آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آدمی اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے، زبان حرکت کرتی ہے تو ظاہر ہونے لگتا ہے، اور غصہ کی حالت میں تو یکسر بے نقاب ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں زبان کا لگایا ہوا زخم تلوار سے بھی گہرا ہوتا ہے کہ یہ روح تک گھائل کر جاتا ہے، اور لازم نہیں کہ روح کے زخم وقت کے ساتھ بھر جائیں۔ لہٰذا گوشت کے اس لوتھڑے کو ہر حال میں احتیاط سے استعمال کریں۔

چودھری اعتزاز احسن صاحب:

تم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا

کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں

چوہدری صاحب 73سال کے ہیں (یعنی ’ستّرے بہترے‘ سے بھی ایک زینہ اوپر) سرد و گرم چشیدہ ہیں، وکیل ہیں اور زبان کی تعمیری و تخریبی قوت سے خوب آشنا ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُن کی سیاست اور وکالت میں، عمر بھر کی کمائی درحقیقت زبان کی ’کھٹی‘ ہے۔ عدالتوں میں زبان کو حرکت دینے کے کروڑوں روپے لیتے ہیں اور اسمبلی میں اُن کی ’زبانی‘ فتوحات سے ایک عالم آشنا ہے۔ ہم نے بزرگوں سے سُنا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی خوبی اکثر اُس کی سب سے بڑی خامی بن جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت اور نوازشریف کی ضد اُن کے عروج اور زوال دونوں کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں۔ اپنے چوہدری صاحب کی’ زبان‘ کا بھی یہی معاملہ لگتا ہے۔ اب دیکھئے نا، قصرِ صدارت اور چوہدری اعتزاز احسن کے درمیان سب سے بڑی رُکاوٹ اُن کی’ زبان‘ ہی تو قرار دی جا رہی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو چوہدری صاحب نے مشکوک قرار دیا تھا بلکہ ایک قدم آگے جاتے ہوئے اُس کلینک کو بھی نواز شریف کی ملکیت قرار دیا تھا جسمیں بیگم صاحبہ زیرِ علاج تھیں۔ سادہ لفظوں میں اُن پہ اِلزام ہے کہ اُنہوں نے میاں صاحب کی ایک ذاتی اور خاندانی مشکل پہ سیاست کی تھی، گویا زمین پہ گرے ہوئے ایک شخص کو ایک زور دار لات رسید کی تھی۔ اور پھر مختصراً یہ ہوا کہ چوہدری صاحب اپنی زبان کے بوجھ تلے دب کر صدارت کی بازی ہار گئے۔ زبان کے مسائل فقط چوہدری صاحب تک محدود نہیں ہیں بلکہ گزشتہ ہفتہ تو ’لسانی فسادات‘ کے اعتبار سے انتہائی ہنگامہ خیز رہا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ Pindi Boy بہت ’کُھلے ڈُھلے‘ آدمی ہیں اور زبان بھی اِنتہائی ’کُھلی ڈُھلی‘ استعمال کرتے ہیں۔ بطورِ وزیرِ ریلویز ایک میٹنگ کے دوران جب ایک سینئر آفیسر نے سابق وزیر ریلویز کے چند اقدامات کی تعریف کی تو شیخ صاحب بُرا مان گئے، بلکہ یوں کہیے کہ ہتھے سے اُکھڑ گئے اور اپنے لسانی جوہر کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اُن کے حُسنِ بیان کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اُن کی زبان سے ادا ہوا کوئی جملہ بھی یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ افسر، حنیف گل نے شیخ صاحب کو ’بدتہذیب‘ قرار دیتے ہوئے اُن کیساتھ کام کرنے سے معذرت کی اور دو سال کی چھٹی کی درخواست داغ دی۔ اس سارے قضیہ میں دلچسپ بات یہ ہے کہ دُنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی MIT کے پڑھے ہوئے حنیف گل عمران خان صاحب کے بہت بڑے مداح ہیں اور نئے پاکستان سے کئی اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔

شیخ صاحب سے درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ نئے پاکستان کا خواب دیکھنے والوں کو یوں بدظن مت کیجئے، اپنی ٹیم کے ارکان کی توہین نہ کیجئے، ذرا حوصلہ کیجئے، آپ کے پیش رو خواجہ سعد رفیق نے اگر کچھ اچھا کیا ہے تو آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ اس سے آپ کا کام آسان ہو گا۔ اگر آپ پی آئی اے، پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان یا اسٹیل مل کے سربراہ ہوتے تو شاید وہاں کوئی اپنے سابق وزیر کی تعریف نہ کرتا اور ریلویز کو پٹڑی پہ چڑھانے کی تعریف تو نگران وزیرِ اعظم اور نگران وزیرِ ریلویز نے بھی کی تھی۔ اور پھر اس میں جھگڑے کی کیا بات ہے، وزیر تو آتے جاتے رہتے ہیں، یہ ادارے تو ملک کے ہیں، عوام کے ہیں، آپ بس اپنے کام (اور زبان) پہ توجہ کیجئے، اللہ بہتر کرے گا۔

نیا پاکستان بنانے کے لئے انتہائی خلوصِ نیت اور یکسوئی سے دن رات محنت کی ضرورت ہے کہ یہ کام زبانی کلامی نہیں ہو پائے گا اور بدزبانی سے تو بالکل نہیں ہو پائے گا۔ بدزبانی سے یاد آیا کہ خاتونِ اول کے شوہرِ اول خاور مانیکا صاحب نے چند دن پہلے پولیس اہل کاروں کے خلاف مبینہ طور پہ غلیظ زبان استعمال کی۔ پولیس کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے مانیکا صاحب کو ناکے پہ روکا، وہ نہ رکے تو اُن کا پیچھا کیا اور انہیں جا لیا۔ مانیکا صاحب نے اس معاملے کی تشریح شاید یوں کی کہ ’ایک چھوٹے سے پولیس افسر نے ایک بڑے آدمی کے حضور گستاخی کی ہے‘۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ’بڑے لوگوں‘ نے مل کر ڈی پی او پاک پتن رضوان عمر گوندل کو مانیکا صاحب کے ڈیرے پہ جا کر معافی مانگنے کا حکم دیا اور ڈی پی او کے انکار پہ انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ یہ کیا قصہ ہے؟ ہم نے تو سُنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس غیر سیاسی بنا دی گئی ہے؟ ہمیں تو کہا گیا تھا ’دو نہیں ایک پاکستان‘؟ ہم تو نئے پاکستان کے انتظار میں تھے؟ یقین جانئے ہمیں تو یہ عمران خان صاحب کی نئی نویلی حکومت کے خلاف ایک منظم سازش لگتی ہے، یہ تو کسی پری رُو باکرہ کے چہرے پر تیزاب پھینکنے والی بات ہے۔ سمجھ نہیں آتا، آخر کون کر سکتا ہے یہ سازش؟

یہ وار کر گیا ہے پہلو سے کون مجھ پر؟

تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا

بہرحال ہم تو اب بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ خان صاحب سے بالا بالا یہ حرکت کی گئی ہے اور وہ جلد ہی اس صورتِحال کا تدارک کریں گے، اور اپنے ویژن اور ہمارے خوابوں کے مطابق نئے پاکستان کی تعمیر کا آغاز کریں گے۔ نئی حکومت کو آخر جمنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے، شروع شروع میں کچھ بھنڈ تو ہو ہی جاتا ہے، لیکن انٹرنیشنل بھنڈ نہ ہی ہوں تو اچھا ہے۔ آگے پیچھے دو واقعات ایسے ہوئے جن سے عالمی سطح پر ہم نظروں میں آ گئے ہیں۔ پہلے تو شاہ محمود قریشی صاحب نے کہا کہ نریندر مودی نے اپنے خط بنام عمران خان میں مذاکرات کا اشارہ دیا ہے، جواباً انڈیا نے کہا ’قطعاً نہیں، ہم نے تو بس خان صاحب کو مبارک دی ہے۔‘ پھر امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی خان صاحب کو فون کال کے بعد اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس بات چیت میں پاکستان میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ پاکستان نے تُرنت جواب دیا کہ ایسی تو کوئی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ اب یہ کیا چکر ہے؟ کیا ٹیلی فون لائن میں بارش کی وجہ سے ’کھڑ کھڑ‘ زیادہ تھی، امریکی ایکسنٹ کا مسئلہ تھا، آخر کیا تھا؟ چلیں پومپیو کی فون کال کو چھوڑیں، مودی صاحب نے تو خط لکھا تھا۔ ایک ٹائپ شدہ خط کو پڑھنا اتنا دُشوار تو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہماری سمجھ سے تو یہ معاملات باہر ہیں۔ پاکستان کی اکہتّر سالہ سفارتی تاریخ اس نوعیت کے کنفیوژن کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ پھر بھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نئی حکومت کی Teething Troublesہیں، اورخان صاحب اپنی ذاتی توجہ اور ویژن سے ان مسائل پر جلد از جلد قابو پا لیں گے۔

ایک مسئلہ اور ہے جو خان صاحب کی فوری توجہ کا حق دار ہے، اور وہ ہے انسدادِ طمانچہ گردی۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے نے ایک معزز شہری کو تھپڑ رسید کئے اور پارٹی نے اُس ایم پی اے کو پانچ لاکھ روپیہ جُرمانہ کیا۔ اس طرح ایک لحاظ سے اصحابِ استطاعت کا حقِ طمانچہ بازی تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اور بھی چند ایسے پُرتشدد واقعات ہوئے ہیں جن سے اندیشے بڑھ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس ایم پی اے کو نشانِ عبرت بنا دیا جاتا تاکہ آئندہ پارٹی میں کسی کو یہ جرات نہ ہوتی۔ بلاشبہ اس مسئلے سے بھی وزیرِ اعظم اچھی طرح آگاہ نہیں ہوں گے، ورنہ ایسا ڈھلمل فیصلہ نہ کیا جاتا۔ وزیرِ اعظم سے درخواست ہے اس معاملہ کو خود دیکھیں۔ اِن دنوں ہمیں محبت سے ڈر نہیں لگتا خان صاحب، تھپڑ سے لگتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں