آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بگ باس سیزن 13، برہمن سدھارتھ نے اقلیت کے عاصم کو ہرا دیا

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کا مقبول ترین ریئلیٹی شو بگ باس کا سیزن 13 اپنے تمام تر گلیمر، تنازعات اور گروہ بندیوں کے بعد عاصم ریاض کی شکست اور سدھارتھ شکلا کی جیت پر اختتام پزیر ہوا۔لیکن شو کے مداح اس جیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کوئی اس شو کوا ’سکرپٹڈ‘ تو کوئی اسے ’متعصب‘ کہہ رہا ہے جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو اسے ’مذہبی عینک‘ سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سدھارتھ شکلا کو بگ باس 13 کا فاتح قرار دے دیا گیا اور انھیں 50 لاکھ روپے کے ساتھ ایک سوینکی کار بھی انعام میں ملی ہے۔سوشل میڈیا پر جہاں #BigBoss # ،#BiggBoss13Finale کے ساتھ #AsimRiaz اور #FixedWinnerSidharth ٹرینڈ کر رہا ہے وہیں کئی گھنٹوں تک پہلے نمبر پر #MyWinnerAsim اور #AsimDeservesTrophy کے ساتھ تیسرے نمبر پر #BiasedBiggBoss بھی ٹرینڈ کرتا رہا تھا۔جے ڈی بی دی راکنگ کہتے ہیں ’بگ باس ہارنے سے نہیں جیتنے سے ڈرو۔ سدھارتھ شکلا کو کبھی کوئی عزت نہیں ملے گی۔ اسے کوئی کام نہیں ملے گا۔ اسے اب تک کے سب سے زیادہ #BiasedBiggBoss کے #FixedWinnerSidharth کے نام سے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ #MyWinnerAsim ہمیشہ ستارے کی طرح چمکتا رہے

گا۔اجیت سنگھل نامی ٹوئٹر صارف کلرز ٹی وی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’مبارک باد، میں آپ کے چینل کو دیکھنا بند کرنا چاہتا تھا۔ بالآخر آپ نے مجھے یہ موقع فراہم کر دیا۔‘علیشا چودھری کہتی ہیں ’یہ سیزن عاصم کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔سدھارتھ شکلا کے ایک مداح سنچیٹاسٹک کہتے ہیں ’دہلی انتخابات میں ہار کے بعد کسی کی جیت آج پسند آئی ہے۔ ہندوؤں کے دل کا راجہ سدھارتھ شکلا جیت گیا اور عاصم ریاض اب کاغذ نکالے گھر جا کر۔ساون سریواستو نامی صارف کا کہنا ہے ’بگ باس 13 کے فائنل میں برہمن سدھارتھ شکلا نے اقلیت کے عاصم ریاض کو ہرا دیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ پچھلے سیزن میں بھی اعلی ذات کی شلپا شنڈے نے اقلیت سے تعلق رکھنے والی حنا خان کو ہرا دیا تھا۔ ملک ہو یا بگ باس ہندو ازم کا ہر جگہ حاوی ہونا تشویشناک ہے۔‘بہر حال سدھارتھ شکلا کے حامی بہت خوش ہیں جبکہ عاصم ریاض کے حامی بظاہر اداس ہیں لیکن انھیں اس بات پر خوشی ہے کہ عاصم کے لیے زیادہ تالیاں بجیں اور سدھارتھ کے لیے کم۔

دل لگی سے مزید