آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان میں آئین کی بالا دستی اور ووٹر کی عزت کو یقینی بنانے کے لئے سستی سے جاری احتسابی عمل میں تیزی آئی ہے۔ تیزی ہی نہیں یہ بااعتبار، شفاف اور نتیجہ خیز ہوتا معلوم دے رہا ہے۔ اس کے دو مراحل تو بہت واضح ہو چکے ہیں۔ پہلا، وکلاء کی ملک گیر تحریک کے نتیجہ خیز ہونے کی صورت میں، جیسا کہ بالائی عدلیہ کی سطح پر ’’قیومی اور ڈوگری‘‘ طرز کی عدلیہ کی بیخ کنی تو نہیں سخت حوصلہ شکنی ضرور ہوئی، آمریت کے زیر عتاب آئے جج صاحبان بحال ہوئے اور ملک میں کافی حد تک سپیریئر کورٹس کا اعتبار و احترام بڑی حد تک بحال ہوا، جس کے فالو اَپ میں، منتخب وزیراعظم کو آئین و قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے پر اپنے اعلیٰ ترین منصب سے الگ کیا گیا۔ حکومتی دھما چوکڑی پر جوڈیشل ایکٹیو ازم سے ایک حد تک قابو پایا گیا۔ مالی پر تو نہیں، یہ قابو انتظامی اختیارات سے تجاوز کے ہی حوالے سے تھا، وہ بھی کوئی مکمل نہیں لیکن عدلیہ کے اعتبار و وقار بڑھنے کی ا ک صورت بہرحال نکلی۔

آئین کا حلیہ درست کرنے میں پی پی اور نون لیگ کی مشترکہ پارلیمانی کوششوں میں پی پی پر تو نہیں، نون لیگ پر یہ دبائو کام کر گیا کہ نیب کے ادارے کو ختم کر دیا جائے یا کم از کم اس کے ’’کالے قوانین‘‘ (اسٹیٹس کو کی نظر میں) کو تبدیل کرکے نیب کے بال و پر کاٹ دئیے جائیں لیکن نون لیگ عمران خان کے احتساب ایجنڈے کو عوام اور میڈیا کی بھرپور معاونت کو درست طور پر بھانپ کر اس طرف نہیں آئی، یوں پی پی اور نون لیگ کی پارلیمانی کوشش 18ویں ترمیم تک ہی محدود رہی۔ یوں ’’احتساب‘‘ ایک ترجیحی ضرورت کے طور پر واضح ہوتا عوامی خواہش میں تبدیل ہونے لگا، جو ایک ارتقارئی کیفیت تھی۔ جب احتساب کی قبولیت بڑھنے لگی تو اپنے سیاسی وقار کا بھرم رکھنے کے لئے احتسابی عمل سے نالاں پر بھی اس کی مشروط تائید کرنا لازم ہوگیا۔ جب سیاسی و صحافتی ابلاغ میں بھی اس (احتساب) کی فریکوینسی بڑھنے لگی تو برکت کے امکانات پیدا ہوئے۔ آج پاکستان جتنے بھی بڑے اقتصادی اور انتظامی بحران سے دوچار ہے، قوم پُرامید ہے، اس نے ان شاء اللہ اس گمبھیر اور تشویشناک صورتحال سے بالآخر نکل جانا ہے۔ کیسے؟ ایسے کہ آئینی حوالے سے اسلامی جمہوریہ میں جاری اور بڑھتے احتسابی عمل کی حقیقت بڑی جاندار، شفاف اور نتیجہ خیز بن چکی ہے اور اب یہ مکمل ثابت شدہ ہے۔

اس سے بھی بڑی حقیقت یہ ہے کہ عالمی آبادی کی بھاری اکثریت کو شیطانی پنجے میں جکڑی انڈر ورلڈ کے مقابل ایسے قدرتی حالات اور قوتیں پیدا ہو چکی ہیں جو اس کے مقابل آن کھڑی ہوئیں اور انہوں نے اپنا کام بھی دکھانا شروع کر دیا۔ یہ وکی لیکس، قومی طور پر کچلی گئی آکو پائی وال اسٹریٹ موومنٹ، پاناما لیکس، فقط بینکنگ پر دنیا بھر کے کرپٹ حکمرانوں کی لوٹی دولت کا محفوظ ٹھکانہ بننے والے امیر و کبیر سوئٹرر لینڈ منی لانڈرنگ سے محفوظ کئے گئے مسروقہ سرمائے کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون سازی، اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسدادِ کرپشن کا بذریعہ منظور قراردادوں عالمی ایجنڈا بن جانا۔ یہ سب کچھ انڈر ورلڈ کے خلاف مزاحمت کا آغاز نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ اپنی جگہ کہ پلہ ابھی بھی انڈر ورلڈ کا ہی بھاری ہے لیکن مقابل قوت کے جینوئن اور نیک ہونے کے باعث انڈر ورلڈ بھی پوری شدت سے چیلنج ہو کر ایک محدود ڈگری پر نتیجہ خیز ہو چکی ہے۔ اب یہ ڈگری بڑھتی جا رہی ہے۔

داخلی سیاست کے جھمیلوں سے قطع نظر، الحمدللہ! پاکستان انڈر ورلڈ کے ہی تعاون و اشتراک سے قائم ہوئے اسٹیٹس کو کو مکمل تو پچھاڑ نہیں سکا تاہم اس پر غالب آچکا ہے اور ملک میں انڈر ورلڈ کا بینی فشری مافیا زیر عتاب ہے جس کے ناکام ہو کر رکنے کے امکانات ختم ہوا چاہتے ہیں کہ اب ملک میں جاری و احتسابی عمل کا دائرہ آئینی و قانونی ذرائع اختیار کرتے ہوئے جرنیلوں اور ججز تک بڑھ چکا ہے، جن کے مقدس گائے ہونے کا سوال اٹھا کر اسٹیٹس کو کے احتساب مخالف، بینی فشری جاری احتسابی عمل کو مشکوک و بے اعتبار بنانے کے لئے بطور دلیل استعمال کرتے تھے، جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا تھا، لہٰذا یہ زبان زد عام ہوئی۔ آج ملک میں جو احتسابی عمل اپنے بڑے نتائج دیتا ہوا جاری ہے اس کا اعتبار اور دائرہ دونوں بڑھ رہے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے وزیراعظم کا اپنی جماعتوں کی حکومت میں ہی سزا پا کر عہدوں سے الگ ہونا کمال کا آئینی عمل رہا اور اس کی استقامت نے مطلوب احتسابی عمل کے دروازے کھول دئیے جس میں حکمران جماعت کے سرکردہ رہنما بھی زد میں آئے اور میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ سوال بجا طور پر اٹھایا گیا کہ فقط سیاستدان اور چند معاون بیوروکریٹ ہی کیوں؟ بار بار نشاندہی ہوئی کہ جج اور جنرلز کیوں نہیں؟ یعنی بالائی مقتدر طبقات کو احتساب کے لئے مطلوب جانا گیا، اب اس دبائو یا آئین کی مکمل بالادستی میں بات جرنیلوں اور ججز تک آگئی ہے تو کوئی جواز نہیں ہے کہ وکلاء کی تنظیمیں کسی بھی فاضل جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو کوئی ریفرنس بھیجنے پر برہم ہوں، اگر دو وزرائے اعظم الزامات پر خود کو عدلیہ کے حوالے کرکے انصاف پاتے ہوئے سزا یافتہ ہوکر اپنے عہدوں سے الگ ہو سکتے ہیں۔ فوج کے بالائی افسران پھانسی اور عمر قید کی سزا پا کے مجرم قرار پاتے ہیں تو کوئی بھی اس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتا ہے؟ جس طرح فوج نے اپنے افسران پہ فرد جرم عائد کرکے آئین کی حدود میں ملزمان پر مقدمہ چلایا، انہیں سزا دی اور وہ اپیل کا حق رکھتے ہیں، اسی طرح کوئی فاضل جج کچھ شواہد سامنے آنے پر ملزم بن جاتا ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل میں وہ فراہمی انصاف کے لئے کیوں طلب نہیں ہو سکتا؟ انہیں اعلیٰ شہرت کا حامل قرار دے کر ان کے مفاد کا تحفظ سڑکوں اور چوکوں پر تو نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو پورے عزت و احترام سے صفائی کا موقع سپریم جوڈیشل کونسل میں ملنا چاہئے ناں کہ وکلاء کا کوئی گروپ ایک فرد کے پیشہ ورانہ رویے اور کردار پر خود ہی جج بن کر ریفرنس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دے۔ یہ پیشہ ورانہ بددیانتی سے آگے کا رویہ ہے۔ خود جج صاحب کی اعلیٰ شہرت کے تحفظ کا تقاضا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق صفائی کا موقع متعلقہ فورم پر دے کر ان کی شفاف حیثیت کی تصدیق ہو اور وہ متنازع اور گلی محلوں اور سیاسی ابلاغ میں زیر بحث رہنے کی بجائے قانونی عمل سے سرخرو ہو کر نکلیں۔ اس کا کوئی جواز نہیں کہ وکلاء اپنے پریشر گروپ سے خود عدلیہ کا کام لے کر فیصلہ کریں۔