آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں اعتراف کرنے والے دونوں ملزمان اپنے بیان سے مکر گئے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملزمان خالد شمیم اور محسن علی کے بطور ملزم بیانات ریکارڈ کرلئے۔

دونوں ملزمان نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنے اعترافی بیانات سے مکرگئے،انہوں نے بیان سے قبل تشدد کا الزام بھی عائد کیا۔

ملزمان کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ نے تفتیشی افسرکی ہدایت پر بیان ریکارڈ کیا، کوئی اعترافی بیان نہیں دیا،پہلےسےتیار اعترافی بیان پر مجسٹریٹ نے دستخط کیے اور مہر لگائی۔

ملزم خالد شمیم نے اپنے بیان میں کہا کہ بیان سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مجسٹریٹ نے میری مرضی کے خلاف تفتشی افسر کی ہدایت پر بیان ریکارڈ کیا۔

ملزم محسن علی نے کہا کہ اس نے مجسٹریٹ کو کوئی اعترافی بیان ہی نہیں دیا بلکہ ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے باوجود اعترافی بیان دینے سے انکار کر دیا تھا۔

مجسٹریٹ کو اس متعلق شکایت کی مگر مجسٹریٹ نے پہلے سے تیار اعترافی بیان پر دستخط کیے اور مہر لگائی۔

عدالت نے بطور ملزم بیان ریکارڈ کرنے کے لیے سوالنامہ فراہم کیا تھا، جن کے جوابات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کرائے گئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں