احسن سلیم
انسان کی دو بنیادی جبلّتیں ایسی ہیں، جن پر انسانی تاریخ کی ترقی،تبدّل اور تغّیر کا اسٹرکچر قائم و دائم چلا آرہا ہے۔ پہلی جبّلت Curosityیعنی تجسس کا مادہ ہے اور دوسری جبلّت Anxietyیعنی خوف، ڈر، تشویش اور اندیشے کا مادّہ۔ تجسّس، دریافتوں اور انکشافات کا دروازہ کھولتا ہے، جبکہ انگزائٹی(خوف، ڈر،تشویش اور اندیشہ) انسان کےظاہری اور باطنی دفاعی نظام کو مستحکم کرنے کا کام سر انجام دیتی ہے۔ یہی دونوں جبلّتیں شعر و ادب کے باطن میں سرگرم عمل رہتی ہیں۔ ان دونوں جبلّتوں کی کارفرمائی انفرادی اور اجتماعی شعور اور لاشعور کی تہوں میں ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔ یہ جبلّتیں نہ ہوں تو نہ فرد باقی رہ سکتا اور نہ معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔ نہ شاعری ظہور میں آسکتی ہے اور نہ نثر کی تخلیقی قو ّت آشکار ہوسکتی ہے۔ گویا یہی دونوںجبلّتیں معاشرے کی تمام جہتوں اور شعر و ادب کی تمام اکائیوں کو وحدت میں پروئے رکھتی ہیں۔
بعض حالتوں میں Anxiety فرد کے احساس اور تخیل کو متحرک کرتی ہے اور بعض حالتوں میں احساس کو شدّت Aneiety کی حد کو پہنچ کر تخلیقی صلاحیتوں کو متحرک اور فعال کرتی ہے۔ اِسی طرح تجسّس کا مادہ ہر نئی تبدیلی کا سرچشمہ، ہر نئی ایجاد کی بنیاد بنتا ہے۔ تخلیق و تجربے کے سارے رنگ اسی میں مضمر رہتے ہیں، یوں تغیّر و تبدّل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ موجودہ عہد میں تغیّر و تبّدل کی رفتار گزشتہ ادوار کے مقابلے میں ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے۔ تبدیلی اس عہد کی سب سے بڑی سچّائی کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ مغرب میں روایتی معاشرتی قدریں کاملاً تبدیل ہوچکی ہیں۔ مشرق، کہیں تقلیداً اور کہیں ضرورتاً مغرب کی تبدیل شدہ نئی قدروں کو اختیار کرتا جارہا ہے۔ ظاہری یا خارجی سطح پر یہ تبدیلی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے، البتہ باطنی یا داخلی سطح پر دُہرا معیار حیات سرایت کیے ہوئے ہے۔ داخلی یا باطنی زندگی کا سب سے بڑا مظہر( میرے خیال میں) فنِ شعر و ادب ہے۔ اُردو ادب کی موجودہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ عصرِ حاضر میں ادیبوں اور شاعروں کی ایک کثیر تعداد افادیت اور مقصدیت میں یقین نہیں رکھتی۔ اُن کے خیال میں ’’مقصدیت‘‘ کے زیرِ اثر تخلیق کردہ ادب میں سیاسی یا تبلیغی نعرے بازی کی گونج زیادہ سنائی دینے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں ادب اپنے بنیادی وظیفے یعنی جمالیاتی حظ و مسرت سے عاری ہوجاتا ہے۔ شعری جمالیات کے بجائے غیر شعری یا Non fiction literature کی بھرمار ہونے لگتی ہے۔ سیاسی یا تبلیغی ادبی اظہار کے نتیجے میں سوسائٹی اور ادب، دونوں میں گروہی تعصّبات کو فروغ حاصل ہونے لگتا ہے۔ زندگی اور انسانوں میں تقسیم در تقسیم کا سلسلہ جڑ پکڑ لیتا ہے۔ سوسائٹی عدم توازن کا شکار ہو جاتی ہے۔ ادیبوں اور شاعروں میں ’’احساسِ ذمے داری‘‘ کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے۔
اُردو ادب گزشتہ دو تین دَہائیوں سے اسی فقدان کی زد پر ہے۔ ادیب اور شاعر اپنے اپنے ذاتی مفادات کے تحت اتنے مختلف متضاد اور باہم متصادم حلقوں میں بٹ چکے ہیں کہ مجموعی طور پر تخلیقی کثرت کے باوجود، ٹرین ایک ہی پلیٹ فارم پر ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ زندگی سے آئیڈیالوجی، تھیوری یا ڈسکورس کا رول غائب ہوتا جارہا ہے۔ ادب سے عوامی دلچسپی آٹے میں نمک جتنی بھی نہیں ہے۔ قاری کی گم شدگی، بے حسی کے المیے کو جنم دے چکی ہے۔ اب خود ادیب و شاعر بھی ایک دوسرے کی تخلیقات سے بیزاری اور عدم توجہی کا برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش کی کم و بیش دو ارب آبادی میں ادب کے حقیقی قاری کی تعداد انگلیوں پر گِنی جاسکتی ہے۔ موجودہ ادبی منظر نامے میں دراصل تنقید نگار ہی ادب کے قاری کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اور تنقید نگار بھی ان ہی کتابوں تک محدود ہیں، جو اُن تک پہنچ جاتی ہیں۔ ادبی رسائل کا حال و کردار بھی کچھ زیادہ خوش گوار نہیں۔ زیادہ تر رسائل اور اپنے حلقۂ احباب کی نمود و نمائش کا یا اپنے سماجی معاونین کی سربلندی کا پرچم لہرا رہے ہیں۔
ادبی تحریکات ہی معاشرے میں تغّیر و تبدّل کا وہ سربستہ راز ہیں، جو سوسائٹی کے رگ و ریشے میں نئے جوش و ولولے کا موجب و سبب بنتی ہیں۔ اُردو میں سرسید تحریک نے ہندوستانی معاشرے کی فرسودہ روایات کا خاتمہ کرکے ایک نئے سماجی نظامِ حیات کی بنیاد فراہم کی۔ ترقی پسند تحریک نے بورژوایت پر کاری ضرب لگائی اور پرولتاری فکر کی لے کو آگے بڑھایا۔ جدیدیت کی تحریکوں نے تخلیقی وفود کی قو ّت و حشمت کے بہت سے نادر نمونے ادبی شہ پاروں کی صورت میں دوام کے درجے پر پہنچائے، لیکن موجودہ صورتِ حال کی ’’مخدوش مسافت‘‘ کا دورانیہ خاصا طویل ہوگیا ہے۔ اگر اہلِ قلم نے اس صورتِ حال کا سختی سے نوٹس نہ لیا تو ہمارے اجتماعی ادبی وجود کا، خس و خاشاک کی طرح عدم آباد کے خلا میں گُم ہوجانے کا خدشہ ہے۔ شعور و آگہی کے نور کی جگہ، جہل و ظلمت کی تباہ کن حکمرانی کے غلبے کا اندیشہ ہے۔ مفلوک الحالی، ذہنی پستی اور بد خلقی کے ہولناک اژدھے ہماری روایت ہماری تہذیب اور ہمارے کلچر کو بتدریج نگل جانے کی آرزو میں ہر طرف سے لپک رہے ہیں۔ بالادست طبقوں کی ’’اندرونی بے حسی‘‘ بالآخر ہمارے پورے قومی وجود کو گھاس کوڑے میں تبدیل کردینے پر کمر بستہ ہے۔ اس سچوئشن میں سوسائٹی کے ہر سچّے اور حسّاس فرد کو بیدار مغزی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ادیبوں اور شاعروں کو یک جہتی اور اجتماعی ذمّے داری کا بوجھ اُٹھانے کے لیے خود کو آمادہ کرنا چاہیے۔
یہ دور گلوبل ولیج کے امیج کی عملی صورت گری کا دور ہے۔ دُنیا بھر کے انسانوں سے ہم آہنگی کا شعور بیدار کرنے کے لیے تخلیقی جدوجہد کو شعار بنانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے مباحث کو ترک کرکے ادب برائے تبدیلی کو شعوری سطح پر اُجاگر کرنا، روح ِ عصر یعنی اسپرٹ آف ایج (Sprit of Age) کا تقاضا ہے۔ ادب برائے تبدیلی کو بھی محض ذہنی خلا پُر کرنے کے بجائے ایک عالمگیر ادبی سرگرمی یا گلوبل ادبی تحریک کے طور پر اپنانے کی ضرورت ہے، کیوں کہ ہمارا موجودہ عہد عالمگیر تبدیلیوں کا عہد ہے۔ جب تبدیلی کا ہر رنگ معاشرے میں خارجی سطح پر قبولِ عام کا درجہ اختیار کرچکا ہے تو معاشرے کی داخلی اور روحانی جہت کیوں دُہرے معیار کو اپنائے ہوئے ہے۔ اب جبکہ تجسّس اور اندیشہ ہمارے باطنی وجود میں لاوے کی طرح دَہک اُٹھاہے تو ہمارے تخلیقی وجود میں روایتی سرد مہری کیوں ہمارے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ آیئے اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کے لیے اجتماعی تخلیقی جدوجہد کا آغاز کریں۔