• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:  محمد اسلام علی شاہ
کرپشن کسی ملک میں ایک ناسور ہوتا ہے جس سے ملک ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جاتاہے۔ کرپشن چاہے اخلاقی ہو یا مالی ہو۔ دونوں کسی بھی ملک کے لئے تباہی کا باعث ہوتی ہیں ۔ اخلاقی کرپشن ملک کی تہذیب کو تباہ کردیتی ہے اور مالی کرپشن ملک کی معیشت کو تباہ کردیتی ہے ۔ ہمیشہ سے ملک کے وفادار شہری ہر قسم کی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے ہر ملک میں اپنے اپنے ادارے بنائے ہوئے ہیں جو عدل و انصاف کے ساتھ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور بلا تفریق احتساب کرتے ہیں ۔ اسلامی تاریخ میں بھی کئی واقعات ملتے ہیں جن سے خلیفہ وقت اس قدر عدل و انصاف کے ساتھ احتساب کرتا ہے کہ اگر اس کے اپنے رشتہ داروں کے خلاف بھی اگر کوئی فیصلہ آتا ہے تو اس کو قبول کرتے ہیں اور اس کو سزا دیتے ہیں ۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے اور کون نہیں ۔ جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کئی واقعات تاریخ اسلام میں آج بھی سنہری حروف کے ساتھ موجود ہیں جو مسلم حکمرانوں کو انداز حکمرانی سکھاتے ہیں۔اور انکے ان فیصلوں نے آج تک انکی ذات اور ان کے نام کو روشن رکھا ہوا ہے۔ مسلم تو مسلم غیر مسلم بھی ان کے طرز حکمرانی اور احتساب کے عمل کے معترف ہیں۔یاد رہے کہ احتساب کے عمل میں سب سے اہم رکن عدل ہے ۔ قرآن کریم جا بجا عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ کبھی کہتا ہے عدل کرو یہ تقوی کے زیادہ قریب ہے۔ اور کبھی کہتا ہے ترازو کو انصاف کے ساتھ رکھو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل و انصاف کرنے والے حاکم کو قیامت کے دن عرش خداوند کے سائے میں مخصوص نشست کی خوشخبری دی ہے۔ جہاں سورج سر وں پر ہوگا اور سائے کے لئے مخلوق ترس رہی ہوگی۔ پیاس کی شدت سے پانی کی طلبگار ہوگی مگر یہ عدل و انصاف کا پیکر جج اور حکمران حوض کوثر کے جام پی کر اپنی پیاس بجھا رہا ہوگا۔ اس لئے تاریخ اسلام میں مسلم حکمران آخرت کی کامیابی کے لئے سخت احتساب کے عمل کا سامنا کرتے رہے ہیں مگر افسوس کہ پاکستان جو کہ ایک اسلامی ملک ہے جہاں پر کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی پروگرام حکومت کی سطح پر نہیں صرف ایک ادارہ ہے جسے احتساب کا ادارہ کہتے ہیں ۔ جس کو ایک ادارے کے حوالے کردیا گیا ہے جو سیاسی انتقام اور سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جس سے کرپشن ختم نہیں ہوئی مگر انتقام کی آگ ضرور بھڑکتی رہی ہے ۔ ایک جماعت اقتدار میں اسٹیبلشمنٹ کے سہاروں پر آتی ہے تو وہ اپوزیشن جماعت کو کرپشن کے نام پر اور احتساب کے ادارے کے ذریعے میڈیا ٹرائل کے ساتھ احتساب عدالتوں کے چکر لگواتی رہتی ہے۔ کبھی جیل کی سلاخوں میں بند کرواکر اپنے بڑوں کے دلوں کو تسکین پہنچاتے ہیں ۔مگر اس طریقے سے حکمرانوں کو کمزور اپوزیشن تو مل سکتی ہے ۔ اور بڑوں کے دل کو تسکین تو مل سکتی ہےمگر اس انداز سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا ۔تو کرپشن کس طرح ختم ہوگی ؟ کرپشن کے خاتمہ کا طریقہ ایک طریقہ تو وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا کہ قوم کی ذہن سازی کی جائے اور سمجھایا جائے کہ کرپشن ایک ناسور اور دنیا اور آخرت کی رسوائی کا ذریعہ ہے۔ میڈیا اور سکولوں میں ہر بچے کی ذہن سازی کرتے ہوئے ان میں ان دو باتوں کا شعور پیدا کیا جائے ایک خوف خدا اور دوسری فکر آخرت ۔ یہ دو چیزیں ہر چھوٹے اور بڑے کے ذہن میں یوں داخل کی جائیں کہ ہر کام سے پہلے ہر انسان سوچے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے وہ میرے ساتھ ہے ۔ اگر میں کوئی بھی غلط کام کروں گا تو مجھے دنیا میں بھی سزا دےسکتاہے ۔ وہ کرپشن کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑوا سکتا ہے یا کوئی جانی نقصان اولاد میں یا کاروبار میں یا زندگی کے کسی دوسرے موقع پر دے سکتا ہے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے کن کرتا ہے تو فیکون ہوجاتا ہے۔ قوم عاد وثمود ، قوم لوط اور قوم نوح کی تباہی و بربادی اور نمرود اور فرعون جیسی سپر طاقتوں کی بربادی اور غرقابی بتا کر خوف خدا دل و دماغ میں بٹھایا جائے اور مرنے کے بعد کل قیامت کے دن زبانوں پر تالا بندی کا ہونا اور گناہ کرنے والے اعضاء کا انسان کے خلاف شاہد بن جانا اور پوری انسانیت کے سامنے رسوائی اور پھر آگ اور زمھریر والی جیل میں قید جہاں کھانے کے لئے زقوم اور پینے کے لئے گرم ابلتا ہوا پانی، خون او پیپ مہیا ہوگی۔ اس فکر آخرت کے شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر یہ شعور پاکستانی قوم میں بیدار ہوگا تو کرپشن کا خاتمہ خود بخود ہوجائے گا ۔ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یہ کام شروع کردینا چاہئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہی چیز لوگوں کے دلوں میں پیدا کردی گئی تھی جس کی وجہ سے ہر شخص اپنے آپ کو ہر قسم کی کرپشن سے بچا کررکھتا تھا۔ پھر بھی انسان تھے اگر خدانخواستہ کوئی کسی جرم کا ارتکاب کر بھی لیتا تو فورا اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر دیتا ۔ بسا اوقات اس جرم کی سزا قتل بھی ہوتی مگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو خود پیش کردیتے تاکہ آخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی اور سزا سے بچ جائیں ۔دوسری چیز جو کرپشن کا خاتمہ کرنے کا باعث بن سکتی ہے ۔ وہ یہ کہ احتساب کا ایک ایسا ادارہ ہو جس میں پارلیمنٹ ، عدلیہ ، فوج ، وکلاء ، علماء اور میڈیا کے لوگ شامل ہوں اور جس کی کارروائی بالکل کھلے عام میڈیا پر جاری کی جائے۔ جو بلا تفریق سیاستدانوں ، ججوں، افواج ، پولیس حتی کہ ہر ادارے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرے اور مجرموں کو سزا دے۔ ساتھ ہر ادارے کے غلط فیصلوں کا احتساب بھی یہی ادارہ کرے ۔ یہ سپریم ادارہ ہو وزیر اعظم، سربراہان افواج، ججوں کے غلط فیصلوں اور پولیس کے غلط کیس بنانے ، ماوارائے عدالت قتل کیسوں کا بھی احتساب کرنے کا مکمل حق اس ادارے کو دیا جائے۔ اس ادارے کے لئے قانون سازی پارلیمنٹ ہی کرے مگر اس کی آزادی پر کسی کو بالادستی نہ ہو۔ کسی ایک ادارے کے تحت احتساب نہیں ہونا چاہئے۔ جب سے احتساب ایک ادارے کے تحت ہوا ہے اس سے احتساب کا عمل شفافیت کی بجائے انتقام کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ جھوٹے الزام لگانے کو بھی قانونا جرم قرار دیا جائے جو آدمی کسی شہری پر جھوٹا الزام لگائے تو اس کو سخت قسم کی تعزیر دی جائے۔ اس کے لئے سخت قانون سازی ہونی چاہئے۔ یہ چند گذارشات ہیں آگے دوسروں تک پہنچائی جائیں اگر اللہ نے چاہا تو وہ دن دور نہیں جس دن ہمارا ملک کرپشن سے پاک ملک ہوگا۔
تازہ ترین