آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

موٹے افرادکیلئے اپنے وزن کے اینکر پوائنٹس پہچاننا ضروری

لندن ( جنگ نیوز) ماہرین غذائیت نے دعویٰ کیا ہے کہ وزن میں کمی کے خواہش مند افراد اپنے وزن کے اینکر پوائنٹس کو پہچان لیں تو وہ ناصرف دوبارہ موٹے ہونے سے بچ جائیں گے بلکہ اپنے وزن کو بھی متوازن رکھ سکیں گے۔ برطانوی ٹیبلائیڈ میں شائع ہونے والی ریسرچ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف لندن کے بیریاٹرک سرجن ڈاکٹر اینڈریو جینکنسن نے بتایا کہ لوگ اپنا وزن تو کم کر لیتے ہیں لیکن وہ اس کو متوازن کیوں نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا اگر کوئی شخص اپنا وزن کم کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے کھانے میں کیلوریز کی مقدار کو گننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے اس نظریے کے مطابق وزن کم کرنے کیلئے آپ کو اپنے جسم میں انسولین لیول کو کم کرنے اور کاربوہائیڈریٹس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جبکہ اس دوران آپ دن میں 2 یا تین مرتبہ کھانا کھاسکتے ہیں اور اس کیلئے ڈائٹنگ کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ ڈاکٹر اینڈریو نے بتایا کہ انہوں نے یہ نتیجہ اپنے ان مریضوں پر سٹڈی سے اخذ کیا ہے جو ڈائیٹنگ کے باوجود وزن کم نہیں کر پاتے بلکہ ان کا وزن مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر انسان کا وزن اور اس کی جسامت کے مطابق اس کی پیمائش دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ انسانی جسم کی ساخت کے مطابق وزن ہو تو اسے متوازی رکھا

جاسکتا ہے اگر اسے اس کی مناسبت سے کم کر دیا جائے تو وہ دوبارہ موٹاپے کی جانب جانا شروع کر دیتا ہے۔ اس کی مثال انہوں نے ایک ربڑ بینڈ سے دی اور کہا کہ ہم جتنا زور سے ربڑبینڈ کو کھینچیں گے وہ اتنی ہی تیزی کے ساتھ اپنی اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گا۔ اگر اسے اس کی مقرر گنجائش کے مطابق کھینچا جائے تو اس میں قوت بھی کم لگے گی اور واپس آتے ہوئے مزید سکڑنے سے بچ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنی جسامت کے مطابق اس وزن تک جانے کی کوشش کرنی چاہیے اور متوسط وزن کے پیمانے کے مطابق خود کو دیکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ جسامت کی مطابقت سے زائد ڈائٹ پلان کریں گے یا کوشش کریں تو یہ کوشش بیکار جائے گی۔ غذا سے متعلق ڈاکٹر اینڈریو نے کہا کہ آپ کو مختلف صحت مند غذائیں جاری رکھنی چاہیئں اور ایسی غذا سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں مصنوعی ویجیٹیبل آئل موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں معاملہ کیلوریز کا نہیں بلکہ اس کا انحصار آپ کے کھانے اور طرز زندگی پر ہے۔ ڈاکٹر اینڈریو کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ فیٹ کی وجہ سے آپ کے جسم کا متوسط وزن بڑھنے لگتا ہے لیکن مصنوعی ویجیٹیبل آئل کی وجہ سے میٹابولزم پر فرق پڑتا ہے۔ فاسٹ فوڈ یا پروسسڈ فوڈ ایسی غذائیں ہیں جن میں مصنوعی ویجیٹیبل آئل بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

یورپ سے سے مزید