آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان میں پولیو کا مرض قابو میں نہیں آ رہا۔ اب تک 86بچے اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق اس سے بھی زیادہ تعداد میں بچے اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار نے پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلنے کا ذمہ دار حفاظتی ٹیکوں کی ناقص منصوبہ بندی کو قرار دیا ہے۔ 

گارجین کے مطابق بارہ بچے پولیو کے P2کے تنائو میں مبتلا ہو چکے ہیں جو فالج کا باعث بنتا ہے اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان میں پولیو پر بین الاقوامی سطح پر اتنا زیادہ شور مچا کہ وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن کو استعفیٰ دینا پڑا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 2014ء میں پاکستان کو پولیو فری ملک قرار دے دیا گیا تھا، پھر پولیو کا وائرس دوبارہ کس طرح آ گیا؟

ماہرین کے مطابق 2018ء سے اب تک پاکستان میں پولیو کے کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور اب تک 86کے قریب بچے پولیو P2کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس وقت سندھ میں 10بچے پولیو وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

یاد رہے پولیو وائرس کی تین اقسام ہیں P1، P2اور P3۔ چند ماہ قبل قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ لاہور، پشاور، راولپنڈی، وزیرستان، مردان، بنوں، کوئٹہ، کراچی، سکھر، حیدر آباد اور دیگر شہروں کے سیوریج پانی میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے۔ 

اس کا مطلب یہ ہے بچے جو پاخانہ کر رہے ہیں، اس میں پولیو وائرس ہے۔ اس سال فروری میں لاہور میں آٹھ ماہ کا بچہ پولیو وائرس کا شکار ہو گیا حالانکہ اس بچے کو پولیو کے قطرے بھی پلائے گئے تھے۔ اگر ملک کے باقی شہروں سے بہتر لاہور شہر میں پولیو وائرس موجود ہے تو ملک کے باقی شہروں کی صورتحال کیا ہو گی؟ جبکہ لاہور میں پولیو قطرے پلانے کی مہم بڑے زور شور سے شروع کی جاتی ہے اور سال میں ایک سے تین مرتبہ یہ مہم چلائی جاتی ہے۔ 

کہا گیا کہ لاہور میں اس سال 18لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ٹارگٹ پورا ہوتا بھی ہے یا نہیں، یا صرف مارکر کا نشان لگا کر ٹارگٹ پورا کیا جاتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف تین ممالک ایسے رہ گئے ہیں جہاں پر پولیو ابھی موجود ہے۔ پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر سال ہر حکومت پولیو مہم کی آگاہی اور بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے پھر بھی پولیو کا وائرس موجود ہے اور یہ صورت انتہائی خطرناک ہے۔ پولیو کا مطلب ہے کہ بچہ زندگی بھر کے لئے معذور ہو گیا۔ 

معاشرے اور اپنے والدین پر ساری عمر کا ایک بوجھ بن گیا۔

پولیو کے حوالے سے ایک حکومتی رکن کا کہنا ہے وزیراعظم کے سابق فوکل پرسن نے بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے اس پروگرام کو برباد کر دیا اور وزیراعظم نے اس پروگرام کی اہمیت کی طرف توجہ نہ دی جس کی وجہ سے پولیو کے کیسوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ 

جب پانچ برس قبل ملک سے پولیو کا خاتمہ ہو گیا تو P2ویکسین اسپتالوں اور کلینکوں سے اٹھا لینی چاہئے تھی۔ یہ مسئلہ P2ویکسین کی وجہ سے بھی شروع ہوا ہے اور P2ویکسین کے نتائج کچھ صحیح نہیں، اس لئے اس کو نہیں لگانا چاہئے تھا۔ پھر پاکستان میں جب پہلا پولیو کیس ہوا تو اس کو ڈبلیو ایچ او سے چھپایا گیا۔ 

حالانکہ اس پہلے کیس کی رپورٹ فوری طور پر ڈبلیو ایچ او کو کرنا چاہئے تھی۔ پولیو کے حوالے سے جو بدعنوانی اور خرابی پیدا ہوئی ہے، اس کو سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے کو آرڈینیٹر نے P2کے پھیلنے کی تصدیق کی ہے۔

ڈی ایف آئی ڈی جس نے پاکستان کو پولیو کے خاتمہ کے لئے کروڑوں روپے دینے تھے انہیں ان معاملات سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ماضی میں کراچی میں پولیو ٹیموں پر حملے بھی کئے گئے۔ 

شمالی وزیرستان کے لوگوں نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا چنانچہ فوج کے جوانوں کو یہ فریضہ ادا کرنا پڑا۔ پتا نہیں ہمارے لوگوں کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ میں آتی کہ جس بچے کو پولیو کا مرض لاحق ہو جائے وہ عمر بھر کے لئے معذور ہو جائے گا۔ پولیو کے قطروں کے بارے میں جو غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ہمارے ہاں حالات یہ ہیں کہ امسال اپریل میں پشاور کے علاقے بڈھ بیر ماشوخیل میں پولیو کے قطرے پینے سے سو بچوں کی حالت خراب ہو گئی اور مشتعل افراد نے مرکز صحت اور اسکول کو نذرِ آتش کر دیا حالانکہ یہ پولیو کے قطرے اس علاقے کے دیگر اسکولوں کے بچوں نے بھی پیے تھے۔ 

جن سو بچوں کی طبیعت قطرے پینے سے بگڑی دراصل انہیں گرمی لگ گئی تھی اور گرمی سے ان کی طبیعت خراب ہوئی لیکن پولیو قطروں کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر ایک ہنگامہ برپا کر دیا گیا۔ دوسرے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پولیو کے قطرے پینے سے انسان بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے اور خاندانی منصوبہ بندی والے کوئی چکر چلا رہے ہیں۔ 

آج بھی بعض علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کی سخت مخالفت کی جاتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے بعض جاہل لوگ بچوں کی زندگی کی معذوری قبول کرنے کو تیار ہیں مگر پولیو ویکسین پلانے کو تیار نہیں۔ 

 دوسری جانب جو 86بچے پولیو کے قطرے پینے کے باوجود معذور ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون؟ حکومت کے جو افراد اس کوتاہی کے مرتکب ہوئے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ چاہے وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ فائز ہوں یا رہے ہوں۔

لاہور کے پانی میں پولیو کا وائرس تو موجود ہے ہی، اب ایک اور جان لیوا وائرس بھی سامنے آ چکا ہے۔ پچھلے حکمران لاہور کو پیرس اور نیویارک بنانے کا دعویٰ کرتے رہے اور خود لندن کو اپنا مستقل مسکن بنائے رکھا۔ 

لاہور نے پیرس کیا بننا تھا آج لاہور دنیا کے گندے اور آلودہ شہروں میں سرفہرست ہے۔ یہ نیا وائرس جو پانی میں ہے، شہریوں کو ہیپاٹائٹس کے علاوہ جگر کے مختلف امراض میں مبتلا کر رہا ہے۔ آنے والے چند برسوں میں لاہور کے شہری پیٹ کے کئی خطرناک امراض میں مبتلا ہو جائیں گے۔