آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سپلائی چین میں روبوٹس کا بڑھتا کردار

روبوٹس، ویئرہاؤس فلور پر 600کلوگرام تک وزن اُٹھاکر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں ایسے خصوصی سینسر نصب کیے گئے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے کبھی نہیں ٹکراتے، جبکہ انھیں احکامات وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔ جب ان کی بیٹری ختم ہونے لگتی ہے تو وہ خود بخود چارجنگ روم کا رُخ کرلیتے ہیں۔ پانچ منٹ کی چارجنگ انھیں 4سے 5گھنٹے تک متحرک رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

یہ چند خصوصیات ہیں ان روبوٹس کی جو، ای کامرس جائنٹ علی باباکے اسمارٹ ویئرہاؤس میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ اس ویئرہاؤس میں 70فیصد کام روبوٹس خود کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ علی باباکے اس اسمارٹ ویئرہاؤس میں پہلے ہر کام انسان کرتے تھے، اب اس میں سے 70فیصد کام روبوٹس نے سنبھال لیا ہے اورصرف 30فیصد کام انسانوں کے کرنے کے لیے رہ گیا ہے۔

علی بابا کی لاجسٹکس کمپنی کا نام ’سائنیاؤ‘ ہے۔سائنیاؤ کا یہ اسمارٹ ویئر ہاؤس، ہوئیانگ، گوانگ ڈونگ صوبے میں واقع ہے، درحقیقت یہ چین کا سب سے زیادہ اسمارٹ ویئرہاؤس بھی ہے۔

علی بابا کے مطابق، وہ چین میں سب سے زیادہ موبائل روبوٹ رکھنے والی کمپنی ہے۔ علی بابا کے اس اسمارٹ ویئر ہاؤس میں ایک سو AGVsیعنی (Automated Guided Vehicles)کام کررہی ہیں، جو تقریباً 3,000مربع میٹر جگہ لیتی ہیں۔

یہ روبوٹس وائی فائی اور خودکار چارجنگ کے نظام سے لیس ہیں، جو فلور پر ویئرہاؤس میں رکھی ہوئی اشیا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے ذمہ دارہیں۔ اس ڈیزائن کے روبوٹس Roomba روبوٹ ویکیوم کلینرکی شکل میں پہلے سے موجود ہیں، تاہم یہ ’اے جی وی‘ روبوٹ اس لحاظ سے منفرد اور مختلف ہیں کہ یہ حجم میں بہت چھوٹے ہیں۔ یہ روبوٹ ایک سیکنڈ میں ڈیڑھ میٹر(یعنی 5فٹ) سفر طے کرتے ہیں اور ایک وقت میں 600کلو گرام تک وزن اُٹھاتے ہیں۔

سائنیاؤ، اس وقت چین کے ایک ہزارعلاقوں میں ’سیم ڈے‘ اور ’نیکسٹ ڈے‘ ڈیلیوری سروس فراہم کررہی ہے۔ جب کوئی خریدار علی بابا کی Tmallشاپنگ سائٹ پر آرڈر کرتا ہے تو اس آرڈر کے ساتھ ہی، ہوئیانگ کے اسمارٹ ویئرہاؤس میں موجود روبوٹ، اس آرڈر کو پورا کرنے کے لیے حرکت میں آجاتا ہے۔ روبوٹ اپنی مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ویئرہاؤس میں مطلوبہ آئٹم یا آئٹمز کو تلاش کرتا ہے اور اسے ویئرہاؤس کلرک (جوکہ انسان ہوتا ہے) تک پہنچاتا ہے۔ ویئرہاؤس کلرک اشیا کو اکٹھا رکھ کر متعلقہ صارف کو اس کی شپمنٹ روانہ کردیتا ہے۔

کارکردگی میں اضافہ

علی باباکا دعویٰ ہے کہ جب سے اس ویئرہاؤس سے کام کا آغاز کیا گیاہے، تو وہاں کام کرنے والے انسانی ورکرز کی کارکردگی میں ’تین گُنا‘ (Three-Fold)اضافہ ہوگیا ہے۔ علی بابا کا کہنا ہے کہ روایتی ویئرہاؤس میں ساڑھے سات گھنٹے کی شفٹ میں ایک ورکر سے 1,500آئٹمز پر کام کرنے کی توقع رکھی جاتی ہے، جس کے لیے اسے 27,924قدم چلنا پڑتا ہے۔ اب، موبائل روبوٹس کی بدولت، ایک ورکر(انسان) اسی وقت میں 3,000اشیا پر کام کرتا ہےاور اسے محض 2,563قدم چلنا پڑتا ہے۔ یہ اعدادوشمار یقیناً حیران کن ہیں۔

اب خدشہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک فلور پر ایک ہزار روبوٹس کام کررہے ہوں گے، تو آتے جاتے اورایک دوسرے کے پاس سے گزرتے وقت ان کی ٹکر ہوسکتی ہے، تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے ان روبوٹس میں سینسر لگایا گیا ہے۔ سینسرز، ان روبوٹس کو قریب آنے والی چیزوں کے بارے میں بروقت اطلاع فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔ تاہم ایک فلور پر اس سائز کے 1,000اے جی وی روبوٹس کے ساتھ کام کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

ہوہاؤیوان، جو سائنیاؤ میں سینئر الگارتھم اسپیشلسٹ کی خدمات سرانجام دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں، ’ایک سو ویئر ہاؤس روبوٹس کو کمانڈ کرنے میں دس روبوٹس کو کمانڈ کرنے کے مقابلے میں کمپیوٹیشنل پیچیدگیاں کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں صرف اس بات کو یقینی نہیں بنانا ہوتا کہ ان روبوٹس میں ٹکر نہ ہو، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ ایک ہی جگہ پر روبوٹس کی بھیڑبھاڑ نہ ہو، کیونکہ اس سے کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے‘۔

مکمل چارج کی گئی بیٹری کے ساتھ ایک AGVروبوٹ مسلسل آٹھ گھنٹے کام کرسکتا ہے، جب اس کی بیٹری کم ہونے لگتی ہے تو وہ خود ہی چارجنگ روم میںجاکر ساکِٹ تلاش کرتا ہے اور اپنے آپ کو ری-چارج کرلیتا ہے۔

ویئر ہاؤس میں روبوٹس کی مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے والی ای کامرس کمپنیوں میں صرف علی باباہی نہیں، بلکہ امریکی جائنٹ ایمازون بھی پیش پیش ہے۔ایمازون کے Kiva روبوٹس بھی مصنوعی ذہانت میں بہت آگے ہیں۔

علی بابار اور ایمازون میں ویئرہاؤس اور سپلائی چین مینجمنٹ کے لیے روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں، جب ان کمپنیوں کا سپلائی چین مینجمنٹ کا نظام مکمل طور پر خودمختار اور خودکار بن جائے گا۔

کامرس سے مزید