• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ضیا ءالامت پیر محمد کرم شاہ الا زہریؒ ایک تاریخ ساز شخصیت

تحریر:پیرزادہ محمد امداد حسین بانی و پرنسپل جامعہ الکرم
ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہر ی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار عالم اسلام کی ان برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے حصول میں تاریخ کو صدیاں انتظار کرنا پڑتا ہے تب کہیں گلشن انسانیت میں وہ پھول کھلتے ہیں جن کی مہک سے افسردہ دماغوں کو طراوٹ اور پریشان دلوں کو طمانیت نصیب ہوتی ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
سیارہ ڈائجسٹ کے مدیراعلیٰ امجد رؤف خان لکھتے ہیں: ’’پیر کرم شاہ کی شخصیت ایک ہیرے کی مانند ہے آپ ان کو جس طرف سے دیکھیں ان کی چمک میں کوئی کمی نہیں آتی۔ وہ ایک خدا رسیدہ ، متقی اور پارسا بزرگ ہیں۔ ان کے چہرے پر روشنی بکھری رہتی ہے جو دوسروں کو بھی تاریکی سے نجات دلاتی رہتی ہے۔ ان کی زبان میں بڑی تاثیر ہے۔ بڑے سادہ دل ، خوش اخلاق اور دردمند انسان ہیں۔ اتنے ہلکے پھلکے انداز میں چلتے ہیں جیسے کوئی فرشتہ ہوا میں تیر رہا ہو ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ زمین کو بھی دُکھانا نہیں چاہتے ، اس تاریخ ساز شخصیت نے اپنے علم و حکمت کے نور اور اخلاق کے زور سے اجڑے ہوئے انسانوں کو فرشتہ سیرت بنایا ہے۔‘‘
آپ کے شیخ طریقت اور اساتذہ کے تأثرات
1943میں دورہ حدیث کیلئے آپ مرادآباد تشریف لے گئے اور مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم صدر الافاضل حضرت محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ سے دورہ حدیث کیا۔ آپ کی دستار فضیلت اجمیر شریف کے سجادہ نشین حضرت دیوان سید آل رسول ؓ نے بندھوائی۔ اس موقع پر صدر الافاضل حضرت محمد نعیم الدین ؓ نے یہ تاریخی جملہ فرمایا:’’ میں آج مطمئن ہوں کہ میرے پاس جو امانت تھی وہ میں نے موزوں فرد تک پہنچا دی ہے۔‘‘آپ کے پیرومرشد حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ پر بہت مہربان تھے اور ایک دفعہ فرمایا:’’ پیر کرم شاہ میری آنکھوں کا نور ہے صرف یہی نہیں بلکہ پیر سیال کے روضہ کا مینار ہے۔ ‘‘ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ کے سلسلہ میں حضورضیاء الامت جیل سے رہا ہو کر سیال شریف پہنچے تو حضرت پیر سیال ؒ نے فرمایا:’’مبارک ہو آپ نے آج سے سنت یوسفی بھی ادا کر لی ہے۔‘‘جامعہ ازہر سے فراغت کے وقت ایم اے کی ڈگری کے علاوہ آپ کے اساتذہ نے آپ کو ذاتی طور پر بھی حسن کارکردگی کے سرٹیفکیٹ عطا کئے۔ مثلاً :
۱) امام ابو زہرہ ؓجس کو علمائے مصر نے اپنا امام تسلیم کیا ہے ان کی تصانیف ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی کے مختلف نصابات میں شامل ہیں وہ ہستی حضور ضیاء الامت ؒ کی استاذ ہے اور اپنے ذاتی سرٹیفکیٹ میں لکھتے ہیں:’’جس لمحہ میں نے تجھ سے ملاقات کی میں نے تجھ میں بلند نگاہی ، رفعت کردار ، اعلیٰ مقاصد کی طرف میلان اور بے مقصد امور سے دوری کا احساس کیا۔ میں تجھ میں ایک ایسی انسانی روح پاتا تھا جو دنیاوی بوجھوں سے بلندوبالا اور ارفع و اعلیٰ تھی۔ اے میرے فرزند ارجمند ! مجھے تیری ذات میں اسلام ایک آفتاب کی طرح درخشاں نظر آتا ہے اور میں تجھ میں وہ اسلام دیکھتا ہوں جو بکھرے دلوں کی شیرازہ بندی کرنے والا ہے اور مجھے تجھ میں روشن مستقبل کی امید نظر آتی ہے، آج جبکہ میں تجھے الوداع کہہ رہا ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ گویا میرے نفس کا ایک حصہ مجھ سے جدا ہو رہا ہے اور گویا میری روح کا ایک ٹکڑا الگ ہو رہا ہے، پس میں تجھ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘
۲) عربی ادب کے نامور استاذ شیخ احمد زکی نے اپنے سرٹیفکیٹ میں فرمایا:’’ گوناگوں علوم کے گلستان میں جب میں تدریس کے وقت تیرے ساتھ بحث و مباحثہ کرتا اور ہم ایک دوسرے کے سامنے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے تو مجھے یوں معلوم ہوتا کہ تو پیدائشی ادب کی ارفع و اعلیٰ مثال ہے تو فصاحت و بلاغت کے نکات کا غیر معمولی ذوق رکھتا ہے خداداد صلاحیتوں کا امین ، پاکباز نفس کا مالک اور بلند تربیت کا ایک نادر نمونہ ہے اور ان تمام اخلاق حسنہ پر اسلام کا لہرانے والا پرچم مجھے تجھ پر سایہ فگن نظر آتا ہے۔‘‘
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف
1957 میں اپنے والد گرامی کے انتقال کے بعد آپ نے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کی نشأۃ ثانیہ کا آغاز کیا اور ایسے نصاب تعلیم کو متعارف کرایا جو قدیم و جدید علوم کا حسین امتزاج ہے اس کی تکمیل کے بعد ایک مسلمان اپنے دین سے بھی پوری طرح آگاہ ہو جاتا ہے اور دنیوی تعلیم کے میدان میں بھی وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوتا۔ آج اس دارالعلوم کی دو سو چالیس سے زائد شاخیں اندرون ملک اور بیرون ملک سرگرم عمل ہیں جن میں 25ہزار سے زائد طلبہ و طالبات دینی اور دنیاوی علوم سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
تفسیر ضیاء القرآن
حضرت ضیاء الامت ؒ نے 19 سال کی طویل مدت میں3500صفحات پر مشتمل قرآن کریم کی تفسیر پانچ جلدوں میں مکمل فرمائی۔
۱) طالب ہاشمی لکھتے ہیں:’’تفسیر ضیاء القرآن میں ترجمہ کا انداز بے مثل و بے نظیر ہے اور قرآن پاک کی ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ سمجھنے کے لئے نعمت غیر مترقبہ ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں حق تعالیٰ نے خود حضرت پیر کرم شاہ کی رہنمائی فرمائی۔ تفسیر کا انداز بیان نہایت دل نشین اور اثر انگیز ہے اور پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ علم و حکمت کی ایک جوئے رواں ہے جو مسلسل بہہ رہی ہے اور ہر شخص اس سے بقدر ظرف استفادہ کر سکتا ہے۔‘‘
۲) پروفیسر شاہ فرید الحق فرماتے ہیں:’’قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایک طرف تو خداتعالیٰ کی وحدانیت کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف حضور اکرم ﷺ کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔ دور حاضر کے بعض مفسرین نے عظمت رسالت مآب ﷺ کو ملحوظ نہیں رکھا لیکن تفسیر ضیاء القرآن کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس میں جہاں دلائل توحید پر بڑی واضح بحثیں ملتی ہیں وہاں عظمت رسالتؐ بھی اپنی رعنائی کے ساتھ موجود ہے۔ درحقیقت یہ وہ تفسیر ہے جس سے صاحب تفسیر قبلہ پیر صاحب کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ پیر صاحب قابل صد مبارک ہیں کہ انہوں نے صاحب قرآن ﷺ کی شخصیت کو اجاگر کرنے کے لئے خود اپنی شخصیت کو اس میں گم کردیا ہے۔میں نے بذات خودامام اہل سنت احمد رضا خان بریلوی ؓ کے ترجمہ قرآن کو انگریزی میں ڈھالتے ہوئے ضیاء القرآن کے ترجمہ کو بڑے غور سے پڑھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ترجمہ ہے جو سلیس اور بامحاورہ ہونے کے ساتھ ساتھ منشائے الٰہی اور عظمت رسالت کا آئینہ دار ہے۔‘‘
سیرت ضیاء النبی ﷺ
حضور ضیاء الامت ؒ نے سات جلدوں میں سیرت النبی ﷺ پر ضیاء النبی ﷺ کے نام سے ایک بے مثال کتاب لکھ کر علمی دنیا میں ایک گراں قدر اضافہ کیا ہے، اس عظیم تصنیف پر آپ کو صدر پاکستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی طرف سے ایوارڈ پیش کئے گئے۔
۱) آستانہ عالیہ گولڑہ شریف کے چشم و چراغ، شاعر ہفت زبان حضرت پیر سید نصیرالدین شاہ نصیررحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت پیر صاحب قبلہ کو یہ کتاب تصنیف کرنے کے لئے تیار کرتی رہی ہے ، انداز تحریر انتہائی دل نشین ہے حضور اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا قلم موتیوں کی لڑیاں پرونے لگتا ہے۔ مصنف کی ذات گرامی زہد و تقویٰ اور پارسائی کی چلتی پھرتی تصویر ہے، حقیقت یہ ہے کہ سیرت طیبہ جیسے مقدس موضوع پر قلم اٹھانے کے لئے ایسی ہی ہستیاں درکار ہوتی ہیں۔ آپ کو دیکھ کر پانچ سو سال پرانی شخصیات یاد آتی ہیں۔
ہے شاہِ کرم(ﷺ) جن کا لقب عالم میں
اک خاص کرم ان کا کرم شاہ پہ ہے
۲) محسن پاکستان نامور سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے فرمایا:’’حضرت پیر صاحب ساری ملت کا سرمایہ ہیں اور ان کی یہ تصنیف ساری امت کے لئے ایک تحفہ کا درجہ رکھتی ہے۔ ضیاء النبی ، حضور سرکار مدینہ ﷺ کے رخ انور کی ضیا پاشیوں سے ہماری زندگی کی تاریک راہوں کو جگمگا رہی ہے۔ وہ لوگ یقیناً خوش قسمت ہیں جو اس کے مطالعہ سے اپنے دل و دماغ کو منور کریں گے۔‘‘
۳) صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی لکھتے ہیں:ضیاء النبی لفظ لفظ خوشبو حرف حرف روشنی ہے۔ قبلہ پیر محمد کرم شاہ نے منبر دل پر کھڑے ہو کر خوب خطبۂ محبت دیا ہے،انہوں نے داستانِ ذوق و عشق کو وجد کے عالم میں سنایا ہے، انہوں نے قلم کے منہ سے فقط لفظ نہیں اگلے بلکہ قلم کی نوک سے ہیرے تراشے ہیں۔ ضیاء النبی ﷺ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہیں جو پندار نفس اور نشہ علم کی تسکین کی چغلی کھاتا ہو ورنہ بڑے بڑے قلم کار تمام تر ضبط نفس کے باوجود ضبط سخن کا مظاہرہ نہیں کر پاتے اور کہیں نہ کہیں ان کی بات سے ان کی ذات چھلک پڑتی ہے، دراصل یہ مزاج کا فرق ہوتا ہے بعض لوگ اس محفل میں دادتحقیق لینے آتے ہیں اور کچھ فقیر اس گلی میں بھیک لینے آتے ہیں، پیر صاحب قبلہ دوسرے قبیلے کے فرد ہیں۔ ہر چند وہ مفسر قرآن ہیں ، ہرگاہ کہ وہ اچھے انشاپرداز ہیں ، بجا کہ وہ جج کے منصب پر فائز ہیں ، تسلیم کہ وہ بہت بڑے ادارے کے سربراہ ہیں ، معلوم کہ وہ گدی نشین ہیں ، مانا کہ وہ زبان و بیان کی بے شمار خوبیاں رکھتے ہیں مگر ان کی تازہ تصنیف ان کی نظر میں کشکول گدائی ہے جسے وہ ہاتھ میں تھام کر سلطان حسینان جہان اور سرور اورنگ نشینان عالم کی بارگاہ میں حاضر ہیں وہ خود رقم طراز ہیں’’ ایک مفلس و کنگال منگتا خالی جھولی لے کر ترے حسن و جمال کی خیرات لینے کے لئے حاضر ہے اور ایک ادنیٰ سا ارمغان عقیدت و محبت پیش کرنے کا آرزومند ہے۔‘‘ اور اس آرزومندی میں کوئی ناز، کوئی گھمنڈ، کوئی استحقاق اور کوئی مان نہیں بلکہ از اول تا آخر یہ کیفیت ہے جسے خود سپردگی کہا جاتا ہے۔ آنے دو یا ڈبو دو اب تو تمہاری جانب کشتی تمہی پہ چھوڑی لنگر اٹھا دئیے ہیں
اعزازات
اسلامی جمہوریہ مصر کے صدر حسنی مبارک نے 27 رمضان المبارک 1993 ء کو اسلامی خدمات کے صلہ میں جامعہ ازہر کی طرف سے سب سے بڑا قومی اعزاز ’’نوط الامتیاز‘‘ آپ کو پیش کیا۔ نیز آپ عالمی دارالمال اسلامی جنیوا کے ڈائریکٹر بورڈ کے ممبر اور رؤیۃ ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔
بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت
جب آپ کو بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت پیش کی گئی تو آپ کا جواب سن کر ایوان حکومت پر سناٹا طاری ہوگیا۔’’یہاں آکر شاید حق کا اظہار صحیح انداز میں نہ کرسکوں اس لئے میں یہ منصب قبول نہیں کر سکتا۔‘‘
انتقال پُر ملال
آپ 21رمضان المبارک 1336 ھ بمطابق یکم جولائی 1918ء کو بھیرہ شریف ضلع سرگودھا پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور حضرت غوث بہاؤ الحق زکریا ملتانی علیہ الرحمۃ کی اولاد سے ہیں۔حج اور عید الاضحیٰ کی درمیانی رات نو ذوالحجہ 1418ھ بمطابق سات اپریل 1998ء کو آپ کا انتقال ہوا اور دس ذوالحجہ یعنی عید الاضحیٰ کے دن چار بجے بعد دوپہر آپ کا جنازہ سیال شریف کے سجادہ نشین حضور محمد حمید الدین سیالوی نے پڑھایا اور اپنے والد گرامی کے پہلو میں دفن ہوئے۔آپ کا بیسواں سالانہ عرس مبارک یکم جولائی 2018ء کو جامعہ الکرم انگلستان میں منعقد ہو رہا ہے جس میں برطانیہ کے علاوہ یورپ ، پاکستان اور انڈیا سے بھی علماء و مشائخ شریک ہوں گے۔
چندتعزیتی بیانات
۱) قائد اہل سنت حضرت شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: حضرت پیرصاحب ؒ کی دینی و ملی اورسیاسی و سماجی خدمات ناقابل فراموش ہیں، ان جیسے لوگ قوموں کا اجتماعی سرمایہ ہوتے ہیں۔
۲) مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: پیر صاحبؒ، امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد برصغیر کی دوسری بڑی شخصیت تھے ان جیسے لوگ مدتوں کے بعد پیدا ہوا کرتے ہیں۔
۳) تاجدار نیریاں شریف حضرت پیر علاؤ الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:قبلہ پیر محمد کرم شاہ ایسی شخصیات میں سے تھے جن کے تذکرہ سے رحمتیں جھوم کر اترتی تھیں ، انہیں جس میدان میں بھی رکھا جائے تو وہ پشت پناہ اور رہنما نظر آئے۔ ان کی محفل پر فرشتوں کا تقدس نثار ہوتا ہے۔ ضیاء الامت قبلہ کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل تھی۔
تازہ ترین