آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ رخصتی میں لڑکی والوں کی طرف سے جو بارات والوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے، شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟کیا لڑکی والوں کا نکاح کے موقع پر دعوت کا انتظام کرنا جائز ہے ؟نیزکیا بارات والوں کے لیے وہ کھانا جائز ہے؟ ایک مولوی صاحب فرمارہے تھے کہ یہ حرام ہے براہِ کرم وضاحت فرمادیں۔(یاسین ملک،کراچی)

جواب:۔ لڑکی والوں کی طرف سے باراتیوں کے لیےکھانے کا انتظام ولیمے کی طرح سنت نہیں ہے۔ اگر کوئی نمود ونمائش سے بچتے ہوئے، کسی قسم کے جبر اور خاندانی دباؤ کے بغیر اپنی خوشی ورضا سے اپنے اعزہ اور مہمانوں کو کھانا کھلائے تو یہ مہمانوں کا اکرام ہے اور اس طرح کی دعوت کا کھانا بارات والوں کے لیے جائز ہے۔ اگر اس دعوت کا اہتمام لڑکے والوں کی طرف سے جبراً ہو یا شرما شرمی اور ناک کٹنے کے ڈر سے لڑکی والوں نے کھانے کا بندبست کیا ہوتو پھر اس قسم کی ضیافت کا کھاناجائز نہ ہوگا۔ ۔(صحیح مسلم(2/ 1054، کتاب الحج، باب زواج زینب بنت جحش، برقم: 1430، ط:دار احیاء التراث) سنن ابو داؤد 3/ 342، کتاب الاطعمۃ، باب ما جاء فی الضیافۃ، رقم الحدیث:3738، ط: المکتبۃ العصريۃ، بيروت)

اقراء سے مزید