی ہے۔ پوری دنیا میں ڈیپریشن کے مرض پر اب خاصی توجہ دی جاتی ہے۔ سیدھی سی بات ہے۔ زندگی گزارنا اور اپنی خواہشات اور اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہنا کوئی آسان کام تونہیں ہے۔خاص طور پر ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں قول اور عمل کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ ہو۔پھر بھی اجتماعی ذہنی صحت کے لئے جس قسم کے ماحول کی ہمیں ضرورت ہے اس کا براہ راست تعلق پاکستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کی سمجھ سے ہےاس ہفتے قومی اسمبلی میں ایک بلند آواز نے تو یہ کہا کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں