آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ مالی سال 2019ء کی تیسری سہ ماہی میں معاشی نمو خاصی سست رہی اور مالیاتی خسارہ بڑھا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت پر مالی سال2019ء کی تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی، جس میں کہا گیا ہے کہ معاشی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں معاشی نمو خاصی سست رہی، مالیاتی خسارہ بڑھا، جاری اخراجات تیزی کے ساتھ بڑھے اور ترقیاتی اخراجات کم ہوئے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق طلب قابو کرنے کی پالیسیوں سے معیشت استحکام کی طرف گامزن رہی لیکن بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کمزوریاں برقرار رہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معیشت کو بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت ہے، صنعتی شعبے کی کارکردگی اور اشیاء سازی کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جب کہ زراعت اور خدمات کے شعبوں نے منفی اثر لیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا کیوں کہ نان ٹیکس محاصل میں تیزی سے کمی اور ٹیکس سے آمدنی میں سست روی نے ٹیکس کی مجموعی وصولی کو گزشتہ سال ہی کی سطح پر جامد رکھا۔

مرکزی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شرح مبادلہ میں کمی اور توانائی کے نرخوں میں اضافے کے اثرات رہے، جاری حسابات کے خسارے کی فنانسنگ دوطرفہ اور کمرشل ذرائع سے قرض لے کر پوری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ سے 41 کروڑ ڈالر اور ملکی سرکاری کے شعبے سے 99کروڑ ڈالر کا انخلاء ہوا۔

تجارتی خبریں سے مزید