آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
یہ زمانہ ہے1955ء کا۔ ایک لڑکی جو شعر لکھتی تھی، وہ اسلامیہ کالج کوپر روڈ میں داخل ہوئی اور دوسری لڑکی جس نے نئے نئے شعر کہنے شروع کئے تھے وہ لاہور کالج میں داخل ہوئی۔ ایک لڑکی کا نام شبنم عابد علی تھا اور دوسری کا کشور ناہید۔ آمنا سامنا اور ملاقات ہوئی اسلامیہ کالج سالانہ مشاعرے میں ،جس کی صدارت زہرہ نگاہ کر رہی تھیں۔ یہ تھی پہلی ملاقات اور دوستی کا آغاز ہم سے سینئر شاعرات پروین فنا سید اور فرحت شجاع تھی۔ یہ دونوں شاعرات صرف خواتین کے کالجوں کے مشاعروں میں جاتی تھیں اور دونوں ترنم سے پڑھتی تھیں۔ شروع شروع میں خواتین کے ان مشاعروں میں شبنم بھی ترنم کے ساتھ پڑھا کرتی تھی۔ لڑکیوں کے کالجوں میں بین الکلیاتی مشاعروں میں شبنم کی بہت مانگ ہوتی تھی، ترنم کے پیچھے طالبات دیوانی ہو جاتی تھیں۔پھر یوں ہوا کہ1956ء میں قلعہ لاہور میں ہم دو شاعرات کے ساتھ شام منائی گئی۔ شبنم اس زمانے میں صرف غزل کہتی تھی، میں بھی غزل کے علاوہ نظم کہنے سے ڈرتی تھی۔ اس شام کی صدارت صوفی تبسم نے فرمائی۔ میں نے کہا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین شاعرات کو مرد لکھ کر دیتے ہیں اس بات کو سچ مان کر میرے حصے کی داد، صاحب صدر سمیٹتے رہے ہیں۔ مجمع میں قہقہہ پڑا مگر پہلی دفعہ ہم دونوں کو بطور شاعرات تسلیم کیا گیا۔ شبنم اور میں اس زمانے میں یعنی

بی اے تک برقعہ اوڑھا کرتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ میں پنجاب یونیورسٹی چلی گئی اور شبنم اورنٹیل کالج۔ اب ہمارے ساتھی بھی بدل گئے۔ شبنم کے ساتھ خالدہ حسین تھی اور میرے ساتھ گورنمنٹ کالج کے نوجوان شعراء تھے۔ میری عابد علی عابد صاحب سے ملاقات کبھی شبنم کے ساتھ نہیں ہوئی تھی۔ کبھی ریڈیو پر، کبھی صوفی صاحب کے یہاں اور کبھی مختار صدیقی کے ٹی وی کے دفتر میں، زندگی گزرتی گئی۔ اب ہماری ملاقاتوں میں وقفے آنے لگے۔ شبنم نے ہماری دوسری سینئر شاعرات، ادا جعفری اور زہرہ نگاہ کی طرح شادی کے بعد، معلوم نہیں شعر کہے کہ نہیں البتہ مشاعرے پڑھنے چھوڑ دیئے تھے۔ یہ کوئی آٹھ سال کا وقفہ آیا شادی کے بعد شبنم مشرقی پاکستان سے ہوتی ہوئی کوئٹہ میں آباد ہوئی۔ اچانک قاسمی صاحب کے ساتھ ایک شام کوئٹہ میں ٹھہری۔ یوسف اور میں بھی مدعو تھے۔ یہ گھر تھا شبنم کا جو کہ شبنم عابد علی سے شبنم شکیل ہو چکی تھیں۔شکیل کا جب لاہور تبادلہ ہوا تو ہماری ایک تکون بن گئی شبنم، منیر نیازی اور میں۔ کیا مزے تھے منیر نیازی کے،دو شاعرات اس کے نازو نخرے اٹھاتی تھیں۔ اس لئے وہ اب ہماری تعریف بھی کرتے تھے اور ہمارا بھی طیب لوگوں میں شمار کرنے لگے تھے۔ اسی طرح کی ایک محفل میں میڈم نورجہاں بھی آگئیں۔ میڈم نے منیر نیازی کے حسن کی تعریف کر دی پھر کیا تھا اب تو منیر نیازی نے کہنا شروع کردیا کہ نورجہاں بھی مجھ سے عشق کرتی ہیں۔ جب یہ خبر میڈم کو ہوئی تو پھر عشق کا سارا مزا کرکرا ہو گیا اور منیر نیازی کو پھر اپنی بیوی صغریٰ کی ہی تعریفیں کرنی پڑیں بلکہ اس کے نام پرنظمیں بھی لکھیں۔
شکیل کی نوکری بدلی۔ اب شبنم کا قافلہ اسلام آباد آکر ٹھہرا۔ ابھی تک شبنم کالج میں پڑھا رہی تھیں۔ میں ابھی لاہور ہی میں تھی جب میں1994ء میں اسلام آباد ٹرانسفر ہو کر آئی تو شبنم نے بہت بڑی پارٹی کی اور ہماری نئی تکون بن گئی۔ خالدہ حسین، شبنم اور میں۔ خالدہ جو بھی کہانی لکھتی اس کے اولین قاری میں اور شبنم ہوتے۔ جب میں تازہ غزل یا نظم لکھتی تو ٹیلیفون پر ہم دونوں ایک دوسرے کو نئی تخلیقات سنایا کرتے تھے، خالدہ بھی ہماری سامع ہوا کرتی تھی۔ ابھی تک شبنم اپنا مجموعہ کلام شائع کرنے سے ہچکچاتی تھی۔ خالدہ اور میں نے بہت زور دیا تو پھر پہلا مجموعہ اضطراب کے نام سے شائع ہوا ، زندگی کا سفر آگے کو بڑھ رہا تھا، بچے بڑے ہو رہے تھے مگر شبنم اور بچوں کے درمیان جیسی دوستی تھی ایسی دوستی میں نے کہیں ماں اور اولاد کے درمیان نہیں دیکھی۔ اب وہ نظمیں بھی لکھنے لگی تھی۔ اب اسے اپنے عورت ہونے کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ اپنی نازوں پلی بیٹی ملاحت کے نام اس نے ورثہ کے ٹائٹل کے ساتھ ایک نظم لکھی۔ موت کے کنویں میں سائیکل چلاتی عورت کو ایک نظم میں منعکس کیا۔ غزل میں بھی اب اس کا لہجہ کہہ رہا تھا ”آدھی مان چکی ہوں اس کی،آدھی بات پہ اڑی ہوئی تھی“۔
شبنم نے گاہے بگاہے کہانیاں لکھنی بھی شروع کی تھیں۔ اس کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوا اس کو اپنے والد سے موسیقی کا شوق ورثے میں ملا تھا اس نے اپنے شوق کو لفظوں میں ڈھالا۔ دو چار ماہ کے بعد، چار پانچ فنکاروں کے بارے میں مضامین لکھ کر مجھے بھیج کر پوچھتی، بتاؤ کیسے ہیں؟ خواجہ نجم نے جب ٹی وی پروگرام ’آواز تو دیکھو“ بنانا شروع کیا۔ تمام اسکرپٹ خوشی خوشی مگر بے پناہ ریسرچ کے بعد شبنم نے لکھنے شروع کئے، اس عرصے میں بیماری آکر اس کا پتہ پوچھتی رہی مگر1994ء سے2013ء تک ہماری تکون یعنی خالدہ، شبنم اور میری تکون قائم رہی۔ ہم کتابیں ایک دوسرے کو بھیجتے، دنیا بھر کے اسکینڈلز پہ باتیں کرتے اور مرد دوستوں کی رعونت کا بھی مذاق اڑاتے۔ سال بھر سے وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تھی، اپنی دوائیاں لیکر آتی اور مجھے دفتر سے نیچے بلوا لیتی۔ ہم آپس کے دکھ سکھ کرتے، باتیں کر کے جیسے وہ نہال ہو جاتی یوں ہماری تکون چلتی رہی۔آج جب شبنم ہمیں چھوڑ کرچلی گئی ہے دو نقطے تو فاصلے ہی پہ رہتے ہیں، ہماری زندگی اور ادب کی تکون ٹوٹ گئی ہے۔