آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ساتھیو!ملا نصیر الدین کے قصے ، کہانیاں اور لطائف تو بے شمار پڑھے ہوں گے لیکن آپ میں سے اکثربچوںکو یہ معلوم نہیں ہوگا۔ کہ ملا نصیر الدین کوئی افسانوی کردار نہیں بلکہ ایک حقیقی کردار تھا۔ ،یہ 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے۔ ملا نصیرالدین اپنی ذات میں لطیفوں ، چٹکلوں اور حاضر جوابیوں کی وجہ سے مشہور تھے ۔ آج کل ملا کے لطیفے دنیا کے مختلف علاقوں میں عام ہیں، ان کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت ترکی سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی ۔

اُن سے وابستہ چند دلچسپ ،پر مزاح واقعات درج ذیل ہیں ۔

ایک مرتبہ ملا اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھے تھے، ان کے ایک دوست نے آکر ان سے پوچھا کہ، ملا مجھے ضروری کام سے پاس کے گاؤں جانا ہے اور کچھ سامان لے جانا ہے، براہ کرم، آپ گدھا دے دیں، میں اسے لے جاؤں گا اور شام تک لوٹا دوں گا۔

ملا چوںکہ دوست کو گدھا دینا نہیں چاہتے تھے، ٹالنے کے خیال سے یہ کہہ دیا کہ، گدھا کوئی اور لے گیا ہے۔ اتنے میں صحن سے، گدھے کے چیخ سنائی دی۔ دوست نے کہا کہ، ملا گدھا تو یہیں پر موجود ہے! تو ملا نے جواب میں پوچھا کہ، آپ مجھ پر یقین کریں گے کہ گدھے پہ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک مرتبہ ملانصرالدین ایک محفل میں پکڑ لیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ کچھ نصیحت فرمائیں،ملا نصیرالدین اسٹیج پر آئے اور سامعین سے پوچھا،’’جو کچھ میں کہنے جا رہاہوں کیاآپ لوگوں کومعلوم ہے؟‘‘

لوگوں نے کہا ،’’نہیں۔‘‘ملانے کہا،’’کہ آپ کوبتانے سے کیا فائدہ جب آپ جانتے ہی نہیں۔کچھ عرصے بعد، پھر ایک محفل میں ملا پکڑے گئےاور ان سے نصیحت کرنے کی التجا کی گئی۔ اسٹیچ پر آکر وہی پراناسوال دہرایا۔لوگوں نے سوچاکہ پچھلی بار نہ جاننے کی وجہ سے نصیحت سے محروم رہ گئے تھے، اس لیے سب نے بیک زبان جواب دیا،’’ہاں‘‘۔ملا نے جواب دیا،’’ جب آپ لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیا کہنے والاہوں تو پھر بتانے سے کیافائدہ۔ تیسری بار ملا شومئی قسمت پھر پکڑ میں آ گئے اور انھیں نصیحت کرنےکوکہا گیا۔ ملانے پھر اپناسوال دہرایا۔ عقلمندی دکھاتے ہوئے سامعین کے آدھے لوگوں نے انکار میں اور آدھے لوگوں نے اقرار میں جواب دیا۔ ملا نے کہا،’’جن لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیاکہنے والاہوں وہ ان لوگوں کو بتادیں جو نہیں جانتے۔ اور یہ کہہ کر اسٹیچ پرسےاتر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ خط پڑھ دو‘‘۔ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی۔ پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔

زمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا،’’میں خط نہیں پڑھ سکتا‘‘۔

زمیندار بولا،’’اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے۔‘‘

ملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اُتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا،اب پگڑی تمھارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط ۔‘‘