آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بارش و برف باری سے مختلف حادثات، 41 جاں بحق

ملک بھر میں کڑکتی سردی، بلوچستان میں شدید برفباری، حادثات میں 41 افراد جاں بحق


بارش اور برف باری کے دوران آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں مختلف حادثات میں 41 افراد جاں بحق ہو گئے، وادیٔ نیلم میں سرگن کے مقام پر 11 افراد برفانی تودے تلے دبے ہوئے ہیں۔

آزاد کشمیر کی وادیٔ نیلم، لیپا، کیل ، مظفر آباد، نکیال میں بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے، شدید برف باری کے دوران وادیٔ نیلم میں 5 مقامات پر برفانی تودے گرنے سے ایک بچی سمیت 14 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وادیٔ نیلم میں سرگن کے مقام پر 11 افراد برفانی تودے تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ پلندری میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

گلگت بلتستان میں کئی فٹ تک برف کی تہہ جم چکی ہے، بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہیں، دیامر اور استور میں شدید برف باری کے بعد اسنو ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: سکھر میں 3 منزلہ عمارت گرگئی، 3 افراد جاں بحق

مانسہرہ کی وادیوں کاغان، ناران اور شوگران میں بھی برف باری جاری ہے، کوہستان کے قریب لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم کئی مقامات پر بند ہو گئی، جہاں سیکڑوں مسافر گاڑیوں میں پھنس گئے ہیں۔

ملکۂ کوہسار مری میں مسلسل برف باری سے نظامِ زندگی مفلوج ہے، نتھیا گلی، ایوبیہ، چھانگلہ گلی میں مرکزی سڑک سمیت تمام رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

چترال میں ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد لواری ٹنل بند ہو گئی ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن سمیت قبائلی اضلاع باجوڑ، خیبر، مہمند، اورکزئی اور وزیرستان میں بھی برف باری جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: لیہ میں گیس لیکیج، سوئے ہوئے باپ بیٹا جاں بحق

راجن پور اور سکھر میں بارش کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش کے دوران ژوب، پشین اور خانو زئی میں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 17 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سریاب میں گیس کے باعث دم گھٹنے سے 5 افراد ہلاک ہوئے۔

کوژک ٹاپ پر 20 کلومیٹر کے علاقے میں کوئٹہ چمن شاہراہ سے برف صاف کر دی گئی ہے اور 3 روز سے بند شاہراہ ابتدائی مرحلے میں ون وے لائٹ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔

گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں چوتھے روز بھی برف باری جاری ہے، تمام زمینی رابطے منقطع ہونے کے باعث شہریوں اور انتظامیہ کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: حافظ آباد، دھند سے بس حادثے کا شکار، 5 باراتی جاں بحق

پاراچنار میں برف باری کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہو گیا ہے اور وسطی کرم میں آمد و رفت کے راستے بھی بند ہو گئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کی وادیٔ رزمک میں ہونےوالی برف باری دیکھنے کے لیے سیاح وادی میں پہنچ رہے ہیں تاہم سہولتیں نہ ہونے کے باعث انہیں پریشانی کا سامنا ہے۔

قومی خبریں سے مزید