• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واٹرکٹ سے گاڑی چلانے کا دعویٰ حقیقت یا فراڈ؟...آج کی دنیا…اشتیاق بیگ

پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے، روزبروزپیٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے جبکہ ملک میں ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لئے تیل کی امپورٹ میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 14/ارب ڈالر کا خطیر زرمبادلہ پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ پر جھونک دیا جس کی ادائیگی کے لئے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ خرچ ہوا۔ موجودہ صورتحال نہ صرف حکومت بلکہ عوام کے لئے بھی پریشان کن ہے۔ ایسے میں خیرپور سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر آغا وقار احمد کے پانی سے گاڑی چلائے جانے کے متنازع دعوے کو اخبارات نے نمایاں طور شائع کیا جبکہ کئی نامور ٹی وی اینکرز نے اسے اپنے پروگرامز کا حصہ بھی بنایا۔ میڈیا کی جانب سے اس قدر توجہ نے آغا وقار کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور وہ راتوں رات ایک سلیبرٹی بن گیا۔
وقار احمد کے متنازع دعوے کو اس وقت تقویت حاصل ہوئی جب اس نے کچھ پاکستانی اراکین پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کے سامنے اپنی گاڑی کو پانی کی کٹ پر چلاکر ان شخصیات کو حیرت زدہ کردیا جس کے بعد پانی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اس ایجاد کو ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نکالنے میں ایک بڑی پیشرفت اور انقلابی کوشش قرار دیا گیا جبکہ کچھ لوگوں نے وقار احمد کو نوبل پرائز کا حقدار قرار دیا۔ اس دلچسپ صورتحال میں حکومت خاموش تماشائی بنی دلچسپی سے ملک کو درپیش توانائی کے بحران سے نجات دلانے کا یہ کرشماتی حل دیکھتی رہی کیونکہ اس سے عوام میں یہ امید پیدا ہوچلی تھی کہ اب ملک کو توانائی کے بحران سے نجات ملنے والی ہے۔ اس صورتحال میں ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا کہ آیا وقار احمد کا دعویٰ درست ہے یا وہ سادہ لوح عوام کو سبز باغ دکھاکر بے وقوف بنارہا ہے؟ اس بحث میں ملک کے کئی نامور اور بڑے سائنسدان بھی کود پڑے جنہوں نے وقار احمد کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کے مترادف قرار دیا، وہ کسی طرح بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ پانی سے گاڑی چلانا ممکن ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمن، عزیز ہدیٰ بھائی اور ثمر مبارک نے وقار احمد کے دعوے کو سائنسی بنیادوں کے برخلاف، ناممکن اور فراڈ قرار دیا،بقول ان کے یہ دعویٰ جھوٹا اور قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
میں ابھی اس صورتحال پر محظوظ ہوکر اس پر کالم تحریر کرنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ گزشتہ ماہ جب معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کراچی تشریف لائے تو دوران ملاقات انہوں نے مجھے بتایا کہ پانی کی کٹ سے گاڑی چلانے کا دعویٰ کرنے والے وقار احمد نے ان سے رابطہ کرکے ملاقات کی خواہش کا اظہار اور اپنی ایجاد پر ان سے حمایت چاہی ہے لیکن انہوں نے وقار احمد سے کہا ہے کہ جب تک وہ ان کے دعوے کو عملی شکل میں نہ دیکھ لیں اپنی کوئی حتمی رائے نہیں دیں گے۔ اس طرح وقار احمد نے ڈاکٹر قدیر خان سے اپنی ایجاد کردہ واٹر کٹ کے ساتھ گاڑی چلانے کا عملی مظاہرہ کرنے کا وقت لے لیا۔ ڈاکٹر صاحب کی خواہش تھی کہ میں بھی اس موقع پر ان کے ساتھ موجود ہوں جبکہ وقار احمد کے دعوے کی تصدیق کے لئے ڈاکٹر قدیر خان کے واقف کار چیف انجینئر حامد خان بھی ہمارے ساتھ موجود تھے۔ وقت مقررہ پر وقار احمد تشریف لائے اور اپنی ایجاد کے بارے میں ڈاکٹر قدیر خان کو بریفنگ دینے کے بعد کہا کہ ”واٹر کٹ ٹوٹنے کے باعث آج وہ پانی کی کٹ سے گاڑی چلانے کا عملی مظاہرہ نہیں کرسکیں گے“۔ وقار احمد کی خلاف توقع معذرت ہم سب کے لئے باعث حیرت تھی کیونکہ اتنی اہم شخصیت سے وقت لے کر آخری وقت میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر قدیر خان نے وقار احمد پر واضح کیا کہ وہ ان کے دعوے کو پرکھے اور جانچ پڑتال کئے بغیر کسی قسم کی رائے نہیں دے سکتے، زیادہ بہتر ہے کہ وقار احمد کسی گاڑی کے بجائے صرف انجن کو الگ سے واٹر کٹ پر چلا کر دکھائیں تاکہ گاڑی میں پوشیدہ سی این جی کٹ یا کسی الیکٹرک بیٹری سے گاڑی چلنے کے شکوک و شبہات کی گنجائش نہ رہے۔ اس موقع پر میں نے وقار احمد کی گاڑی میں موجود واٹر کٹ کا بھی معائنہ کیا جو معمولی نوعیت کی تھی اور قطعاً متاثر کن نہ تھی۔ وقار احمد کی یہ خواہش تھی کہ سرمایہ کار ان کے واٹر کٹ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کریں جس سے جہاں ایک طرف بے شمار منافع کمایا جاسکے گا وہاں ملک کو بجلی کے بحران سے نجات بھی مل سکے گی۔ وقار احمد کی شخصیت اور باتیں مجھ سمیت وہاں موجود دوسرے افراد کومتاثر نہ کرسکیں اور وہ ہم سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے کہ بہت جلد وہ ڈاکٹر قدیر خان کے سامنے پانی کی کٹ کے ذریعے انجن کو الگ سے چلانے کا عملی مظاہرہ کریں گے مگر کئی ہفتے گزرنے کے بعد بھی وقار احمد نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ کچھ دنوں قبل وقار احمد کے بارے میں اخبارات میں شائع ایک خبر نے میرے اندیشے کو صحیح ثابت کر دیا کہ وقار احمد کسی زمانے میں محکمہ پولیس سے منسلک تھا جسے ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کرکے ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔
پانی سے گاڑی چلانے کا دعویٰ پہلی بار نہیں کیا گیا، اس سے پہلے بھی دنیا کی کم از کم 3 شخصیات اسی طرح کا دعویٰ کرچکی ہیں۔ امریکی شہری اسٹیفن میئر 1965ء ، فلپائن کے ڈینیل ڈنگل2002ء جبکہ سری لنکن انجینئر شورا کمار 2005ء میں وقار احمد کی طرح پانی سے گاڑی چلانے کا دعویٰ کرچکے ہیں جو صرف دعوے ہی ثابت ہوئے۔ وقار احمد کی تیار کردہ کٹ کا معائنہ کرنے، ان سے ملاقات، ان کے ماضی کا ذاتی ریکارڈ اور وقار احمد کا معذرت کرکے اپنی ایجاد کا عملی مظاہرہ نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وقار احمد کا دعویٰ ایک فراڈ اور سستی شہرت حاصل کرنے کا محض ڈھونگ تھا۔ اگر پانی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرکے اس سے گاڑی چلانے کا پروسیس اتنا ہی آسان اور ممکن ہوتا تو یورپ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بہت پہلے ہی اپنی گاڑیاں پانی سے چلا کر تیل کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نجات حاصل کرسکتے تھے۔ میڈیا میں آغا وقار کے دعوے پر بحث تقریباً ختم ہوچکی ہے لیکن پاکستانی اردو لغت میں ایک لفظ کا اضافہ ہوگیا ہے جو آج کل سماجی رابطوں کی سائٹس پر کثرت سے استعمال ہورہا ہے۔ ”تم بھی واٹر کٹ ہو“ (یعنی تم نہ صرف دھوکے باز بلکہ اپنی بات پر ڈھٹائی سے اڑے رہنے والے بھی ہو)۔
تازہ ترین