• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیرت و حمیت کے گرد طاقت کی فصیل... چوراہا …حسن نثار

ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل پر اسی ”چوراہا“ میں میرا نپا تلا سوچا سمجھا ردعمل آپ کو یاد ہو گا۔ میں نے لکھا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس نہیں لاہور میں صرف ڈیوس روڈ ہی رہ جائے گی اور اب میرا مشورہ یہ ہے کہ لاہور کی اس مشہور ڈیوس روڈ کا نام ”ریمنڈ ڈیوس“ رکھ دیا جائے جو ہمیں ہماری ”آزادی“ اور ”خودمختاری“ کی حقیقت یاد دلاتی رہے ۔
ممولے کو شہباز سے صرف شاعری میں ہی لڑایا جا سکتا ہے عملی زندگی میں ایسی باتوں کی کوئی وقعت ، حقیقت اور حیثیت نہیں ہوتی۔ کمزوروں کا غصہ ہو یا غیرت، سب کچھ ندامت پر ہی ختم ہوتا ہے۔ مجھے تو ان کی حیرت پر حیرت ہے کہ یہ کیسے دانشور اور سیاست ور تھے جنہیں اتنے جلی الفاظ میں لکھا نوشتہٴ دیوار بھی دکھائی نہیں دیا اور اب چانگڑیں مار رہے ہیں۔ ”تجزیئے“ فرما رہے ہیں، ”موشگافیاں“ بھگار رہے ہیں … ہائے سانپ نکل جانے کے بعد یہ لکیریں پیٹنے والے سیانے۔ اس کا مطلب ہے یہ سچ مچ اور پوری سنجیدگی کے ساتھ سوچ رہے تھے کہ ریمنڈ ڈیوس واقعی کیفر کردار تک پہنچے گا۔ عوام تو بے خبر اور جذباتی ہیں ہی لیکن ہمارے سیاسی، فکری اور دیگر راہنماؤں کے ہاں بھی حقیقت پسندی کا قحط ہے۔ مجھے کسی ”غیرت گروپ“ کی غیرت اور ”حمیت کارپوریشن“ کی حمیت پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں کہ ایسی ہر ذلت پر میرا بلڈ پریشر بھی زلزلے کی زد میں آ جاتا ہے، میری کنپٹیاں بھی سلگنے اور چٹخنے لگتی ہیں لیکن میں ”پھوکی“ ”کھوکھلی“ ”تھوتھی “ اور دیمک زدہ غیرتوں اور حمیتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ کیا ان چند لوگوں کے علاوہ باقی سب بے غیرت اور بے حمیت ہیں؟ اس سے بڑی بکواس، اس سے بڑا جھوٹ، اس سے بڑی منافقت، اس سے بڑی جہالت ممکن نہیں۔ یہ ڈرامے اور نوٹنکیاں ہیں، یہ رنگ باز جھوٹے ہیں یا جاہل کہ اس فیصلہ،معاملہ میں کون کون سا ادارہ شامل یا ملوث نہیں تو پھر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ”غیرت“ اور ”حمیت“ ان چند گنے چنے لوگوں پر ختم ہو چکی ؟؟؟ ہرگز نہیں کہ تھوڑا سا ہوش اور حقیقت پسندی بھی ہو تو ان سب کی مجبوریاں سمجھو ان کے بندھے ہاتھ دیکھو، ان کے پیروں کی بیڑیاں دیکھو اگر کوئی قصور وار ہے، اگر کوئی مجرم ہے تو ہم سب ۔ کوئی کم کوئی زیادہ لیکن ہم سب ضعف کے اس کاروبار میں چھوٹے بڑے پارٹنرز ہیں جبکہ اقبال نے دو ٹوک انداز میں عشروں پہلے کھلے لفظوں میں بتا دیا تھا کہ
”ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“
ہم ضعیف ہیں سو ہم ہی مجرم بھی ہیں اور ملزم بھی۔
غیرت اور حمیت کا بنیادی تقاضا ہے تلخ حقیقت کو سمجھنا اور تسلیم کرنا۔ جو بہت غیرت مند اور حمیت پسند ہے وہ تالیاں سننے کی بجائے گالیاں سننے کا حوصلہ پیدا کر کے ”پاپولر بکواس“ کی بجائے غیر پاپولر بھونکار کی طرف آئے لوگوں کو بتائے، سمجھائے اور جھنجھوڑے کہ اپنی عزت، غیرت اور حمیت عزیز ہے تو اس کے گرد محنت سے طاقت کی فولادی فصیل کھڑی کرو خدارا لوگوں کو اندھیرے میں نہ رکھو روٹی کپڑا مکان نہیں دے سکے تو کم از کم عوام کو دھوکہ تو نہ دو۔ انہیں سچ بتاؤ اور سچ کو فیس کرنے کی تربیت دے کر بتاؤ کہ تم کمزور ہو، کمزور ہو، کمزور ہو اور پھر انہیں یہ بھی بتاؤ کہ من حیث القوم ہماری کمزوریاں کیا ہیں؟ کجیاں کیا ہیں؟ اور یہ کیسے رفع دفع ہو سکتی ہیں۔
مختلف شہروں میں ”احتجاج “ ہو رہا ہے لیکن کس بات پر؟ مرحومین کے خاندان نے خون بیچ دیا تو یہ باقی ”بروکر“ کیا بیچ رہے ہیں اور کیوں؟
ان ”مفکرین“ اور ”معززین“ سے تو فہیم مرحوم کی خودکشی کرنے والی بیوی شمائلہ زیادہ ”سمجھ دار“ تھی جسے اس سارے کیس کا انجام معلوم تھا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ کیسی بدقسمتی ہے کہ اصل مرض کی نشاندہی پر لعنت بھیجتے ہوئے بہت سے لوگ سیاسی دیہاڑیاں لگانے اور نمبر بنانے میں مصروف ہیں۔ یہ سب ”جمے جنج نال“ ”تو کون میں خوامخواہ“ ”مامے دی کچہری“ ”خدائی فوجدار“ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کہ اگر مقتولین کے اتنے بڑے خاندان کا ہر فرد کروڑ پتی ہو چکا تو بھائی ! ہم تم کس شمار قطار میں ؟؟؟ ڈالر ڈراکیولا ہے!
جذبات میں شرابور لیکن عقل و دانش سے بہت ہی دور ہمارے یہ دوست عجیب لوگ ہیں جو ”فیکٹ شیٹ“ دیکھنے پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ اپنی اصل قومی صورتحال کے بارے ”ایکسرے رپورٹس“ سے لے کر ”ایم آر آئی رپورٹس“ تک کے ڈھیر لگے ہیں لیکن کچھ لوگ ایک معذور اور مفلوج بدن کو کسی ٹارزن سے لڑانا اور مزید برباد کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی لیکن مجھے تو اس موقع پر امین خیال کی یہ شاعری یاد آ رہی ہے
”نیک تے بد دی …جھوٹ تے سچ دی
چھڈ گئے لوگ پچھان
چانن پردے اولھے ہو گئے
نھیرے ہوئے پردھان
سیاسی رہنما جس لیول کے ہیں فکری رہنما بھی ویسی ہی سطح پر باندر ٹپکیاں مار رہے ہیں اور مذہبی راہنماؤں کی آنکھوں پر بھی جماندرو کھوپے چڑھے ہیں۔ اسی لئے ہم مسلسل پسپائی اور رسوائی کے راستوں پر گامزن ہیں۔
کیا کوئی سمجھ دار آدمی ایک ایسی سچوئشن کا تصور بھی کر سکتا ہے کہ پرندہ اڑ جانے کے بعد کوئی قبیلہ پنجرے کے ارگرد بیٹھ کر ماتم شروع کر دے؟
ایسے جاہل اور جھوٹے تو بیعانہ اور SPECIFICATIONS دے کر بھی بنوائے نہیں جا سکتے۔ جاہل وہ جو جانتا ہی کچھ نہیں اور جھوٹا وہ جو جانتا تو ہے لیکن بولتا اس لئے نہیں کہ اس کی نام نہاد ”پاپولیریٹی “ متاثر ہو گی حالانکہ یہ ”پاپولر“ بھی نہیں ہوتے۔
”طاقت“ ہی تمام تر انسانی (ریکارڈڈ غیر ریکارڈڈ) ہسٹری کا نچوڑ ہے تو ہوش کے ناخن لو اور اپنے ”غیور و باشعور“ عوام کو طاقت کی طرف بلاؤ، حصول طاقت کی شرائط بتاؤ کہ عزت و حمیت کے گرد علم و عقل و عمل کی طاقت پر ایستادہ فصیل نہ ہو گی تو تمہاری عزت، غیرت و حمیت سے زیادہ بے معنی کچھ نہ ہو گا۔
غیرت اور حمیت کوئی خوابی خیالی اور ہوائی کام نہیں۔ اسے محنت شاقہ اور اعلیٰ منصوبہ بندی سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ ملک کو ملک اور قوم کو قوم بناؤ، ان کی اعلیٰ ترین تعلیم و تربیت کا بندوبست کرو … تب تک اسی ”تنخواہ“ پر گزر بسر کرو کہ نہ صوبائی حکومت قصور وار نہ مرکزی حکومت نہ اسٹیبلشمنٹ اور نہ مقتولین کے ورثا۔ کیا اس ملک جیسا ہر اعتبار سے کھچکاہوا ملک بھارت جیسے پڑوسی کی موجودگی میں بیک وقت امریکہ اور سعودیہ کو انکار کرنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟
ریمنڈ سوٹ پہن کر بغیر پاسپورٹ اور امیگریشن کے پرواز کر چکا۔
مقتولین کے ورثا لمبی وصولیوں کے بعد عمرہ یا حج پرواز کے لئے پر تول رہے ہیں۔
لیکن یہ پیشہ ور ”ریلیئے “ اور ”بحثیے“ کیا کر رہے ہیں؟ یہ ”ملک گیر“ احتجاج اب کیا کرے گا؟
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
یہ سب دو چار دن میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے ۔ پھر کسی اور قسم کے ریمنڈ ڈیوس کا کھلونا مل جائے گا لیکن قوم کو یہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ جنہیں سچ مچ اپنی عزت، غیرت اور حمیت عزیز ہو وہ ان کے گرد جان توڑ محنت کر کے طاقت کی فصیل کھڑی کر دیا کرتے ہیں۔
فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
تازہ ترین