آپ آف لائن ہیں
منگل20؍ذی الحج 1441ھ 11؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ مشق آپ کو ہارٹ اٹیک کے دوران بڑے نقصان سے بچاسکتی ہے

اپنی صحت کا خیال نہ رکھنا آپ کو بیماریوں کی جانب دھکیل دیتا ہے اور ایسی ہی ایک بیماری دل کی بھی ہے جو دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔

ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ اس دل کا دورہ پڑنے کے دوران انسان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں اور وہ شدید کرب میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بچاؤ کے اقدامات نہیں کرپاتا۔

دل کے دورے کے دوران اگر آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ آپ کی مدد آنے تک آپ کتنی دیر مزید نبردآزما ہوسکتے ہیں تو یہ بہت ہی بھیانک ہوسکتا ہے۔

اگر آپ اپنے کمرے میں اکیلے ہوں یا آپ کے ارد گرد کوئی موجود نہ ہو تو ان چند چیزوں کے بارے میں آگاہی بہت ہی ضروری ہے۔

بہت سے لوگ ہارٹ اٹیک سے قبل یہ تجربہ کر چکے ہیں کہ انہیں سینے میں اور ان کے بائیں بازو میں شدید تکلیف شروع ہوجاتی ہے، جبکہ پوری قوت کے ساتھ دل کا دورہ پڑنے سے قبل انہیں ایک معمولی درد کے ساتھ بھی ہارٹ اٹیک کا احساس ہوجاتا ہے۔

اگر آپ اس تمام صورتحال کا شکار ہوجائیں اور آپ کے ارد گرد مدد بھی موجود نہ ہو تو آ پ ان چند ضروری باتوں کے بارے میں جاں لیں جو اس مشکل وقت میں ممکنہ طور پر آپ کا ساتھ دے سکتی ہیں۔

ان میں سب سے پہلے سانس لینے کی مخصوص تکنیک شامل ہے جس کے بارے میں لائف اسٹائل کوچ لیوک کوٹینہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بتائی۔

سانس لینے کا ’’ ہا – کو ‘‘ طریقہ

دل کا دورہ پڑنے کے اثران نمایاں ہونے لگیں یا پھر اس نے آ ہی لیا ہو تو اس صورت میں سانس لیتے ہوئے ’ہا‘ کی آواز نکالیں اور لمبا سانس اندر لیں۔

اسی طرح جب سانس باہر نکال رہے ہوں تو تیز یا پھر جتنا ممکن ہوسکے اتنی اونچی آواز میں ’’ کو‘‘ کہتے ہوئے سانس کو باہر کی جانب نکالیں اور بار بار ایسا کرتے رہیں۔

اس عمل کو صرف اس وقت کے لیے سنبھال کے نہ رکھیں بلکہ اس مصیبت میں گھرنے سے قبل ہی اس کی اچھی طرح مشق بھی کریں تاکہ کسی بھی نامساعد صورتحال کے پیش نظر آپ فوری طور پر اسے کر سکیں۔

سانس لینے کا یہ طریقہ آکسیجن کو مکمل طور پر پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے جبکہ اس کی مدد سے ہم اپنے دل کو زیادہ سے زیادہ خون پمپ کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپنے عام روٹین کے دوران یہ طریقہ کار آپ کے دل تک آکسیجن سے بھرپور خون کو پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے جس کی آپ کو ہارٹ اٹیک کے وقت بھی ضرورت ہوتی ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، یہ کسی بھی طبی امداد کا رد و بدل نہیں ہے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید