• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شائقین علوم قرآنی کیلئے انمول تحفہ

تحریر:قاری عبدالرشید…اولڈہم
مختصر ترین خلاصہ امام المفسرین حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا ہمارے استاد پڑھاتے تھے کہ قرآن مجید کے کل تین حصے ہیں۔پہلا حصہ عبادت صرف اللہ تعالٰی کی، دوسرا حصہ اطاعت حضرت محمد رسول اللہﷺ کی۔ تیسرا حصہ خدمت خلق خدا کی کرنے پر مشتمل ہے۔یعنی عبادت و اطاعت اور خدمت خلق کے گرد سارا قرآن کریم گھومتا ہے۔دوسرا خلاصہ امام الموحدین حضرت مولانا حسین علی الوانی رحمہ اللہ (المعروف حضرت صاحب ) کی طرز پر پڑھاتے تھے ۔حضرت صاحب مرحوم کے نزدیک قرآن مجید کے کل چار حصے ہیں اور ہر حصہ الحمد سے شروع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ سورہ فاتحہ کی الحمد سے شروع ہو کر سورہ مائدہ کے آخر تک جاتا ہے۔اس میں مرکزی مضمون خالقیت باری تعالی بیان ہے۔دوسرا حصہ سورہ انعام سے شروع ہوکر سورہ بنی اسرائیل کے آخر تک جاتا ہے ۔اس میں مرکزی مضمون ربوبیت باری تعالی کا بیان ہے۔تیسرا حصہ سورہ کہف سے شروع ہو کر سورہ احزاب کے آخر تک جاتا ہے اس میں مرکزی مضمون مالکیت باری تعالی بیان ہورہا ہے اور چوتھا حصہ سورہ سبا سے شروع ہو کر سورہ الناس کے آخر تک ہے اس میں مرکزی مضمون غیر اللہ سے ’ شفیع قہری‘ کی نفی بیان ہو رہا ہے (ایک سوال کا جواب) سوال یہ ہے کہ سورہ فاطر بھی تو الحمد سے شروع ہوتی ہے؟اس لحاظ سے الحمد سے شروع ہونے والے حصے چار کی بجائے پانچ ہوگئے ۔جواب اس کا یہ ہے کہ چوتھے حصے میں دو مضامین بیان کئے گئے ہیں ایک یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی کے سامنے کوئی شفیع قہری(زور سے اپنی سفارش منوانے والا)کوئی نہیں ہو گا اور دوسرا یہ کہ عبادت اور غائبانہ پکار صرف اللہ کی ہی چاہئے کسی اور کی نہیں ۔اس طرح یہ دونوں سورتیں آپس میں بھی مرتبط ہو گئیں ۔یعنی جب خدا کے سامنے کوئی شفیع قہری نہیں تو پھر عبادت و پکار بھی اس کے سوا کسی کی نہیں چاہیے ۔ چنانچہ سورہ سبا میں شفاعت قہری کی نفی کی گئی ہے۔پھر سورہ یاسین ۔صآفات و صآد تینوں اس پر متفرع ہیں۔یاسین میں فرمایا کہ ہم نے بدکردار قوموں کو پکڑا ان کو ہماری پکڑ سے کسی نے نہ چھڑایا آگے صآفات میں فرمایا چھڑانا تو درکنار جن کے بارے میں اللہ سے اپنی سفارش کے زور پر چھڑوا لینے کا زعم ہے وہ تو خود اللہ تعالٰی کے سامنے زاری اور عجز و نیاز کا اظہار کر رہے ہیں ۔صآد میں بتایا کہ نہ صرف زاری بلکہ اللہ کی طرف سے بعض جسمانی مصائب میں خود گرفتار ہوئے ہیں۔ اسی طرح سورہ فاطر میں عبادت و پکار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے ۔اور سورہ زمر اور حوامیم سبعہ میں اس کی وضاحت کی گئی ہے اور شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔ سورہ سبا چونکہ سورہ یاسین صآفات اور صآد کا مبداء تھی اور سورہ فاطر سورہ زمر اور حوامیم سبعہ(سات سورتیں جو حم سے شروع ہوتی ہیں )کا مبداء تھی اس لئے ان دونوں سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوا ہے۔ (خلاصہ قرآن کا تیسرا انداز) جو کچھ سارے قرآن کریم میں بیان ہے اس کا خلاصہ ۔حوامیم سبعہ (سات سورتیں جو حم سے شروع ہوتی ہیں )میں بیان ہے اور ان سات سورتوں کا خلاصہ حم مومن میں بیان ہے ۔سورہ مومن کا خلاصہ اس کی آیت ۔فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین (خالص اللہ ہی کو پکارو) میں بیان کیا گیا ہے اور اس آیت کا خلاصہ سورہ فاتحہ میں ذکر ہے اور فاتحہ کا خلاصہ ایاک نعبد وایاک نستعین میں بیان ہوا ہے ۔اس آیت کا خلاصہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ' میں مذکور ہے اور بسم اللہ کا خلاصہ اس کی ابتدا میں جو باء ہے اس میں ہے ۔گویا سارے قرآن کریم کا اصل مقصد اس باء استعانت سے معلوم ہو جاتا ہے ۔اس بآء کا متعلق مخذوف ہے اور اصل عبارت اس طرح ہے ۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔استعینوا متعلق مخذوف آخر میں اس لئے نکالا گیا ہے تا کہ حصر کا فائدہ دے۔ای بسم اللہ استعینوا خاصتا لا بما اشرک بہ المشرکون فی زعمھم وادعوہ خاصتا لاغیر۔یعنی صرف اللہ ہی کے نام سے استعانت (مدد مانگو ) کرو۔اور اللہ ہی کو غائبانہ حاجات میں پکارو۔اور مشرکین نے جن کو اللہ کا شریک بنا رکھا ہے۔ان سے استعانت نہ کرو اور نہ ہی ان کو پکارو۔آئمہ نماز تراویح سے گزارش ہے کہ روزے کی طوالت اور لوگوں کی جسمانی و روحانی صورتحال کو ملحوظ رکھ کر تراویح کی نماز میں منزل پڑھیں ۔رکعات بھی برابر رکھیں اور ان میں زیادہ منزل پڑھنے سے گریز کریں جلدی ختم کرنے کی مرض نے نمازیوں کو تراویح میں قرآن پاک سننے سے محروم کر رکھا ہے اس کا ادراک کریں ۔جب تراویح کی نماز باجماعت پورا ماہ ہے تو جلدی کس بات کی؟ بعض آئمہ ابتدائی رکعات لمبی کرکے آخری مختصر کرتے ہیں جس سے نمازی نماز اور قرآن نامکمل چھوڑ کر مسجد سے چلے جاتے ہیں بتائیں اس کا ذمےدار کون ہے؟تھکا کر آرام دینا بہتر ہے یا بغیر تھکائے پوری نماز پڑھوا دینا بہتر ہے۔
تازہ ترین