آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق اس وقت ہر مرض کا علاج دکھائی دیتے ہیں۔ صبح سے شام تک ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ قائد اعظم ٹرافی آغاز سے قبل وہ صبح ٹیموں کا پریکٹس سیشن دیکھنے پہنچ گئے، شام کو انہوں نے قذافی اسٹیڈیم میں پچوں کی تیاری اور معیار کا بھی جائزہ لیا۔

ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں قائد اعظم ٹرافی کے ہیڈ کوچز اور منیجرز کے ساتھ مصباح الحق نے فٹنس کے ساتھ ساتھ ڈسپلن قائم کرنے پر خصوصی زور دیا۔ کوچز اور منیجرز کو تنبیہہ کی کہ کھلاڑی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اگر کوئی ڈسپلن توڑتا ہے تو اس کی رپورٹ پی سی بی کو کریں۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنے اثر و رسوخ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے بتائیں، میں بورڈ سے بات کروں گا۔ ڈسپلن توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے اگر مجھے وزیر اعظم عمران خان سے بھی بات کرنا پڑی تو گریز نہیں کروں گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی ٹیموں کے کوچز سے بات چیت کرتے ہوئے مصباح الحق نے کہا کہ اسپنرز کو کھیلنا ہمارے بیٹسمینوں کے لئے بڑی خامی بن گیا ہے۔ چوں کہ ہمارے بیٹسمین اسپنرز پر کمزور ہیں اس لئے سرکٹ میں جتنے اسپنرز ہیں انہیں طلب کر لیا گیا ہے تاکہ مختلف فارمیٹ میں پاکستانی بیٹسمین اسپنرز کو کھیل کر اپنے اعتماد میں اضافہ کریں۔

مصباح نے واضح کیا کہ ٹیم کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ جو فٹنس اور ڈسپلن کے ساتھ کارکردگی میں سب سے آگے ہوگا وہ ہماری ترجیحات میں شامل ہوگا۔ مصباح نے کرکٹرز کو تلقین کی کہ محنت کو اپنی عادت بنالیں۔ کوئی مسئلہ ہو تو کوچز سے بات کریں اور مجھ سے رابطہ کریں۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پرفارمنس کے ساتھ فٹنس اور ڈسپلن قومی ٹیم میں آنے کی واحد کنجی ہے، نئے سسٹم اور نئے طریقہ کار کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ جس چیز کی بھی پریکٹس کریں اس کو پریکٹس برائے پریکٹس سمجھ کر نہ کریں بلکہ مکمل جان ماریں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ میں نے اس خامی کو بہتر کرنا ہے۔ یہ سوچ ہو گی تو پرفارمنس بھی بہتر ہوگی اور سب خوش بھی ہوں گے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید