آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 ارشادِ ربانی ہے: ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا حکم نوح ؑکو دیا گیا،اور جس کی وحی آپ ﷺکو کی گئی،اور جس کا حکم موسیٰ ؑ اور عیسیٰؑ کو دیا کہ دین کو قائم کرو اور اس میں اختلاف برپا مت کرو۔(سورۂ شوریٰ) ایسا دین جو ہمیشہ سے سارے انبیائے کرامؑ کا رہاہے اور جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے،اسی کا نام اسلام ہے،ارشاد ہے، ترجمہ: اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔(سورۂ آل عمران) ایسےدین میں زور زبر دستی کی گنجائش نہیں، ہر پسند اور کامیاب طریقے کے انتخاب میں لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے، تاکہ اندازہ ہو کہ کون صحیح راستہ اختیار کرتا ہے اور کون غلط۔اسلام عالمی اور آفاقی مذہب ہے، اس کی تعلیمات تمام افرادِ بشر کے لیے ہیں، اسلام کسی خاص طبقے، علاقے،تہذیب یا رنگ و نسل کے لوگوں کو مخاطب نہیں کرتا، بلکہ وہ تمام انسانوں سے خطاب کرتا ہے ،وہ سب کے لیے دین رحمت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: دنیا میں میری رحمت ہر مومن و کافر، نیک اور بد، سب پرچھائی ہوئی ہے،جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت و عافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم نے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے، ارشادِ ربّانی ہے:’’اور(اےپیغمبر!)ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا۔‘‘ (سورۃالانبیاء)

سورئہ احزاب میں فرمایا گیا:’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺکی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے۔‘‘ یعنی صرف رسول اکرم ﷺ کی ذات ہی عقائدو افکار، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، سیاست، معاشیات،غرض ہر شعبۂ زندگی میں کامل اسوہ اور مکمل نمونہ ہے۔ سرکارِ دو عالمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:میں سراپا رحمت ہوں، اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔(جامع صغیر)

ارشادِ ربّانی ہے’’اے لوگو! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ، تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو، اللہ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز سے باخبر ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات)

اس آیت کریمہ نے مساوات کا یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ کسی کی عزت اور شرافت کا معیار اس کی قوم، اس کا قبیلہ یا وطن نہیں ہے، بلکہ تقویٰ ہے، اور اللہ تعالیٰ نےمختلف قبیلے یا قومیں اس لیے نہیں بنائیںکہ وہ ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتائیں، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ بے شمار انسانوں میں باہمی پہچان کے لیے کچھ تقسیم قائم ہوجائے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا،تمہارا خون،تمہارا مال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں، جیسا کہ آج کا یہ دن تم پر حرام ہے۔یعنی جس طرح ’’حجۃ الوداع‘‘کا دن مسلمانوں کے لیے بڑا مقدس ہے اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔اسی طرح کسی مسلمان کا ناحق خون نہیں بہایا جا سکتا،اس کا مال نہیں چھینا جا سکتا اور اس کی آبروریزی نہیں کی جا سکتی۔ہر انسان کو اپنی رائے پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے، شریعت نے ہمیشہ رواداری اور حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ معاشرے میں جب بھی بگاڑ پیدا ہوا۔ وہ دوسروں کی رائے کو پامال کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔

سورۃ المائدہ میں ارشادِ رب العزّت ہے:ترجمہ:’’اے ایمان والو! ایسے بن جائو کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار رہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ناانصافی کرو، انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً تمہارے تمام کام سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔رواداری کے سلسلے میں یہ آیت بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے کہ رواداری کو عدل کا مترادف قرار دیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ مذہب، تہذیب، ثقافت، زبان یا رنگ و نسل میں اختلاف رکھنے والے ہر شخص کے ساتھ خواہ وہ دوست ہو یا دشمن اس کے ساتھ آپ عدل و انصاف کا معاملہ کریں، اس کے مذہب وغیرہ کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے، نہ کسی طرح کی زیادتی یا ظلم روا رکھا جائے۔ آیت کریمہ کا مطلب یہی ہے کہ کسی قوم سے تمہاری عداوت اور دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کو چھوڑ دو، بلکہ تمہیں تو ہر حال میں انصاف ہی کرنا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی طریقےکا پیروبنادیتا( مگر کسی کو زبردستی، کسی دین پر مجبور کرنا حکمت کا تقاضا نہیں، اس لیے انہیں اپنے اختیار سے مختلف طریقے اپنانے کا موقع دیا گیا ہے) اور وہ اب ہمیشہ مختلف راستوں پر ہی رہیں گے‘‘۔ (سورئہ ہود)اس آیت کریمہ میں جس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے وہ بھی رواداری کی ایک اہم بنیاد ہے کہ ہر شخص کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ مختلف طبقات میں جو مذہبی اور فکری اختلاف ہے، وہ فطری ہے، اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔اس لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جائے اور دوسرں کے مذہب ، عقائد و نظریات وغیرہ کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور ان کے ساتھ مذہبی، سیاسی، فکری اور علمی رواداری کا معاملہ کیا جائے۔’’اسلام‘‘ سلامتی اور ’’ایمان‘‘ امن سے عبارت ہے،یہ دینِ انسانیت اور امن و سلامتی کا علم بردار ہے،دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی اساس اور بنیاد امن و سلامتی اور مذہبی رواداری پر قائم ہے۔

سورئہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:’’اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی‘‘۔یعنی آدمی کو حسن صورت ، نطق، تدبّر اور عقل و حواس عنایت فرمائے جن سے وہ دینوی اور اخروی منافع اور نقصان کو سمجھتا ہے اور اچھے برے میں تفریق کرتا ہے۔غرض نوع انسانی کو حق تعالیٰ نے کئی حیثیت سے عزت و بڑائی دے کراسے اپنی دیگرمخلوقات پر فضیلت دی۔

ترجمہ: دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں، ہدایت کا راستہ، گمراہی سے ممتاز ہوکر واضح ہوچکا ہے۔ (سورۃ البقرہ) اس آیت کریمہ میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے کہ کسی پر مذہب اور عقیدے کو بدلنے میں زور زبردستی نہ کی جائے، اس کا تعلق دل اور ضمیر سے ہے، رواداری میں اس اصول کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی حقیقت کو سورئہ کافرون میں بھی بیان کیا گیا ہے:ترجمہ:’’تمہارے لیے تمہارا دین ہے، میرے لیے میرا دین‘‘۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ:’’پھر بھی یہ کافر اگر منہ موڑتے رہیں تو (اے پیغمبر!) آپ کی ذمے داری صرف اتنی ہے کہ واضح طریقے سے پیغام پہنچادو‘‘۔(سورئہ النحل)یعنی اس قدر احسانات سن کر بھی اللہ کے سامنے نہ جھکیں تو آپ کچھ غم نہ کھایئے، آپ اپنا فرض ادا کرچکے، کھول کھول تمام ضروری باتیں سنادی گئیں، آگے ان کا معاملہ خدا کے سپرد کیجئے۔

سیدنا فاروق اعظمؓ کا ایک غیر مسلم غلام تھا، آپ کی دلی خواہش تھی کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائے تو اسے کوئی ذمے داری دے دی جائے، آپ نے اس سے بار ہا اپنی خواہش کا اظہار بھی فرمایا، لیکن اس نے ہمیشہ انکار کیا، حضرت عمرؓ اس کے انکار پر ہمیشہ یہی فرماتے:’’لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدَّیْن‘‘پھر آپ نے اسے آزاد فرمادیا۔(کتاب الاموال)

ارشاد ربانی ہے:ترجمہ:’’اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کرکے دعوت دو‘‘۔(سورۃ النحل) اگر کسی ملک میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں تو مسلمانوں کو اسلام کی یہ ہدایت ہے کہ وہ امن و سلامتی، عدل و انصاف، مساوات و رواداری، ہمدردی ویک جہتی، فیاضی اور انسانیت نوازی پر مشتمل اسلامی تعلیمات سے غیر مسلم حضرات کو روشناس کرائیں اور انہیں موثر نصیحت اور حکمت کے ساتھ دین کی دعوت پیش کریں،لیکن کسی طرح دبائو ڈالنے اور زور و زبردستی کی کوشش نہ کی جائے، اگر وہ نہ مانیں اور مذہب کے سلسلے میں مذاکرات اور بحث و مباحثہ کرنا چاہیں تو نہایت فراخ دلی اورخوش اسلوبی کے ساتھ مذہبی گفت و شنید ہونی چاہیے۔

اسلام تمام انسانوں کے مذہبی معاملات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحیح رہنمائی اور خدائی نظام کی دعوت دینے کا حکم بھی دیتا ہے، تا کہ انسان کو دنیا میں امن و سکون حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی پر سکون زندگی نصیب ہو۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام رواداری،امن وسلامتی اور احترام انسانیت کا درس دیتا ہے،یہ دنیا کا واحدمذہب ہے جس نے پرامن بقائے باہم کا درس دیا ۔یہ مکالمے اوردلیل کی بنیاد پر دین کی دعوت دیتا ہے،اسلام دیگر مذاہب کے حوالے سے احترام کی تعلیم دیتا ،تمام انبیائے کرامؑ حتیٰ کہ تمام مذاہب کے علم برداروں کےادب واحترام کا درس دیتا ہے۔قرآن و سنت اور پیغمبر رحمت،محسن انسانیت حضرت محمدﷺ کی یہ تعلیمات امن و سلامتی کی ضامن اور انسانیت کے لیے مشعل ِ راہ ہیں۔آج دنیا میں تحمل و برداشت ،امن و سلامتی کے قیام،مذاہب کے درمیان مکالمے اورمذہبی رواداری کے فروغ کے لیے انسانیت کو اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے دامن رحمت اور اسوۂ حسنہ سے رہنمائی لینی ہوگی کہ بلاشبہ یہی احترام انسانیت کا منشور اور امن و سلامتی کی حقیقی ضامن ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں