• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے...طلوع …ارشاد احمد عارف

اس حکمران اشرافیہ کی عقل پر آدمی کب تک ماتم کرے جو گیس اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے بجائے لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا پلان پیش کرکے قوم سے داد کی طلبگار ہے اور ایک نہیں کئی عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے انکار، انکار نہیں توہین و تذلیل اور سندھ میں ہڑتال کے بعد ایک اور عدالتی فیصلے کی استدعا کر رہی ہے تاکہ ان کی مرضی، منشا اور خواہش کے مطابق فیصلہ نہ آنے کی صورت میں موجودہ آزاد عدلیہ کو بھی متعصب، جانبدار اور سندھ دشمن ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا سکے۔ نوحہ گری اور مرثیہ خوانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو اور غربت و افلاس، مہنگائی، بیروزگاری اور لاقانونیت کے ستائے عوام کو مزید چند سال بے وقوف بنانے میں آسانی رہے۔
مسائل ہیں کہ اب ان کی جمع تفریق ممکن نہیں، کلکولیٹر جواب دینے لگے ہیں، مشکلات ہیں کہ بڑھتے بڑھتے قومی سلامتی کو ہیبت ناک اژدھے کی طرح اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہیں اور عوامی مصائب کی شدت وحدت سے وطن عزیز کا وجود پگھلنے لگا ہے، مگر حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں، ان کی بلا سے بوم بسے یا ہُما رہے۔ سی این جی سٹیشن ہفتے میں دو دن بند کرنے کا آغاز حکومت نے کیا غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کا فیصلہ مالکان نے کر لیا۔ ایک دن پٹرول پمپ بند ہوئے تو خدا جانے کتنے مریض ہسپتال نہ پہنچ سکے اور ضرورت مندوں کو سواری نہ ملنے کی وجہ سے کتنا نقصان اٹھانا پڑا، کتنی ایمبولینسوں میں ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے زخمی اور مریض جان گنوا بیٹھے، فیصلہ سازوں کو کسی سے کیا غرض؟ کیڑے مکوڑے عوام شائد پیدا ہی کچلے جانے کے لئے ہوتے ہیں، انہیں مہنگائی کچلے، بیروزگاری یا مفلسی، وہ ڈرون حملوں کا نشانہ بنیں یا خودکش بمباروں کا، کاخِ امراء کے در و دیوار محفوظ تو ملک میں سب اچھا ہے۔
بنا ہے عیش تجمل حسین خان کے لئے
مگر وطن عزیز میں صرف سانپ اور سنپولیے ہی نہیں بستے، قومی اداروں کو لوٹنے اور زلزلہ زدگان، سیلاب متاثرین کے لئے جمع شدہ امداد ہڑپ کرنے والوں کی بہتات نہیں، دردمند، خدا ترس اور غریب نواز بھی بہت ہیں۔ خلق خدا کی دعائیں اور اپنے خالق و مالک کی خوشنودی سمیٹنے والوں کی کمی بھی نہیں جو اس دھرتی کے غریبوں، یتیموں، بیواؤں، لاوارثوں اور کمزوروں کی دستگیری کو زندگی کا اثاثہ اور آخرت کا توشہ سمجھ کر تن، من، دھن کی بازی لگا رہے ہیں۔
گزشتہ روز ”آغوش“ کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو لوٹ مار کے قصے، دھونس، دھاندلی کی داستانیں اور سازشیوں، ریشہ دوانیوں کی کہانیاں سن سن کر، پڑھ پڑھ کر مایوسی و بے یقینی سے مرجھایا دل کھل اٹھا، زلزلہ اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا نشانہ بننے والے علاقوں سے چن چن کر اکٹھے کئے گئے یتیم اور لاوارث بچوں کی اجتماعی سالگرہ کی یہ تقریب ادارہ منہاج القرآن کے بانی شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھیوں کی درد مندانہ کاوش کا نتیجہ تھی۔ ادارہ منہاج القرآن کی ذیلی تنظیم ”آغوش“ ان بے سہارا بچوں کو نہ صرف تعلیم و تربیت کی بہترین سہولتیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں شہر کے خوشحال خاندانوں کے بچوں کی طرح کا گھریلو ماحول بھی میسر ہے اور اجتماعی سالگرہ کی تقریب اسی سلسلے کی کثی تھی، امریکی معیار کے ایک ریستوران میں اجلے لباسوں میں ملبوس بچے خوب چہک رہے تھے جبکہ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی اور قاضی فیض انہیں برگر، سینڈوچ اور فرنچ فرائز کے ساتھ مشروب سرو کر رہے تھے، سالگرہ کا کیک کٹا اور غبارے چھوڑے گئے۔
تقریب میں ایک شعبدہ باز نے ٹوپی سے خرگوش اور ایک خالی تھیلے سے کئی منقش بکس برآمد کرکے خوب داد سمیٹی لیکن سادہ لوح شعبدہ باز اسے محض ہاتھ کی صفائی قرار دیتا رہا ہمارے سیاسی بازی گروں کی طرح لازوال قومی کارنامہ اور عوامی خدمت کی بہترین مثال نہیں، کچھ عرصہ پہلے حفیظ چوہدری مجھے کتابوں کی ایک نمائش میں لے گئے تھے جہاں شیخ الاسلام کی سینکڑوں اردو اور انگریزی کتب، کتاب بین طبقے کی تسکین قلب کے لئے موجود تھیں اور خریداروں کا ہجو م تھا کہ سنبھالنا مشکل۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کا ادارہ اخوت بے وسیلہ لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بلاسود قرضے فراہم کر رہا ہے جبکہ علامہ طاہر القادری کے جانثار نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے معاشرے کا مفید شہری بنانے کی کد و کاوش میں مصروف، مقصد دونوں کا ایک ہے لٹے پٹے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور اس کا مستقبل ایسی نسل کے سپرد کرنا جو لینے کے بجائے دینے کی خوگر اور لوٹنے کے بجائے اپنا رزق حلال ضرورت مندوں پر لٹانے کی عادی ہو۔ یہ بھی پاکستان ہے مگر ہم لوٹوں، لٹیروں، بازی گروں اور نعرہ بازوں میں پھنسے ہیں اور اس طرف دیکھ نہیں پاتے #
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں ”سیاست“ کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کی سوا
تازہ ترین