آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عابدہ رحمانی

علی الصبح کو کتی کوئلوں کی صدائیں سب پرندوں پر حاوی ہوتیں

سات سمندر پار کا سفر کر کے مادر وطن پہنچی تو پورے 12 گھنٹے میری زندگی سے حزف ہو چکے تھے دن رات میں بدلی اور رات دن میں، عرف عام میں اسکو جیٹ لیگ کہتے ہیں یعنی جیٹ طیاروں کی برق رفتاری سے جو ہمارے اوقات بدل جاتے ہیں نامعلوم اردو میں اسکا کوئی متبادل ہے؟ جیٹ طیاروں کی برق رفتاری کی بدولت جب ہم مغرب سے مشرق کی سمت آتے ہیں تو وقت کا زیاں، جبکہ مشرق سے مغرب کی سمت ہمیں فائدہ ہوتا ہے لیکن جسم کی گھڑی جسکو ہم باڈی کلاک کہتے ہیں اسکو تعین کرنے میں اور اپنی رفتار متوازن کرنے میں وقت لگ جاتا نہ معلوم پاکستان آکر میری یہ گھڑ ی کچھ سست کیوں پڑ جاتی ہےرات کو سوئی تو لگتا ہے۔ 

دوپہر کا قیلولہ کیا دو ڈھائی گھنٹے کے بعد آنکھ کھل جاتی ہے اور جب وہاں رات شروع ہوتی ہے تو نیند آنے لگتی ہےکم ازکم ایک ہفتہ ان اوقات کار کے عادی ہونے میں لگتاہےعلاوہ ازیں خاموش اور ساؤنڈ پروف ماحول کا عادی ہونے کے بعد، جہاں زیادہ سے زیادہ شور اپنے ٹی وی کا یا رات کے سناٹے کو چیرتی ہوئی ایمرجنسی گاڑیوں کے سائرن کا ہوتا ہے،یہاں لگتا ہے کہ ہر طرف ایک شور بپا ہے۔

جس بالائی کمرے میں مقیم ہوں اس کے باہر کی طرف ایک گلی گزرتی ہے،جہاں رات بھر آمد و رفت رہتی ہے لوگوں کی باتیں، موٹر سائیکلوں کا شور اور رات کے سناٹے کو درہم برہم کرتے ہوئے من چلوں کے قہقہےاور چینخیں ،ذرا سا خاموشی چھائی تومساجد سے اذان فجر بلند ہوئی آداب سحر گاہی کے تقاضےاس سے قبل ہی پوری کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ بیشمار پرندوں کی چھچھاہٹ سامنے لگے ہوئے لوکاٹ کے درخت پر ہلہ بول دیا جاتاہے بلبل، قمری،فاختائیں،چڑیایں ،کوے ،توتے جھنڈ کے جھنڈ آنا شروع ہوئیں- خوبصورت سریلی صدائیں ایک نئی صبح کے آغاز کی نوید لے کر آتی ہیں - کراچی میں علی الصبح کوکتی ہوئی کوئلوں کی صدائیں سب پرندوں پر حاوی ہوتیں ،جب وہ میرے شریفے ، چیکو ،جامن اور انجیر کے پھل ٹونک بجا کردیکھتیں- ماحولیات کے ایک ماہر نے ایک مرتبہ کہا 'کراچی کی کوئل دیوانی ہوگئی ہے۔ 'کوئل برسات میں کوکتی ہے جبکہ کراچی میں سارا سال کوکتی رہتی ہے غالبا نمی اور رطوبت کی وجہ سے انہیں برسات کا لمس ملتا ہے-

اب جبکہ نیند نہیں آرہی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اٹھ کر فطرت سے رشتہ جوڑا جاے اور قریبی پارک میں چہل قدمی کی جائے۔پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی مخصوص راستہ نہیں ہے اسی وجہ سے جب میں ترقی یافتہ ممالک میں جاتی ہوں تو ان کے پیدل چلنے والوں کی گزرگاہوں سے جہاں مستفیدہوتی ہوں، وہاں مجھے سخت رشک و رقابت بھی ہوتی ہے - صبح آٹھ بجےسے گھنٹیاں بجنی شروع ہوئیں مالی ،ماسی ڈرائیور،کوڑا اٹھانے والےکی آمد شروع ہوئی ان سب سلسلوں سے ہم کافی بے نیاز ہو چکے ہیں اگر ہفتے دو ہفتے میں کوئی میڈ یا مالی آتا ہے تو اسکے اوقات پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں باقی شوفر وہ تو ہم خود ہی ہوتے ہیں اگر کسی کو بتاؤ کہ پاکستان میں ہمیں یہ سہولیات ہیں تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔

اس کے بعد آوازوں اور صداؤں کا ایک سلسلہ بندھ جاتاہے اور جھاں تک کوڑا اٹھانے کا سلسلہ ہے ، میرے مختلف ٹھکانوں میں یہ طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے مثلا ایک جگہ ایک ہفتے باورچی خانہ کے کوڑے کے ساتھ باغ کے کچرے کا ڈمپسٹر جائے گا اگلے ہفتے ری سائیکل کا، ایک جگہ ہفتے میں دو روز کوڑا جاتا ہے -کوڑا اٹھانے والے ٹرک کا ڈرائیور بیٹھے بیٹھے اپنے ہائیڈ رالک گئیر سے اس کوڑا دان کو اٹھاکر الٹ دیتا ہے اور یہ جا وہ جا-ٹورنٹو والے کچھ زیادہ ہی ہوشیار ہیں ان کے ہاں باورچی خانے کے کچرے کے لئے ایک الگ کوڑا دان ہوتا ہے جس میں ایک مخصوص پلاسٹک کی تھیلی لگتی ہے یہ پلاسٹک جلد تحلیل ہوتا ہے اور ماحول کا دوست ہے-اس میں اگر ایک کاغذ بھی پایا گیا تو اس پر چٹ لگا کر چھوڑ دیا جائےگا-اس سے وہ کھاد بناتے ہیں۔

ہمارے یہاں ری سائیکل کا انتظام کیا بہترین ہے بچے کوڑے سے ایک ایک کاغذ چن کر الگ کرتے ہیں ،ان کو کوڑا چننے والے بچوں کا ناام دیا گیا ہے، کیونکہ یہی ان کاذریعہ معاش ہے- کوڑا اٹھانے والوں نےبھی مختلف تھیلے رکھے ہوتے ہیں- اور اس میں مختلف اشیاء کو علیحدہ رکھا جاتاہے-اسے بیچ کر ان کی کمائی ہوتی ہے -- "ردیاں اخبارات ،ٹین ڈبے لینے والے کی صدائیں میں بچپن سے سنتی آئی ہوںوہ بھی ریسائکل یا دوبارہ قابل استعمال بنانے کا ایک بہتریں ذریعہ ہے -بیچنے والے کو رقم الگ مل جاتی ہے-کراچی میں جب اپنا گھر سمیٹا تو بلا مبالغہ ہزاروں کی ردی بیچی، جس میں آڈیو کیسٹ ،ویڈیو کیسٹ اور بیشمار کتابیںو رسائل شامل تھے۔

پریشر کوکر بنوالو ، منجی پیڑی ٹھکوالو،پہلے ایک اور صدا آتی تھی پانڈے قلعئی کروالو جو اب خارج از وقت ہو چکی ہے۔سبزی والے آئیس کریم والے جو اب چاکلیٹ بھی بیچتے ہیںان کے ٹھیلوں کی موسیقی رات گئےتک بچوں کو کشاں کشاں کھینچتی ہے- بھانت بھانت کی آوازیں اور صدائیں ایک چہل پہل ایک رواں دوں زندگی کی علامت -ان ہی آوازوں میں مجھے وہ بچی بری طرح یاد آتی ہے جو چونی مٹھی میں دبائے ہوئی اس وقت گیٹ پر لپک کر جاتی جب دور سے یہ صدا آتی ہے چنا جور گرم بابو میں لایا مزیدار چنا جور گرم، اسے اسکا گانا بھی بےحد پسند تھا ۔

پھر اس کااور چنا جور والے کا رشتہ اتنا گہرا ہوا کہ اگر کسی روز اسے وہ نہ ملی- تو وہ گیٹ پر کھڑا گھنٹیاں بجاتا رہتا اور اپنے گانے کو اور اونچا اور لمبا کر دیتابے بی آگیا تیرا چنا جور گرم والا " جب بڑے ہوکر اس نے’ 'کابلی والا‘ دیکھا تو اسے اپنا چنا جور گرم والا بہت یاد آیا جب امی ابا کی ڈانٹ بھی پڑتی تھی،کہ اسکو پیچھے کیوں لگادیا ہے۔

کولاچی کراچی سے مزید