آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل10؍ربیع الثانی 1440ھ18؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مسجدِ نبویؐ میں تشریف فرما تھے۔ آپس میں محوِ گفتگو صحابۂ کرامؓ میں سے کچھ کی آوازیں بے خیالی میں معمول سے اونچی ہو گئیں۔ یہ سب اَن جانے میں ہوا، ورنہ صحابۂ کرامؓ تو حضور ﷺ کے ادب و احترام کا بہت خیال رکھتے تھے، لیکن ربّ ِ ذوالجلال کو اپنے محبوب رسولؐ کی موجودگی میں آواز کی یہ بے احتیاطی بھی پسند نہ آئی اور جبرئیل امینؑ، اللہ کا حکم لے کر حاضر ہو گئے ’’اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو‘‘ (سورۃ الحجرات)۔اس آیت کے نزول پر صحابۂ کرامؓ، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے خوف سے مزید محتاط ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کی آواز قدرتی طور پر بھاری تھی اور بلند بھی، چناں چہ اُنہوں نے خود کو گھر میں گوشہ نشین کر لیا اورباہر نکلنا بند کر دیا۔ تنہائی میں اتنا روتے کہ داڑھی آنسوئوں سے تر ہو جاتی، حتیٰ کہ کھانا پینا بھی تَرک کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنے صحابہؓ کے حال احوال سے باخبر رہا کرتے تھے، سو، جب کئی دن گزر گئے اور حضرت ثابت بن قیسؓ نظر نہ آئے، تو آپؐ نے حضرت سعد بن معاذؓ سے دریافت فرمایا’’ثابتؓ کا کیا حال ہے؟‘‘، حضرت سعدؓ نے جواباً عرض کیا’’یارسول اللہؐ! وہ میرے پڑوسی ہیں، مگر مجھے اُن کی بیماری وغیرہ کا تو کوئی علم نہیں ، البتہ ابھی جا کر اُن کی کیفیت معلوم کر کے آپؐ کو مطلع کرتا ہوں۔‘‘ حضرت سعدؓ جب اُن کے گھر گئے، تو وہ سر جھکائے بیٹھے تھے۔ حضرت سعدؓ نے پوچھا’’ اے ثابتؓ! کیا حال ہے؟‘‘ جس پر اُنھوں نے جواب دیا’’بُرا حال ہے۔ (میری آواز سب سے بلند اور بھاری ہے) چناں چہ بعض اوقات (غیر ارادی طور پر) میری آواز، رسول اللہؐ کی آواز سے بلند ہو جاتی تھی، لہٰذا (اس آیت کے نزول کے بعد) اب میرے سب اعمال ضائع ہو گئے اور اسی غم نے مجھے نڈھال کر رکھا ہے۔‘‘ حضرت سعدؓ نے واپس جا کر نبی کریم ﷺ کو مطلع کیا، تو آپؐ نے فرمایا’’تم اُن کے پاس جائو اور اُن سے کہو کہ وہ جنّتی ہیں‘‘(بخاری)۔

یہ ہے اللہ کے رسولؐ کی عظمت کہ صحابۂ کرامؓ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ نبیؐ کی مجلس میں بات کرو، تو ادب اور قرینے کے ساتھ، دھیمے لہجے میں کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ذرا سی بے احتیاطی عُمر بھر کی کمائی ضائع کر دے اور یہی حکم بعد کے لوگوں کے لیے بھی ہے کہ جس مجلس میں محبوبِ خدا ؐ کا ذکر ہو، وہاں ادب و احترام کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ جو دل اللہ کے رسولؐ کے ادب اور احترام سے خالی ہے، وہ دراصل تقویٰ سے خالی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معاشرے کے بزرگ اور عُمر رسیدہ افراد کے ساتھ بھی گفتگو کے دَوران ادب، آداب کا پورا خیال رکھتے ہوئے مدہم آواز میں بات کرنی چاہیے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا’’جب اپنے والدین سے بات کرو، تو ایسے کرو، جیسے غلام اپنے آقا سے کرتا ہے۔‘‘

سلسلۂ نسب

آپؓ کا سلسلۂ نسب یہ ہے۔ ثابت بن قیس بن شماس بن زہیر بن مالک بن امرء القیس بن مالک بن اعز بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر۔

قبولِ اسلام

حضرت ثابت بن قیسؓ مدینہ منورہ کے سب سے معزّز، مشہور اور بڑے قبیلے، خزرج کے سرداروں میں سے تھے۔ ذہانت، فطانت، فہم و فراست، علم و حکمت، شیریں کلامی، حاضر جوابی، زورِ خطابت میں اُن کا ثانی نہیں تھا۔ بھاری، بلند، بارُعب آواز اور خُوب صورت، پُراثر تقاریر کا فن تحفۂ خداوندی تھا، جس کا بھرپور استعمال کرتے۔نیز، وہ مدینے میں اوّلین ایمان لانے والوں میں سے ایک تھے۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ کے موقعے پر آنحضرتؐ نے ایک نوجوان صحابی، حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب میں مسلمانوں کا پہلا سفیر اور اسلام کے مبلّغ کے طور پر بھیجا، جنھوں نے نہایت جوش و خروش سے اسلام کی تبلیغ کی۔ وہ جلد ہی اپنے ایمان افروز خطابات اور مکارمِ اخلاق کی وجہ سے مبلّغ، معلّم اور استاد کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ حضرت ثابت بن قیسؓ اُن کی محفلوں میں بیٹھتے اور قرآنِ کریم کی آیاتِ کریمہ سُن کر اُن پر غوروخوض کرتے، پھر ایک دن اُنہوں نے حضرت مصعبؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔

مرحبا! اے تاج دارِ مدینہؐ

امام الانبیاءؐ، تاج دارِ مدینہؐ، نبیٔ رحمتؐ، حضور رسالتِ مآبﷺ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اہلِ مدینہ شہر سے باہر آپؐ کے استقبال کے لیے صف بستہ تھے۔ اہلِ انصار کی بچّیاں بڑے ذوق و شوق، احترام و عقیدت کے ساتھ خُوب صورت اشعار پڑھ رہی تھیں۔ مدینے کی فضا خوشبوئوں سے مہک رہی تھی۔ قبیلہ خزرج کے گھڑ سواروں کا ایک بہت بڑا دستہ، حضرت ثابت بن قیس ؓکی زیرِ قیادت دنیا کی سب سے عظیم المرتبت شخصیت کے فقیدالمثال استقبال کے لیے چاق چوبند کھڑا تھا۔ اللہ کے رسولؐ اپنے یارِ غار، حضرت صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، تو حضرت ثابت بن قیسؓ نے اہلِ مدینہ کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہوئے ایک فصیح و بلیغ خطبہ دیا، جس کے اختتام پر اُنہوں نے کہا’’اے اللہ کے سچّے رسولؐ! ہمارے والدین اور ہم آپؐ پر قربان، ہم اہلِ مدینہ، اللہ کو حاضر ناظر جان کر آپؐ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی جان و مال سے زیادہ آپؐ کی اور آپؐ کے رفقاء کی حفاظت کریں گے اور تبلیغِ اسلام میں آپؐ کے معاون و مددگار بنیں گے۔ کیا اس کے عوض اللہ ہمیں کسی انعام سے نوازیں گے؟ اللہ کے محبوبؐ، نبیوں کے امامؐ، خلقِ مجسمؐ، خاتم المرسلینؐ، رحمت اللعالمینؐ کے رُخِ انور پر ایک رُوح پرور مسکراہٹ آئی اور آپؐ نے جس انعام کا اعلان کیا، وہ اہلِ ایمان کے لیے وہ تحفۂ عظیم ہے کہ جس کے حصول کی خواہش اور آرزو ہر مسلمان کے لبوں پر دعائوں کی صورت مچلتی رہتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’جنّت‘‘۔ اس اعلان نے اہلِ مدینہ کے چہروں کو خوشی سے منور کر دیا اور وہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔

خطیبِ رسول اللہؐ

حضرت ثابت بن قیسؓ کو اللہ نے تقریر و تحریر کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا اور پھر آواز بھی بارُعب، گونج دار اور سپاٹ تھی۔ جب بات کرتے، تو اندازِ تکلّم، بلندیٔ آواز اور مدلّل گفتگو مخاطب کو بات سُننے پر مجبور کر دیتی۔ خطاب کرتے، تو تقریر کا جادو سر چڑھ کر بولتا اور الفاظ کی روانی، جملوں کی ترتیب و تشبیہات، آواز کا اُتار چڑھائو اس بہتے پُرزور دریا کی مانند ہوتا، جو اپنے سامنے آئی ہر چیز بہا لے جاتا ہے۔ پھر سُننے والا خطابت کے طلسم میں محو ہو کر جملوں کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا اور تقریر کے اختتام پر حضرت ثابت بن قیسؓ کا معتقد ہو جاتا۔ اہلِ مدینہ کی ہر تقریر، ہر وعظ اور ہر خطاب حضرت ثابتؓ سے شروع ہوتا اور ان ہی پر اختتام ہوتا۔ شروع میں اہلِ مدینہ نے اُنہیں’’خطیبِ انصار‘‘ کا خطاب دیا تھا، لیکن جب اُنہوں نے اپنے آپ کو تبلیغِ دین اور خدمتِ نبویؐ کے لیے وقف کر دیا، تو پھر وہ’’خطیبِ رسول ا للہ ؐ ‘‘ کے لقب سے یاد کیے جانے لگے۔

کاتبِ وحی

حضرت ثابت بن قیسؓ مدینہ منورہ کے پڑھے لکھے لوگوں میں شامل تھے اور اُنھیں فنِ تقریر کے علاوہ تحریر میں بھی کمال حاصل تھا۔ خوش خط، پختہ، صاف اور روشن تحریر اُن کی خاص پہچان تھی۔ رسول اللہؐ نے اُنہیں’’ کاتبِ وحی‘‘ کے منصب پر فائز فرمایا، تو وہ خُوب صُورت انداز میں آیاتِ مبارکہ کی کتابت کرنے لگے۔

حضرت ثابتؓ کی فضیلت

ہجرت کے آٹھویں سال فتح ِمکہ کے بعد رسول اللہؐ واپس مدینہ منورہ آئے، تو پورے عرب سے لوگ وفود کی صورت اسلام قبول کرنے کے لیے جُوق در جُوق آنے لگے، اُن ہی میں یمامہ سے بنو حنیفہ کا آنے والا وفد بھی شامل تھا، جس کی قیادت مسیلمہ کذّاب کر رہا تھا۔ اُس وفد نے مدینے میں15روز قیام کیا۔ وفد کے تمام لوگ روزانہ آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حضرت ابی بن کعب ؓسے قرآنِ کریم کی تعلیم لیتے، لیکن مسیلمہ مال و اسباب کی حفاظت کے بہانے اپنی رہائش گاہ ہی پر رہتا۔ اُس نے بہ ظاہر تو اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن وہ بڑا کینہ پرور، منافق اور متکبّر انسان تھا۔ اللہ کے رسولؐ کی سادگی، مسلمانوں کی عاجزی و انکساری اُسے پسند نہ آئی۔ اُس کے ذہن میں تو مسلمانوں کے بادشاہ کا تصوّر قیصر و کسریٰ جیسا تھا، چناں چہ اُس نے اسلام کو دِل سے قبول نہ کیا۔ ایک دن آنحضرتؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ سے فرمایا کہ آج بنو حنیفہ کے وفد سے ملاقات کریں گے، پھر آپؐ اُن کی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔ مسیلمہ بن حبیب کذّاب، آپؐ سے مختلف سوالات پوچھتا رہا۔ آخر میں آنحضرتؐ نے فرمایا ’’اے مسیلمہ! یہ ثابت بن قیسؓ ہیں، جو میری طرف سے تجھ کو سوالوں کے جواب دیں گے۔‘‘ یہ کہہ کر آپؐ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو وہاں چھوڑا اور خود تشریف لے گئے(بخاری، مسلم)۔

حضرت ثابتؓ کا ولولہ انگیز خطاب

مسیلمہ، مدینہ منورہ سے اپنے وطن یمامہ پہنچا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ یہاں تک کہ اُس نے آنحضرتؐ کو خط لکھا کہ’’نبوت میں آپ اور میں دونوں شریک ہیں، لہٰذا نصف مُلک قریش کا اور نصف میرا رہے گا۔‘‘ رسول اللہؐ نے اس کا جواب لکھوا کر بنو حنیفہ کے ایک شخص رجال بن عنفوہ کے ذریعے اُس تک پہنچوایا(تاریخِ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی)۔آپؐ کی رحلت کے بعد سیّدنا صدیقِ اکبرؓ نے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے عکرمہؓ بن ابی جہل کو روانہ کیا، لیکن وہ شکست کھا گئے۔ اس کے بعد آپؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو13ہزار کا لشکر دے کر روانہ کیا، جس میں حضرت ثابت بن قیسؓ بھی شامل تھے۔ مسیلمہ کذّاب نے یمامہ میں40ہزار سے زیادہ جنگجو جمع کر رکھے تھے۔ جنگ کے دَوران ایک لمحہ وہ بھی آیا کہ جب مسیلمہ کے جنگجو، مسلمانوں پر بھاری پڑ گئے، ایسے میں حضرت ثابت بن قیسؓ نے ایک پُرجوش اور ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے مجاہدین کا لہو گرما دیا، جس سے اُن کے حوصلے بلند ہو گئے۔

شہادتِ مردِ مومن

دوسرے دن کا سورج طلوع ہوا، تو یمامہ کے آسمانوں نے عزم و ہمّت اور جذبۂ جہاد کا ایک ایمان افروز منظر دیکھا، جس نے جنگ کا پانسا ہی پلٹ دیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ نے سر سے کفن باندھا، کچھ اور صحابہؓ کو ساتھ لیا اور بپھرے شیر کی طرح دشمنوں پر حملہ آور ہو گئے۔ حضرت ثابتؓ کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ وہ دشمنوں کی لاشوں کا ڈھیر لگاتے تنِ تنہا اُن کی صفوں کو چیرتے دُور تک نکل گئے۔ یہاں تک کہ دشمنوں نے اُنہیں چاروں طرف سے گھیر کر شہید کر دیا۔ حضرت ثابت بن قیسؓ کی اس شہادت نے مجاہدین میں شوقِ شہادت کو بیدار کر دیا اور پھر اُنہوں نے اللہ کی تائید و نصرت کے سائے میں متحد ہو کر نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کی فوج پر بھرپور حملہ کر دیا۔ اللہ نے فتح نصیب فرمائی۔ وحشی (حضرت حمزہؓ کے قاتل) نے اپنا نیزہ پھینکا، جو مسیلمہ کذّاب کی زرہ کو چیرتا ہوا اس کے جسم کے آر پار ہو گیا اور وہ جہنم رسید ہو گیا۔ جنگِ یمامہ ماہ ذی الحجہ11ہجری میں ہوئی (تاریخِ اسلام، اکبر شاہ نجیب آبادی)۔

حضرت ثابتؓ کی خواب میں وصیّت

حضرت ثابتؓ لڑائی کے وقت ایک نہایت نفیس اور عمدہ زِرہ زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ جب شہید ہو گئے، تو کسی نے اُن کے جسم سے زِرہ اُتار کر اپنے خیمے میں چُھپا لی۔ شہادت کی دوسری رات، ایک شخص کے خواب میں حضرت ثابتؓ آئے اور فرمایا’’مَیں ثابت ؓبن قیس ہوں، کیا تم نے مجھے پہچان لیا؟‘‘ وہ بولا’’ہاں۔‘‘ حضرت ثابتؓ نے فرمایا’’مَیں تجھے ایک وصیّت کر رہا ہوں، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تُو اسے خواب جان کر خاطر میں نہ لائے۔ جب کل میں شہید کر دیا گیا، تو فلاں شخص میرے پاس سے گزرا اور میری زِرہ اُتار کر اپنے خیمے میں لے گیا، اس کا خیمہ فلاں سمت میں واقع ہے۔ اُس شخص نے میری زِرہ اپنی دیگ میں رکھ کر اُس کے اوپر اونٹ کی کوہان پر رکھے جانے والے لکڑے رکھ دیے ہیں۔ تم خالد بن ولیدؓ کے پاس جائو اور اُن سے کہو کہ اس شخص سے زِرہ حاصل کر لیں۔ مَیں تمہیں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور دوبارہ متنبّہ کرتا ہوں کہ اسے خواب سمجھ کر ضائع نہ کرنا۔ خالدؓسے کہنا کہ جب تم مدینہ منورہ پہنچ کر خلیفۃ المسلمین سے ملو، تو اُن سے کہنا کہ ثابت بن قیسؓ پر اتنا قرض ہے اور فلاں، فلاں میرے غلام ہیں، لہٰذا میرے قرض کی ادائی کروا دیں اور میرے غلام آزاد کر دیں۔‘‘ وہ شخص نیند سے بیدار ہوا اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو، جو کچھ دیکھا اور سُنا تھا، کہہ سُنایا۔ تمام باتیں سُن لینے کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک صحابی کو زِرہ لانے کے لیے بھیجا اور وہ زِرہ نشان دہی کی ہوئی جگہ پر مل گئی۔جب حضرت خالدؓ مدینہ منورہ لَوٹ کر آئے، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تمام حالات کہہ سُنائے اور حضرت ثابت بن قیسؓ کی خواب میں کی گئی وصیّت سے بھی آگاہ کیا، جس پر صدیق اکبرؓ نے وصیّت پوری کر دی۔ اللہ، حضرت ثابت بن قیسؓ سے راضی ہوااور وہ اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے اُن کا ٹھکانہ اعلیٰ علیین میں بنایا (نجومِ رسالت، ڈاکٹر عبدالرحمٰن پاشا)۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں