آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم اسکول میں نویں جماعت میں تھے جب ہمیں بتایا گیا کہ میٹرک کا امتحان زندگی کا سب سے اہم امتحان ہوتا ہے، دنیا میں جہاں کہیں نوکری کے لئے جاؤ گے، کسی کالج میں داخلے کے لئے فارم جمع کرواؤ گے یا کسی گھر میں اپنا رشتہ بھیجو گے تو پہلا سوال یہی کیا جائے گا کہ بیٹا میٹرک میں کتنے نمبر آئے تھے، سو بہتر یہی ہے کہ ابھی سے کمر کس لو، کھیل کود کو خیرباد کہہ دو، ویڈیو گیمز کو بھول جاؤ اور میٹرک کی تیاری شروع کر دو، یاد رکھو اگر میٹرک میں نمبر نہ آئے تو ساری عمر اچھا رشتہ ملے گا نہ نوکری۔ الحمدللہ، دونوں باتیں غلط ثابت ہوئیں۔ اُس وقت نویں اور دسویں جماعت کا اکٹھا امتحان ہوا کرتا تھا، کُل ملا کر 850نمبروں میں سے جو700 سے اوپر نمبر حاصل کرتا اسے دنیا کا خوش نصیب ترین لڑکا/لڑکی سمجھا جاتا تھا۔ اب زمانہ بدل گیا ہے، اب نویں اور دسویں کا امتحان اکٹھا نہیں ہوتا، کُل نمبر بھی 1100ہو گئے ہیں، امسال میٹرک میں اول پوزیشن لینے والے کے 1091نمبر ہیں، اِس سے نیچے بھی 1090اور 1080نمبر لینے والوں کی طویل فہرست ہے جبکہ 1050نمبر لینے والے یوں رو رہے ہیں جیسے اُن کی زندگی ختم ہو گئی ہو۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ اب کوئی بچہ فیل نہیں ہوتا یا کم از کم کسی کو فیل ہونے والے بچوں کی خبر نہیں ہوتی، جس ماں سے پوچھو جواب یہی ملتا ہے کہ اُس کے بچے نے ٹاپ کیا ہے، جس باپ سے پوچھو وہ بھی یہی کہتا ہے کہ اُس کا بچہ ذہانت میں نیوٹن سے کم نہیں۔ لیکن یہ تمہید میٹرک کا مرثیہ لکھنے یا بچوں کے والدین کا جھوٹ پکڑنے کے لئے نہیں باندھی گئی۔ سوال یہ ہے کہ سکول /کالج پاس کرنے والے بچوں کے ذہن میں کس قسم کی فصل پک کر تیار ہو رہی ہے، اُن کا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ کیا ہے اور اُن کی اخلاقی تربیت کس قسم کی ہوئی ہے!

ہم لوگ جب اسکول میں تھے تو نصابی کتابیں پڑھ کر ہمارے دماغ میں چند باتیں راسخ ہو چکی تھیں کہ پاکستان کا دنیا کے کسی بھی بکھیڑے میں کوئی قصور نہیں، ہماری پالیسیاں شفاف اور درست ہیں، ذہانت اور فطانت ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے، ہم ایک عظیم تہذیب کے وارث ہیں، روس ہم سے پناہ مانگتا ہے بھارت ہم سے خائف ہے امریکی ہم سے متاثر ہیں اور برطانیہ کو ہم کرکٹ میں مات دے چکے ہیں، ہمارے پاس صالح مسلم حکمرانی کی شکل میں بہترین گورننس ماڈل موجود ہیں جنہیں بعض مغربی ممالک نے نہایت چالاکی سے اپنے ہاں لاگو کرکے تمام مسائل حل کر لئے ہیں اب ضرورت صرف اِس بات کی ہے کہ ان ممالک کو کلمہ پڑھا کر مسلمان کر لیا جائے اور اگر اِس ضمن میں وہ ردّ و کد سے کام لیں تو ہمیں چاہیے کہ صلاح الدین ایوبی کی طرح سر پر صافہ باندھ کر گھوڑے کو کک لگائیں اور دشت اور صحرا عبور کرتے ہوئے سویڈن میں فتح کا جھنڈا لہرا دیں۔ جی ہاں یہ ٹھیک ہے کہ بچوں کو اپنے ملک، ثقافت اور تہذیب کے بارے میں فخر کرنا چاہیے، انہیں اپنی تاریخ اور جغرافیے کے بارے میں مثبت باتوں کی تعلیم دینی چاہئے، شاید باقی دنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں سچائی سے دور رکھا جائے یا اِس بات کی تعلیم ہی نہ دی جائے کہ سچ اور جھوٹ کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔ ہم نے میٹرک میں جو پڑھا سو پڑھا، آج کل کے بچے تو اس سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں، فل مارکس لینے والے یہ بچے ہی آگے چل کر میڈیکل کالجوں، انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور بڑے بڑے بزنس اور آئی ٹی اسکولز میں داخلے لیتے ہیں اور وہاں سے ایسی اعلیٰ نسل کی سندیں لے کر نکلتے ہیں کہ جنہیں چوم چاٹ کر اُن کے والدین صدقے واری ہوجاتے ہیں (اور ہونا بھی چاہئے)۔ ہمارے دور کی طرح اِن بچوں کے ذہن میں بھی بہت سی باتیں راسخ ہو چکی ہیں جن میں سے ایک بات یہ ہے ہمارے ملک کے مسائل کا حل بہت آسان ہے بشرطیکہ کوئی مرد آہن ہمیں نصیب ہو جائے (حوالہ بھارتی فلم ’’نائک‘‘)۔ یہ فسطائیت کی پہلی نشانی ہے۔

ان اسکول کالجوں کے بچوں کی طرح بڑوں کے پاس بھی مسائل کے حل کے لئے جادو کی چھڑی موجود ہے، اس چھڑی کو گھما کر پاکستان کا گھمبیر ترین مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے، آج کل بہت سے پروفیشنل کنسلٹنٹ اسی کام میں جتے ہیں اور اپنے مضامین میں بار بار دہائیاں دے رہے ہیں کہ خدارا اُن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر ملک کی سمت درست کر لیں! اِن لوگوں کے پاس بھی مسائل کا وہی حل ہے جو ہمارے میٹرک ایف اے پاس نوجوان کے پاس ہے، فرق صرف یہ ہے کہ کنسلٹنٹ صاحبان مینجمنٹ کے دلفریب ماڈلز کو پاور پوائنٹ پریزنٹیشن میں استعمال کرکے ایسی مسحور کن تصویر کشی کرتے ہیں کہ دیکھنے والا سوچتا ہے کہ سارا کام اس کے سپرد کرکے مجھے بس کرسی پر جھولنا چاہئے جبکہ میٹرک ایف اے پاس بیچارہ اسکول میں تقریری مقابلے جیت کر ہی خوش ہو جاتا ہے۔ مسائل کے یہ حل بہت دلچسپ ہیں۔ مثلاً اِن لوگوں کا خیال ہے کہ قانون میں ہر بری بات پر پابندی لگا کر آدھے مسائل ختم کئے جا سکتے ہیں، گویا آج سے پہلے گلی محلے میں کوڑا پھینکنے کی اجازت تھی اب اس پر پابندی لگا دینی چاہئے، پہلے ٹریفک قانون توڑنے کی اجازت تھی اب اس پر پابندی ہونی چاہئے، پہلے امیگریشن کاؤنٹر پر پروٹوکول لینے کی اجازت تھی اب اس پر پابندی ہونی چاہئے، پہلے قومی اداروں کو نالائقی سے کام کرنے کی اجازت تھی اب ان کی نالائقی پر پابندی لگا دی جائے، پہلے ملاوٹ شدہ اشیا بیچنے کی اجازت تھی اب ان پر پابندی ہونی چاہئے، پہلے تجاوزات کی آزادی تھی اب اس پر پابندی لگانے سے مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ مسائل کے حل کا ایک دوسرا اسٹائل بھی ہے اور یہ مزید دلچسپ ہے۔ اس اسٹائل میں یہ لوگ بظاہر کسی مسئلے کا حل بتاتے نظر آتے ہیں مگر اصل میں یہ خواب بیچتے ہیں، جیسے ہر غریب شخص کے لیے ملک کے بہترین اسپتال میں مفت علاج، ہر غریب بچے کے لئے ایچیسن کالج جیسے اسکول میں مفت تعلیم، ہر غریب مزدور کے لئے کم ازکم اجرت اور بے روزگاری الاؤنس کی ضمانت۔۔۔۔ یہ تمام باتیں بہت خوش کن ہیں مگر یہ حل نہیں خواہشات ہیں، ان کے حل کے لئے نہ صرف گورننس کے بہترین ماہر چاہئیں بلکہ اندھا دھند پیسہ بھی چاہئے، قحط الرجال کے مارے اس معاشرے میں ماہر تو نہ جانے دستیاب ہیں یا نہیں، بجٹ کی صورتحال البتہ یہ ہے کہ پوری سول حکومت کا کُل خرچہ (تنخواہوں کے علاوہ) 218ارب روپے ہے گویا یہ وہ روپے ہیں جس کی عیاشیوں کا ہر وقت شور مچتا ہے، انہی پیسوں میں پوری وفاقی حکومت کام کرتی ہے، یہی پٹرول، کاغذ، بجلی، چائے، پانی کی مد میں خرچ ہوتا ہے اور ہم اس بجٹ کی بچت سے امید لگائے بیٹھے ہیں جو ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کا بمشکل اسّی فیصد ہے، یہی نہیں بلکہ 1620ارب روپے ہم نے بین الاقوامی قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہیں، 1100ارب روپے دفاع کے لئے ہیں اور 601ارب غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ہم سننا نہیں چاہتے، ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ کوئی نائک آئے اور ٹھکا ٹھک آرڈر پر آرڈر نکالے، ملک پانچ سال کیا ایک سال میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس قسم کی تجاویز آپ کو میٹرک میں 1090نمبر تو دلوا سکتی ہیں مگر ملک کو ٹھیک نہیں کر سکتیں۔ تاریخ میں کوئی ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوا، ترقی یافتہ قوموں نے عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے ذریعے ملک کی سمت درست کی ہے، پاور پوائنٹ پریزنٹیشن دینے والے کنسلٹنٹ اگر ملک ٹھیک کر سکتے تو دنیا بھر میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہوتی، ان ٹیکنو کریٹس اور میٹرک پاس بچوں کے گورننس ماڈل میں کوئی فرق نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں