ڈھاکا(جنگ نیوز) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صحافی کی جانب سے 1971ء سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ معاملہ حل ہوچکا ہے اب دل صاف کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ معاملہ پہلی مرتبہ 1974ء میں ہی حل ہوگیا تھا اور اس حوالے سے دستاویز تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور یہ دونوں ممالک کے پاس موجود ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اس کے بعد جب پرویز مشرف نے بنگلادیش کا دورہ کیا تو انہوں نے کھل کر اس معاملے پر بات کی۔
پاکستان کا بنگلادیشی طلبہ کو 5 سال میں 500 اسکالرشپس دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ جب دو بھائیوں کے درمیان ایک معاملہ حل ہوجائے تو پھر اسلام بھی کہتا ہے کہ اپنا دل صاف کرلینا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے کو دو مرتبہ حل کیا جاچکا ہے اور اب ہمیں چاہیے کہ دل صاف کرکے آگے بڑھیں، ہمارے سامنے ایک روشن مستقبل ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ مل کر دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔
خیال رہے کہ اسحاق ڈار گزشتہ روز بنگلادیش کے تاریخی دورے پر پہنچے ہیں اور یہ کسی بھی پاکستانی وزیر خارجہ کا 13 سال بعد پہلا دورۂ بنگلادیش ہے۔