آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلی بار پانچ برس کی عمر میں نعت پڑھی. نعت خوانی میں میری تربیت، والدعلامہ سیدمحمدریاض الدین سہروردی اورمیرے اسکول کے استاد صبا متھراوی مرحوم نے کی۔ آج میں جوکچھ بھی ہوں، یہ والد کی دعاؤں اورتربیت کانتیجہ ہے،عمدہ کلام ،خوب صورت آواز، تلفظ کی دُرستی اوربہترین ادائیگی نعت سننے والے کو متاثرکرتی ہے

 عالمی شہرت یافتہ ثناء خواں الحاج قاری سیدمحمد فصیح الدین سہروردی کا نام شعبۂ نعت خوانی کے حوالے سے بے حد مقبول ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص اندازِمدحت سے نہ صرف نعت خوانی میں جدت پیدا کی، بلکہ کروڑوں دلوں میں عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چراغ بھی روشن کیے۔ سید فصیح الدین سہروردی نے نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ مناقب اہل بیت بھی جداگانہ انداز میں پڑھیں۔ اُن کی آواز میں’’میں تو پنجتن کاغلام ہوں‘‘ بہت مقبول ہوئی۔ نعت اور تاریخ نعت کے بارے میں سید فصیح الدین سہروردی نے کہا کہ نعت خوانی وہ مقدس عمل ہے، جو اہل بیت اطہار اورصحابہ کرام کے ذریعے امتِ مسلمہ کوعطا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کفارکا یہ شیوہ تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں بے ادبی کے اشعارپڑھتے تھے۔ صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار جو شاعری سے آشنا تھے، وہ کفار کو اِس کاجواب نعت کی شکل میں دیتے تھے۔ لفظ نعت سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے استعمال کیا اور عربی زبان میں نعت کے معنی تعریف کرنے کے ہیں۔ نعت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف میں کہے جانے والے وہ اشعار ہیں، جن میں آپؐ کی شان بیان کی جائے، آپؐ کے حسن وجمال کاتذکرہ ہو، آپؐ کے کمالات بیان کیے جائیں، یہ سب نعت کے زمرے میں آتے ہیں۔

سید فصیح الدین سہروردی نے بتایا کہ’’میں نے پہلی بار نعت پانچ برس کی عمر میں پڑھی اور پہلا روزہ بھی پانچ سال کی عمر میں رکھا۔ ماہِ رمضان المبارک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کاایک بڑا انعام ہے، جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل مسلمانوں کو عطا ہوا اور اس کا احترام ہرمسلمان مرد و عورت پر لازم ہے۔ جو لوگ روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں، وہ روزہ ضرور رکھیں اور جو شخص روزہ رکھنے کی استطاعت کے باوجود جان بوجھ کرروزہ نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس سے بے زاری کااظہارکیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سید فصیح الدین سہروردی نے بتایا کہ اگرکوئی شخص نماز اورروزہ چھوڑکر یہ سوچتا ہے کہ وہ صرف محافلِ نعت میں شریک ہوکر بخشا جائے گا، تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ نعت کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ نعت سننے سے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پیدا ہوتی ہے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اسلام اور ایمان کی بنیاد ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں سید فصیح الدین سہروردی نے کہا کہ موسیقی اور دیگر آوازوں کی آمیزش نعت خوانی کے تقدس کوپامال کرتی ہے۔ نعت خوانوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق لباس زیب تن کرنا چاہیے۔ خالقِ کائنات کا لاکھ لاکھ شکراداکرتاہوں کہ اس نے میرے خمیر میں اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو شامل کیا۔ نعت خوانی میں میری تربیت، میرے والد علامہ مولانا سیدمحمدریاض الدین سہروردی ؒ  اور میرے اسکول کے استاد صبا متھراوی مرحوم نے کی۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں یہ میرے والد کی دعاؤں اورتربیت کانتیجہ ہے۔نعت خوانی کے فروغ کے حوالے سے سوال کاجواب دیتے ہوئے سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ میرے والد کی زندگی کالمحہ لمحہ فروغِ نعت کے لیے وقف رہا۔ انہوں نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکرِ خیر سے لوگوں کے قلوب و اذہان کومنورکیا۔ پاکستان میں نعت خوانی کو جو فروغ حاصل ہوا ہے، الحمدللہ یہ میرے والد گرامی اور دیگر کی دن رات محنت کانتیجہ ہے۔

’’میں تو پنجتن کاغلام ہوں‘‘ اس منقبت کے بارے میں سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ اس منقبت کے شاعر، یوسف قمر ہیں، انہوں نے یہ منقبت 1956ء میں لکھی اورجب میں نے اسے 1994ء میں پڑھا تو انہوں نے یہ منقبت سُن کر کہا کہ یقیناً اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھ سے یہ منقبت آپ کی آواز میں پڑھنے کے لیے ہی لکھوائی ہے۔ اس منقبت کو مسلسل پڑھتے ہوئے آج مجھے کئی سال ہوچکے ہیں، لیکن اس کی مقبولیت میں ذرابھی کمی نہیں آئی۔ دنیا میں جہاں بھی جاتا ہوں، اس منقبت کی فرمائش ضرورکی جاتی ہے، الحمدللہ اب یہ منقبت میری پہچان بن گئی ہے۔

ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ نعت خوانی کے اسرار و رموز میں عمدہ و سادہ کلام اورخوب صورت آوازکو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہ عطیۂ خداوندی کے بغیر ناممکن ہے۔ عمدہ کلام ،خوب صورت آواز، تلفظ کی دُرستی اوربہترین ادائیگی نعت سننے والے کو متاثرکرتی ہے اور اس کی اہم شرط یہ ہے کہ دل، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرشارہو۔ میں سمجھتاہوں کہ نعت خوانی کا بنیادی مقصد،دلوں میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیداکرنا ہے اور اسے کمرشل ازم سے دور رکھنا چاہیے ۔

ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ میں اب تک دُنیا کے25 ممالک میں نعت خوانی کاشرف حاصل کرچکا ہوں اورمیری پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک سے سیکڑوں کیسٹس ریلیز ہوچکی ہیں۔ میں نے سب سے زیادہ اپنے والد کا لکھا ہواکلام پڑھا ہے۔ میرے والد اکثرکہا کرتے تھے کہ میری لکھی ہوئی نعتوں کو پڑھنے کاصحیح حق میرے بیٹے سیدفصیح الدین سہروردی نے اداکیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری پسندیدہ نعت ’’اے عشق نبی میرے دل میں بھی سماجانا‘‘ ہے جو میرے والد کی لکھی ہوئی ہے۔ مجھے مدینہ طیبہ میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زیرِ لب یہ نعت پڑھنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔

آئیڈیل شخصیت کے بارے میں سوال کاجواب دیتے ہوئے سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ میری آئیڈیل شخصیت، حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ ہیں۔ زندگی کاخوب صورت ترین دن کون ساتھا، اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ جس دن مجھے پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے محبوب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار میں حاضری نصیب ہوئی، وہ میری زندگی کا سب سے خوب صورت اور یادگاردن ہے۔ سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ نعت خوانی کے فروغ میں جہاں مختلف ٹی وی چینلز نے اہم کرداراداکیا ہے، وہاں پرنٹ میڈیا، اخبارات و رسائل نے بھی اس کے فروغ میں بنیادی کردار اداکیا ہے۔ زندگی میں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی ؟اس سوال کاجواب دیتے ہوئے سیدفصیح الدین سہروردی نے کہا کہ ویسے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے صدقےمیں مجھے ہرچیز سے نوازا ہوا ہے، مگرایک تو والد کی وفات کے بعد اُن کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے اوردوسرایہ کہ جب کبھی سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری میں تاخیرہوجائے تو زندگی میں ایک کمی محسوس کرتا ہوں۔

نعت خوانی کی مصروفیات کی وجہ سے فیملی کو کتنا وقت دے پاتے ہیں؟ اس بارے میں سید فصیح الدین سہروردی نے کہا کہ ظاہر ہے اتنی مصروفیت کی وجہ سے میں فیملی کو کم وقت دے پاتاہوں۔ اس سلسلے میں اپنی اہلیہ کاشُکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہرموقع پر میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا، بچوں کی بہترین پرورش کی اور میری حوصلہ افزائی کی۔ اگرمجھے کبھی وقت ملے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارسکوں۔ نعت خوانی کے ورثے کو آگے منتقل کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور میرے والد کی دعاؤں کے صدقے میرابیٹا سید محمد زین العابدین سہروردی خوب صورت انداز میں نعت کہتا بھی ہے اور پڑھتا بھی ہے۔ الحمدللہ وہ میرے ساتھ ماریشس اور انگلینڈ کا دورہ بھی کرچکا ہے، جب کہ اس کی آڈیو سی ڈی بھی ریلیز ہوچکی ہے۔ فصیح الدین سہروردی نے کہاکہ یہ پروردگار کااحسان ہے کہ میرے بیٹے کے علاوہ میری تینوں بیٹیاں بھی بڑی خوش الحانی سے نعت پڑھتی ہیں،میری ایک بیٹی حافظ قرآن بھی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں