آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایلیفنٹ اور سائیکل پولو

’’ پولو‘‘ہاکی کی طرز کاکھیل ہے جس میں گھڑ سواروں کی دو ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ 19ویں صدی تک یہ کھیل صرف گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر کھیلا جاتا تھا لیکن بعد میں اس کی دوسری اقسام ایجاد ہوگئیںجن میں واٹر پولو ، آئس پولو، ایلفنٹ پولو، سائیکل پولو اور بائیک پولو قابل ذکر ہیں جب کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ’’گدھاپولو‘‘ بھی معروف ہے۔اس کو مقامی زبان میں ’’گوردوغ غال’’ کہا جاتا ہے۔ اس کھیل میں عموماًنو عمر بچے حصہ لیتے ہیںاور نہایت مہارت سے گدھے پر سوار ہوکر بغیر مہار یا رسی کے گدھے کو قابو میں رکھتے ہوئے پولو کھیلتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں ہارس پولو کے ٹورنامنٹس اکثر و بیشتر ہوتے ہیں لیکن ایلیفنٹ پولوٖ Polo) (Elephant اور سائیکل پولو کا کھیل شایدپاکستانی عوام کے لیے اجنبی کھیل ہوں۔ اس ہفتے ایلیفنٹ پولو اور سائیکل پولو کے بارے میں پڑھیے۔

سائیکل پولو

سائیکل پولو،گھوڑے کی پشت پر بیٹھنے کے بجائے سائیکل کی گدی پر بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے۔سرکاری طور پراس کا میدان 150 میٹر لمبا ہوتا ہے، جب کہ غیر سرکاری کھیلوں میں اس کی طوالت 120سے 150میٹر جب کہ چوڑائی 80 سے100 میٹر ہوتی ہے۔کھیل میںڈھائی انچ قطر کی گیند استعمال ہوتی ہے، جب کہ اسٹک کی لمبائی 3 میٹر ہوتی ہے ،جس کے سرے پر دھاتی دستہ لگا ہوتا ہے۔ ہر ٹیم 6کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے جن میں سے 4کھلاڑی فیلڈ میں کھیلتے ہیں ،جب کہ باقی دو کھلاڑی، متبادل کے طور پر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ کھیل کا دورانیہ 30منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں دو ہاف ہوتے ہیں، جنہیں ’’چکر‘‘ کہا جاتا ہے، ہرچکرساڑھے سات منٹ کا ہوتا ہے ، درمیان میں آرام کا وقفہ 15منٹ کا ہوتا ہے۔اگر میچ کے آخر تک اسکور برابر رہے تو دونوں ٹیموں کو فاضل وقت دیا جاتا ہے،کوئی ٹیم فاؤل کرتی ہے تو مخالف ٹیم کو 15سے 25منٹ کے فاصلے سے فری ہٹ ملتی ہے۔ جان بوجھ کر فاؤل کرنے والے کھلاڑی کوایمپائر کی طرف سے وارننگ کے طور پر زرد کارڈ دکھایا جاتا ہے اور اگر وہی کھلاڑی اپنا مذکورہ عمل دوبارہ دہرائے تو اسے سرخ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ متبادل کھلاڑی لیتاہے۔

ایلیفنٹ اور سائیکل پولو

سائیکل پولو کے خالق آئرلینڈکی کاؤنٹی ’’وکلو‘‘ کےسابق سائیکلنگ چیمپئن اور’’ دی آئرش سائیکلنگ میگزین ‘‘ کے ایڈیٹررچرڈ جے میکریڈی تھے۔وہ ہارس پولو کے بھی شوقین تھے اور سائیکلنگ کے ساتھ پولو کے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ سائیکل کے کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعدانہوں نے سائیکلنگ اور پولو کو یکجا کرنے کا خاکہ تیار کیا اور سائیکل کی گدی پر بیٹھ کرسائیکل پولوکھیلنے کا تجربہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نےسائیکل کی سیٹ پر بیٹھ کر ایک لمبی چھڑی لی جس کے سرے پر لکڑی کا ہتھوڑا لگا ہوا تھا ۔ اس سے وہ فٹ بال کی گیندکو ہٹ لگاتے ہوئے اپنی مقرر کی ہوئی گول پوسٹ تک گئے ۔کچھ دنوں بعد اس کھیل کو کاؤنٹی کی سطح پر متعارف کرایا۔ 1891ء میں پہلاسائیکل پولو میچ ’’وکلو ‘‘کے قصبے ’’اسکالپ‘‘ میں ’’رتھ کلیرن روورز‘‘ اور’’ اوہن ہاسٹ سائیکلنگ کلب ‘‘ کے مابین کھیلا گیا۔ 19ویں صدی کے آخر میں یہ کھیل برطانیہ اور امریکا تک پہنچ گیا۔ امریکا میں یہ کھیل قدیم طرز کی امریکن اسٹار سائیکل کی سیٹ پر بیٹھ کر کھیلا جاتا تھا۔ پہلا بین الاقوامی میچ برطانیہ اور آئرلینڈ کے درمیان1901 میں منعقد ہوا۔ 1908ء میں لندن اولمپکس میں اسے نمائشی طورپر شامل کیا گیاجس میں آئرلینڈ کی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جرمنی کی مضبوط ٹیم کو ہرا کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔1930ء میں برطانیہ میں لیگ کی سطح پر ٹیمیں بننے کے بعد اس کھیل کی مقبولیت پورے ملک میں ہوگئی۔ فرنچ لیگ قائم ہونے کے بعد یہ فرانس میں بھی مقبول ہوگیا، بعد ازاں فرانس اور برطانیہ کے درمیان بین الاقوامی ٹورنامنٹس کا انعقاد ہونے لگا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ کھیل برطانیہ سےناپید ہوگیا لیکن فرانس میں لیگ کی سطح پرکھیلا جاتارہا، وہاں اب بھی اس کی ٹیمیں ہیں جن کے درمیان لیگ میچز کا انعقاد ہوتا ہے۔ 1970کے بعد برطانیہ میں دوبارہ اس کھیل کا انعقاد ہونے لگا۔1980ء میں امریکا اور بھارت، سائیکل پولو کی دو بڑی ٹیموں کے روپ میں چھا گئے۔ 1994میں امریکا میں ملکی سطح پر بائیسکل پولو ایسوسی ایشن قائم کی گئی ۔ 1996ء میں سائیکل پولو کی پہلی عالمی چیمپئن شپ امریکا کےایک قصبے ’’رچ لینڈ‘‘ میں منعقد ہوئی، جس میں بھارت نےاس کھیل کا پہلاعالمی ٹائٹل جیتا، بعدازاں اس کا انعقاد ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں کیا جانے لگا۔۔ 2001ء میں بین الاقوامی سائیکلنگ یونین کا قیام عمل میں آیا، جس کے اراکین میں برازیل، ارجنٹائن، آسٹریلیا، جرمنی، فرانس، کینیڈا، بھارت، امریکا، پاکستان، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، ملائیشیا، جنوبی افریقہ، سری لنکا، سویڈن، سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ عالمی تنظیم نےاس کھیل کو سرکاری حیثیت دینے کا اعلان کیا۔

ہارس پولو کاکھیل بھارت میں بھی زمانہ قدیم سے مقبول ہے،جے پور، جودھ پور،اور الور کے مہاراجہ اس کے شوقین تھے۔ ہندوستان پر برطانوی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ کھیل برٹش آرمی میں بھی مقبول یت اختیار کرگیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب برطانوی فوج میں گھوڑوں کا استعمال کم ہوگیا تو سپاہیوں نے پولو کے کھیل کے لیےسائیکل کا استعمال شروع کردیا اور مقامی باشندے بھی ان کی دیکھا دیکھی سائیکل پولو کھیلنے لگے۔ بھارت میں1966ء میں یہ کھیل سرکاری سطح پر پروان چڑھا اور اسی سال راجستھان کے شہر جے پور میں سائیکل پولوفیڈریشن آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا ۔ 1970ء میں نئی دہلی میں اس کے پہلے ملکی ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔1973میں جے پور میں مردوں کی قومی چیمپئن شپ منعقد ہوئی جب کہ اسُی سال راجستھان کے ضلع ’’جھنجھنو‘‘ کے قصبے ’’ڈنلوڈ‘‘ میں خواتین سائیکل پولو چیمپئن شپ کھیلی گئی۔1973میں دہلی میں ’’پہلے مرچنٹس کپ سائیکل پولو ٹورنامنٹ ‘‘ کا انعقاد ہوا۔ بین الاقوامی مقابلوںمیں شرکت کرکےبھارت کی سائیکل پولو ٹیم نےکینیڈا اور امریکا جیسی مضبوط ٹیموں کو کئی باربین الاقوامی میچوں میں شکست دی ۔ اب تک سائیکل پولو کے 8 عالمی ٹورنامنٹس ہوچکے ہیں، جن میںبھارت نے شاندار کھیل پیش کر تے ہوئے 4 مرتبہ کامیابی حاصل کی جب کہ کینیڈا نے 3 باراور امریکا نے ایک بار عالمی کپ جیتا ہے۔

نیپال میں بھی یہ کھیل مقبول ہے۔ 2012میں کرنالی میں ٹائیگر ٹاپس ، برڈیا نیشنل پارکس میں ’’ اکمومن انرجی بائیسکل پولو کپ ‘‘ منعقد ہوا، جس میں برطانوی ٹیم ’’پکاچکاس‘‘ نے سوئٹزرلینڈ کی ٹیم ای ایف جی کو شکست دی۔ 2007ء میں یورپین کپ کا آغاز ہواجس میں فرانس، برطانیہ، آئرلینڈ کی ٹیموں نے شرکت کی، پہلے دو مقابلے فرانس نے جیتے۔

پاکستان میں بھی اس کےمیچز کا انعقاد ہوتا ہے لیکن عوام میں اسےہارس پولو کی طرح مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔ 2005میں پاکستان کی سائیکل پولو ٹیم 6میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے بھارت کے دورے پر گئی تھی۔ امرتسر میں دونوں ملکوں کے مابین مقابلہ ہوا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز جیت لی۔

ایلیفنٹ پولو (Elephant Polo)

ایلیفنٹ اور سائیکل پولو

ایلیفنٹ پولو،ہارس پولو کی طرز کا کھیل ہے جو قوی ہیکل جانور ہاتھی کی پشت پر بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کا آغاز بیسوی صدی میں ہندوستان میں ہوا، مگر اسےموجودہ شکل نیپال میں میگھائولی کے مقام پر ملی۔ کھیل کا یہ انداز نیپال، سری لنکا، تھائی لینڈ اور بھارت کے شہر راجستھان میں مقبول ہے۔سری لنکا کے گال شہر میں اس کےسالانہ ٹورنامنٹ کا انعقادکیاجاتا ہے۔ایلیفنٹ پولو کا گراؤنڈ، ہارس پولو کے مقابلے میں تین چوتھائی چھوٹا ہوتاہے۔ یعنی میدان کی لمبائی 140 میٹر اور چوڑائی 70 میٹر ہوتی ہے۔ کھیل میں ہر ٹیم تین تین ہاتھیوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ ہر ہاتھی پر ایک مہاوت اور ایک کھلاڑی سوار ہوتا ہے۔ مہاوت کھلاڑی کے کہنے پر ہاتھی کو دائیں سے بائیںاورآگے پیچھے دوڑاتا ہے۔ کھلاڑی کے ہاتھ میں6 سے 10 فٹ لمبی لکڑی کی چھڑی ہوتی ہے، جس کے سرے پردھات کی ایک ٹی لگی ہوتی ہے، جس سے جھک کر وہ گیند کو ضرب لگا کر گول پوسٹ تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایلیفنٹ پولو کی گیند بھی مضبوط اور معیاری بنائی جاتی ہے اور ضرب لگنے سے وہ متاثر نہیںہوتی۔ مذکورہ کھیل دس دس منٹ کے دو ہاف یعنی ’’چکر ‘‘پر مشتمل ہوتا ہے۔ دونوں ہاف کے درمیان 15 منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے تاکہ کھلاڑی اور ہاتھی ، دونوں کچھ دیرسستا کر تازہ دم ہوسکیں۔ میدان کے درمیان 10 میٹر قطر کا نیم دائرہ بنا ہوتا ہے جہاں سے میچ ریفری دائرے میں گیند پھینک کر کھیل شروع کراتا ہے۔ میدان کی ڈی 20 میٹر یعنی نصف قطر، پر محیط ہوتی ہے اور فیلڈ کے دونوں جانب گول پوسٹ بنی ہوتی ہیں، جہاںکھلاڑی گیند جال میں پھینک کر گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’’ہاتھی پولو‘‘کی عالمی چیمپئن شپ نیپال میں ’’ٹائیگرٹاپس‘‘ کے مقام پر منعقد کی جاتی ہے۔ نیپال اور تھائی لینڈمیں اس کھیل کی نگرانی ’’ورلڈ ایلیفنٹ پولو ایسوسی ایشن ‘‘کے قوانین کے تحت کی جاتی ہے، جس میں ہاتھیوں کی عمر، صحت ، دماغی کیفیت اور کھیل کی بہتری کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس کھیل میں ہاتھی کی ذہنی ہم آہنگی پولو کے کھیل سے ہونا ضروری ہے۔گال میں ایلیفنٹ پولو ٹورنامنٹ کے ایک میچ کے دوران ا یبےAbey) (نامی یک ہاتھی مشتعل ہوکرپولو گراؤنڈ سے نکل کر سڑک کی طرف بھاگا اس نے اپنی پشت پر سوار مہاوت اور کھلاڑی کو سونڈ میں لپیٹ کر دور پھینکا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے جب کہ اپنے راستے میں آنے والی اسپینی ٹیم کی وین کو ٹکر مار کر تباہ کردیا ۔

نیپال میں ٹائیگر ٹاپس کے مقام پر ورلڈ ایلیفنٹ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 1982ء سے عالمی ایلیفنٹ پولو چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔اس کھیل کا تصور 4 عشرے قبل برطانیہ کے ایک شہری برٹ جم ایڈورڈز کے ذہن میں اس وقت ابھرا جب وہ نیپال کے جنگلوں میں وائلڈ لائف کے محکمے میں ملازم تھا اور جانوروں کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتا تھا۔برطانیہ سے اس کا دوست جیمز مین کلارک اس سے ملنے کے لیے نیپال آیا، جیمز پولو کا کھلاڑی تھا۔ ایڈورڈز نے اس کو ہاتھی کی پشت پر بیٹھ کر پولو کھیلنے پر آمادہ کیا۔ اس کے لیے اس نے ہاتھی کی سست رفتاری کو دیکھتے ہوئے ہارس پولو کی بہ نسبت نصف سے بھی کم میدان منتخب کیا، 10 فٹ لمبی چھڑی اور فٹ بال کی گیند کے ساتھ ایک سدھائے ہوئے ہاتھی کی پشت پر سوار ہوکر ایلیفنٹ پولو کا تجرباتی گیم کھیلاگیا۔ کچھ عرصے بعد اس کھیل میں اس کے ساتھ محکمہ جنگلات کے دیگر ملازمین بھی شریک ہوگئے اور یہ کھیل دو ٹیموں کے درمیان منعقد ہونے لگا۔ ایک سال کے مختصر عرصے میں اس کی مقبولیت نیپال کے علاوہ سری لنکا اور تھائی لینڈ تک جاپہنچی اور وہاں اس کے ٹورنامنٹس منعقد ہونے لگے۔

1982ء میں مختلف ممالک کی ٹیموں پر مشتمل ورلڈ ایلیفنٹ پولو ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ نیپال کی ایک سیاحتی کمپنی نے جو ٹائیگر ٹاپ میں واقع تھی اس کے باقاعدہ عالمی ٹورنامنٹ کا انعقاد شروع کیا جس کے لیے عالمی ایلیفنٹ پولو فیڈریشن سے اجازت لی گئی،اوربھارتی سرحد کے قریب کھٹمنڈو کے شمال مغرب میں میگھالی چتوانی کی فضائی پٹی کے قریب گھاس کے میدان میں ہر سال عالمی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتاہے۔ پولو گرائونڈ کے قریب جنگل لاج میں کھلاڑیوں اور شائقین کے قیام کا بندوبست ہوتا ہا۔ ان مقابلوں میں بہترین تربیت یافتہ 4 ٹن وزنی ہاتھیوں کے ساتھ ہاتھی پولو کے معروف کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ایلیفنٹ پولوکے قواعد و ضوابط پولو کے کھیل کی دیگر اقسام سے مختلف ہوتے ہیں۔ ہاتھی اگر گول پوسٹ کے قریب لیٹ جائے تو اسے فائول قرار دیا جاتا ہے اور مخالف ٹیم کو فری ہٹ مل جاتی ہے۔ کھیل کا اختتام دوپہر کی تمازت سے بچنے کے لیےسورج سر پر آنے سے قبل ہی کردیا جاتا ہے۔ہرمیچ کے آغاز اور اختتام پر ہاتھیوں کو ان کی پسندیدہ خوراک کھلائی جاتی ہے۔ ٹورنامنٹ کا انعقاد ہر سال دسمبر میں صبح کے وقت ہوتاہےجب کہ اختتام دوپہر کو کیا جاتاہے۔ 2017کی عالمی ایلیفنٹ پولو ٹورنامنٹ کے دوران بدھسٹ تنظیموں نے ٹورنامنٹ کےانعقاد کے خلاف سخت احتجاج کیا جب کہ جانوروں کے حقوق کی سرگرم تنظیمیں اس کھیل کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں ان کےمطابق، ہاتھی اس کھیل کیلئے غیرموزوں جانور ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ٹائیگر ٹاپس پر اب مزید عالمی ٹورنامنٹس کا انعقاد ناممکن نظر آرہا ہے۔

تھائی لینڈ کے شہر’’ ہواہن‘‘ میں ہر سال مارچ کے مہینے میں ایلیفنٹ پولو کپ منعقد کیا جاتا ہے ، تھائی لینڈ کے بادشاہ، وجیرا لونگ کورن کی سرپرستی میں اس روایتی ہاتھی پولو ٹورنامنٹ میں دس ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ ہر ٹیم تین ہاتھیوں پر مشتمل ہوتی ہے ، جو سال بھر سیاحتی مقامات پرتفریحی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن ساتھ میں ان کی تربیت پولو میچ کےکھیل کے لیےبھی کی جاتی ہے۔

سری لنکا میں ہر سال 15فروری کو ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوتا ہے جس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے’’ ایلیفنٹ پولو ‘‘کے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ راجستھان کے شہر جے پور میں بھی ہاتھی پولو کے کھیل کو مقبولیت حاصل ہے اور جے پور دنیا کا واحد شہر ہے جہاں سارا سال محکمہ سیاحت کی جانب سے چوگان اسٹیڈیم میں ہاتھی فیسٹول کے موقع پر ایلفنٹ پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں