آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پنجابی کے بڑےافسانہ نگار ملک مہر علی نے کہا ’’اس نے آتی ہوئی سردیوں میں درخت جھڑتے ہوئے تو کئی بار دیکھے تھے مگرآدمیوں کو جھڑتے ہوئے پہلی بار دیکھا تھااورسوچا تھا کہ درختوں کے جھڑنے کاتو پھر بھی موسم ہے مگر آدمیوں کانہیں‘‘۔

سبز پتوں کے محافظو ! آنکھیں کھولو، وگرنہ رنگت یرقان زدہ ہوجائے گی۔ کچھ پتا نہیں کب خزاں کی رت آ جائے۔ گلستاں کی موج ِ گل حبس زدہ دماغوں کےلئے ناقابل ِ برداشت ہو چکی ہے۔ بیمار ہوائوں کے فساد بردارجلوس نکلنے والے ہیں۔ میں عمران خان کو دیکھتا ہوں تو ماضی میں کہیں کھوجاتا ہوں۔ اِن دنوں وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو جیسی حرکتیں کررہے ہیں۔

ترکی کے صدر اردوان اور ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کے ساتھ مل کر اسلامی بلاک بنانا چاہتے ہیں۔ سواس وقت اقتدار ہی نہیں، زندگی بھی خطرہ میں ہے۔ آخر وہ کونسی محبت ہے کہ اسفند یارولی خان کہہ رہے ہیں: مولانا گرفتار کرلئے گئے تو میں احتجاج کی قیادت کروں گا۔ دنیا جانتی ہے کہ دونوں کے نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ دونوں کی جماعتیں ہمیشہ ایک دوسرے کی دشمن رہی ہیں۔

عمران خان کی ’’کج ادائیاں‘‘ اپنی جگہ پر مگر ضروری نہیں کہ تاریخ اپنےآپ کو دہرائے۔ جب بھٹو نے امریکہ کو للکارا تھا، اسلامی سربراہی کانفرنس کرائی تھی، عربوں سے کہا تھا کہ وہ تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کریں، پاکستان کو ایٹمی پاور بنانے کی بنیادیں رکھی تھیں تو امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا۔

’’ہم تجھے عبرت کا نشان بنادیں گے‘‘ وہ ہنس پڑا تھا۔ اُسے اپنی کرسی کے مضبوط ہونےپر بڑایقین تھا۔پھربھٹو کے خلاف اپوزیشن اکٹھی ہو گئی۔ نو ستارے چمکنے لگے،

پہلا ستارہ مولانا فضل الرحمٰن کے والد گرامی مفتی محمود تھے انہوں نے پاکستان میں نعرہ لگایا ’’یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہے۔ دوسرا اسفند یارولی خان کے والد اور باچا خان کا بیٹا عبدالولی خان تھا، تیسرا ایئر مارشل اصغر خان تھا۔ چوتھا شاہ احمد نورانی تھے۔ پانچواں پروفیسر غفور احمد تھے۔ بہر حال اپوزیشن اور جنرل ضیاالحق نے مل کر بھٹو کو عبرت کا نمونہ بنادیا۔ اُس کا قتل پاکستان کے عدالتی نظام پر بھی ایک بدنما داغ کی طرح چمک رہا ہے۔ بے شک اس میں بھٹو کی ’’کج ادائیاں‘‘ بھی کم نہیں تھیں۔

پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی لیڈر شپ بھی اس کھیل میں شامل ہے مگر بہت محتاط ہے۔ کہیں کچی زمین پر پائوں رکھنے کےلئے تیار نہیں۔ یہ دونوں جماعتیں اس وقت مجبور ہیں کہ صرف کسی کی آنکھ کا اشارہ دیکھیں۔

وہ تو کھلی آنکھوں سے کہہ رہے ہیں کہ اگر اشارہ سرخ ہوا تو گاڑیاں رک جائیں گی۔ انصارالاسلام کے اقتدار کی نئی تحریک شروع ہونے سے پہلے ناکام ہو جائے گی۔ انگریزوں کو چھوڑ کر پنجاب میں سکھوں سے لڑائی، ریشمی رومال تحریک اورتحریک طالبان پاکستان کے بعدتنظیم انصارالاسلام کی جنگی مشقوں سے حصولِ اقتدار کی پُرتشدد کوشش کی نمائش نے بے یقینی کی کیفیت کو جنم دیا۔خیال یہی ہے کہ اس بے یقینی میں خودعمران خان کا ہاتھ بھی ہے اور ارد گرد بیٹھے ہوئوں کابھی۔

عمران خان کی دو بنیادی غلطیاں ہیں پہلی یہ کہ اردگرد وہی ٹیم جمع کی جو پچھلی حکومتوں میں بھی شریک تھی۔ وہ کسی اہل ہوتی تو پہلےناکام کیوں ہوتی۔

دوسری بڑی غلطی یہ کی کہ خود تو وزیر اعظم بن گئے مگر پارٹی کو اقتدار سے دور رکھا اپنے ورکر زکو اقتدار میں شریک نہیں کیا-بھٹو صرف اس لئے اتنے طویل عرصہ تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہا کہ اس نے اپنے ورکرز کو اپنے ساتھ اقتدار میں شریک کیا تھا-

یہاں تو یہ حالات ہیں کہ وزرا اپنے ورکروں کےلئے کسی افسر کوفون بھی نہیں کر سکتے -ابھی تک تمام عہدوں پر پیپلز پارٹی، نون لیگ، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، پختون ملی پارٹی،مسلم لیگ قاف، متحدہ قومی موومنٹ وغیرہ کے افراد فائز ہیں-

انہی پارٹیوں نے اپنے کارکنوں کو کہیں کسی ادارے کا چیئرمین لگوادیا تو کسی کو جج بنوادیا۔ کوئی بیورو کریسی کا حصہ بن گیا تو کسی کو میڈیا میں کوئی اہم جاب دلا دی۔ایسا لگتا ہے عمران خان وزیر اعظم بن کر مجبورِ محض بن چکے ہیں۔ انہیں غورکرنا چاہئے کہ اب اُن کی آنکھیں اور کان کون بناہوا ہےاوروہ لوگ جو پہلے ان کی آنکھیں تھے اور ان کے کان تھے وہ اب کیا کہہ رہے ہیں۔

قاسم خان سوری، اسد عمر، سیف اللہ نیازی اور گل حمید نیازی کیا کہہ رہے ہیں۔ ہارون الرشید، حسن نثار، مظہر برلاس اور عارف حمید بھٹی کے لب و لہجے میں کیوں فرق آ گیا ہے۔

سبطین خان اور علیم خان نے تین چار ماہ جیل کیوں کاٹی ہے ؟۔ پی ٹی آئی کے ورکرز کے ساتھ مسلسل کیا سلوک کیا جارہا ہے۔ کیا پارٹی اقتدار میں شامل ہے یا صرف عمران خان وزیر اعظم ہیں۔ یہ وہ سوال ہیں جن پر غور ہونا چاہئے ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے کیونکہ قضا نمازیں تو لوٹائی جاسکتی ہیں، قضا ساعتیں نہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید