آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کم وزن نومولود میں بانجھ پن کا خطرہ زیادہ

پیدائشی طور پر کم وزن بچوں میں بانجھ پن کا خطرہ زیادہ


بچوں میں پیدائشی طور پر مختلف بیماریوں یا خامیوں کے بارے میں آپ کو تو معلوم ہی ہوگا لیکن اب وزن کی وجہ سے مستقبل میں ممکنہ بیماری کی پیشن گوئی کردی گئی ہے۔

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے بچے جن کا پیدائش کے وقت وزن کم ہوتا ہے ان میں بلوغت میں پہنچنے کے بعد بانجھ پن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق اگر ایک بچے کا وزن 3 کلوگرام سے کم ہوگا تواس میں اس سے زائد وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی مناسبت سے بانجھ پن کا خطرہ 55 فیصد زیادہ ہوگا۔

تاہم تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ وزن میں کمی کی وجہ سے بچیوں کو بلوغت تک پہنچنے پر بانجھ پن کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ڈنمارک کے محققین کا ماننا ہے کہ ماؤں کی جانب سے دوران حمل کم غذا یا نامناسب غذا کے استعمال کی وجہ سے بچوں میں یہ مسائل پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

آہرس یونیورسٹی کے تحقیق دانوں نے اس حوالے سے 5 ہزار 594 مردوں اور 5 ہزار 342 خواتین کو اس تحقیق کا حصہ بنایا۔

انہوں نے ان افراد کے وزن کا ریکارڈ ان کے پیدائشی سرٹیفکیٹ سے حاصل کیا، جبکہ دیگر معاملات کے لیے ان ماؤں سے ایک سوالنامہ پر کروایا۔

وزن کے ریکارڈ اور ان مردوں کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ایسے مرد جن کا پیدائش کے وقت وزن 3 کلو سے کم تھا ان میں 7.3 فیصد مردوں میں بانجھ پن کے خطرات سامنے آئے۔

علاوہ ازیں تحقیق کے نتائج سے یہ بھی اخذ کیا گیا کہ ایسے بچے جن کا وزن 3 کلو سے کم ہے ان میں بانجھ پن کا خطرہ 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس حوالے سے ایک تحقیق دان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہائیپوپاڈیاس اور کرپٹورکیڈیزم کے اثرات کی وجہ سے وزن اور بانجھ پن میں تعلق موجو ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ پیدائشی وزن اور بانجھ پن میں کیا ربط موجود ہے۔

مذکورہ تحقیق کو میڈیکل جنرل ہیومن ری پروڈکشن میں بھی شائع کیا گیا ہے۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچیوں کو پیدائشی وزن میں کمی کی وجہ سے بانجھ پن کا خطرہ نہیں ہوتا۔

دیگر تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 35 سال سے کم عمر ہر 5 میں سے ایک مرد بانجھ پن کا شکار ہے جبکہ آئند 10 سالوں کے دوران اس اعداد و شمار میں مزید تبدیلی کا امکان ہے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید