قاہرہ(رائٹرز) مصری رکن پارلیمنٹ توفیق عکاشہ کو اسرائیلی سفیر کے ساتھ عشائیہ کرنا مہنگا پڑ گیا، پہلے انہوں نے اسرائیلی سفیر حائم کورین کے ساتھ اپنے گھر میں ڈنر کیا بعد میں ایوان میں داخل ہوتے ہی جوتے کھانے پڑے۔ قانون دان کمال احمد نے توفیق کے ایوان میں داخل ہوتے ہی ان کے سر پر جوتا دے مارا اور ان کی رکنیت معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز مصری پارلیمنٹ کے عمومی اجلاس میں رکن پارلیمنٹ کمال احمد علی نے ہاتھ میں جوتا لے کر اپنے ساتھی رکن پارلیمنٹ اور میڈیا پرسن توفیق عکاشہ پر حملہ کردیا۔ کمال احمد پہلے سے تیار بیٹھے تھے اور جوں ہی عکاشہ پارلیمنٹ کے ہال کے اندر داخل ہوئے کمال نے اپنا بُوٹ اتار کر عکاشہ کے سر پر دے مارا۔ اس پر دیگر ارکان پارلیمنٹ فوری طور پر حرکت میں آئے اور مداخلت کرکے دونوں ارکان کو ممکنہ طور پر گتھم گتھا ہونے سے روک دیا۔واقعے کے بعد کمال احمد علی کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی اس حرکت پر کوئی ندامت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ مجھ پر تنقید کررہے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا مجھے جوتے کے بجائے پھول مارنا چاہیے تھا؟کمال احمد نے واضح کیا کہ توفیق عکاشہ نے بدھ کے روز اسرائیلی سفیر سے ملاقات کی، انہیں عشائیہ دیا، اسے ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا۔ کمال احمد نے کہا کہ توفیق نے اپنے ایک بیان میںسابق صدر جمال عبدالناصر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں غدار بھی قرار دیا تھا لہذا احتجاجاً میں نے یہ کام کیا۔مصری پارلیمنٹ نے اپنے اجلاس میں توفیق عکاشہ کی اسرائیلی سفیر سے ملاقات پر بحث کا باب بند کرتے ہوئے انہیں تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔دوسری جانب توفیق عکاشہ نے خود کو ملامت کا نشانہ بنائے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ان کی سرزنش نہیں کرسکتا۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا مصر اور مصری عوام کے مفاد کے نکتہ نظر سے کیا۔ توفیق عکاشہ نے جو خود بھی ایک میڈیا پرسن ہیں اپنے نجی سیٹلائٹ چینل الفراعین کے ایک پروگرام میں اس ردعمل کا اظہار کیا۔