آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کی سرگرمیوں، انٹرویو، بیانات اور جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریروں سے کچھ ایسے اشارے ملے ہیں، جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے اور نئی صف بندیاں کیا ہو رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی سے جو خطاب کیا ہے، اس میں ہونے والی نئی عالمی صف بندی کی کھل کر نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا امریکہ اور چین میں تقسیم ہو رہی ہے۔ دونوں اپنے اپنے مخاصمانہ انٹرنیٹ سسٹم، کرنسی، تجارتی اور مالیاتی قوانین بنا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دنیا کو اس تقسیم کے اثرات سے خبردار کیا اور کہا کہ اس تقسیم سے بچنے کیلئے یونیورسل سسٹم اور یونیورسل اکانومی برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی انتباہ کیا کہ خلیج (Gulf)دنیا کا نیا فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے کیونکہ خلیج میں جنگ کے بادل منڈ لا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بین السطور نئے بلاکس کی تشکیل اور اس میں رونما ہونے والے تضادات کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب میں چین اور ایران کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے چین کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کا رکن بنانے پر سخت تنقید کی اور عالمگیریت سے بچنے کی تاکید کی۔

انہوں نے ایران کو عالمی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ زیادہ گرم جوشی کا بھی مظاہرہ کیا۔ اس طرح امریکی صدر نے خود اپنے بیانات اور سرگرمیوں سے اس تاثر کو تقویت دی کہ چین ایک بڑی عالمی طاقت بن گیا ہے۔

ایران جیسے ممالک بھی معاشی اور فوجی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یک قطبی نظام (یونی پولر سسٹم) ختم ہو چکا ہے، جو سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ایسی بالادستی سے قائم ہوا تھا، جسے کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا کیونکہ اشتراکی بلاک غیر موثر ہو گیا تھا اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے چین اور ایران کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ کیوں بنایا؟ اس کا سبب یہ ہے کہ تین عشروں سے زیادہ واحد عالمی طاقت رہنے والے امریکہ نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ دنیا دو قطبی یا کثیر قطبی ہو رہی ہے۔ ایران کے بارے میں آئندہ کسی کالم میں تفصیلی بات کی جائے گی۔

فی الوقت چین کے بارے میں بات کرتے ہیں، جو یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں گھس گیا ہے اور جس نے نئے عالمی ضابطے کی تشکیل کیلئے بنیادیں فراہم کر دی ہیں۔ عالمی سطح پر اس وقت جو صف بندی ہو رہی ہے، وہ جنگ عظیم او ل اور دوئم میں عالمی سامراجی طاقتوں کی ایک دوسرے کیخلاف صف بندی جیسی نہیں ہے۔

عالمی جنگیں دراصل سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی تضادات کا نتیجہ تھیں۔ موجودہ صف بندی سرد جنگ کے عہد والی بھی نہیں ہے، جس سے سرمایہ دارانہ اور اشتراکی بلاکس ایک دوسرے کیخلاف صف آرا تھے۔ موجودہ ہونے والی عالمی صف بندی میں ایک طرف امریکہ ہے، جو عالمی سامراجی نظام کا سرخیل ہے جبکہ دوسری طرف چین ہے، جس نے اپنے ہاں چین کی خصوصیات والا اشتراکی (سوشلسٹ) طرز حکمرانی قائم کیا ہوا ہے اور فری کالونی کے ذریعے دنیا پر اپنا معاشی تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین جو کچھ کر رہا ہے، اسے بھی کسی حد تک سامراجی عزائم سے تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن اسکی بنیاد نو آبادیاتی یا استعماری نہیں ہے۔ چین جنگوں اور فوجی مہم جوئی کے بغیر عالمی طاقت اور ایک نئے بلاک کے قائدانہ کردار کا حامل بن رہا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک نیا عمل ( Phenomenon ) ہے۔

1917ءمیں انقلاب روس اور 1949ءمیں انقلاب چین تاریخ انسانی کے بہت بڑے واقعات ہیں، جنہوں نے تاریخ کے دھارے بدل دیئے ہیں۔ جیسے ہی سرد جنگ کا عہد ختم ہوا، روس کا انقلاب اپنے آپ کو سنبھال نہ سکا۔

ناصرف سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا لیکن چین میں مائوزے تنگ اور انکے چو این لائی جیسے ساتھیوں نے جو انقلاب برپا کیا، وہ جاری و ساری ہے۔ وہ سرد جنگ کے عہد کے خاتمے کا زلزلہ بھی برداشت کر گیا۔ وہ امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر والی یونی پولر ورلڈ کے قہر سے بھی بچ کر نکل آیا اور دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

1980ءکے عشرے کی ابتدا میں روسی انقلاب کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ اور روسی صدر گورباچوف کے ’’گلاسنوسٹ‘‘ کی بھینٹ چڑھ گیا لیکن چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے آپ کو ایک زندہ سیاسی جماعت کے طور پر قائم رکھا اور کسی رہنما نے پارٹی کو گمراہ یا ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تو وہ کامیاب نہیں ہوا۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی میں نہ صرف مختلف الخیال لوگ ہیں بلکہ اختلاف رائے کی بھی اس میں بہت گنجائش ہے۔ ہر پانچ سال بعد چین کی کمیونسٹ پارٹی کی نیشنل کانگریس ہوتی ہے اور اس میں پارٹی دستاویز منظور کی جاتی ہے۔

یہ دستاویز اوپر سے نچلی سطح تک منظم مشاورت کے بعد تیار کی جاتی ہے۔اس دستاویز میں ماضی،حال اورمستقبل کے تناظر میں حالات کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔ چین کے انقلاب نے دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک میں غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کیا اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کیا۔

شی جن پنگ کی آئیڈیالوجی کا عنوان ہے ’’چین کی خصوصیات کے ساتھ سوشلزم نئے عہد میں‘‘ اس آئیڈیالوجی کو سمجھنے کی ضرورت ہے، جس نے چین میں اربوں اور کھربوں ڈالر کے سرمائے والی کمپنیوں کو دنیامیں پھیلا دیا ہے لیکن چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ان پر مکمل کنٹرول ہے۔ یہ تاریخ انسانی کا پہلا اور کامیاب تجربہ ہے۔

یہ چینی کمپنیاں سامراجی دنیا کی کثیر القومی کمپنیوں کی جگہ لے رہی ہیں۔ دنیا ایک نیا عالمی ضابطہ بنتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ چین تاریخ انسانی کی انوکھی عالمی طاقت بن رہاہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید