آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شعلہ بیانی برقرار تو نتائج بھی برقرار

مشرف کی آمریت ابھی جوان تھی، آمریت اگر بوڑھی بھی ہو بلکہ در پردہ بھی ہو تب بھی مخالفانہ آوازیں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی، خواجہ سعد رفیق کی طبیعت میں شعلہ بیانی صاف محسوس ہوتی ہے۔ اُس وقت تو آتش جواں بلکہ نوجواں تھا لہٰذا برداشت کیسے ہوتے، دھرے گئے۔ نہ صرف دھرے گئے بلکہ تشدد کا بھی نشانہ بنے۔ ابھی وہ قید ہی تھے تو ایک دن اُن سے ملاقات ہوئی۔ مشرف کے زمانے سے ہی ان سے سلام دعا کا آغاز ہوا تھا، مزاج آشنائی ہو چکی تھی۔ سعد رفیق باہر آ کر حشر بپا کرنے کی تیاریوں میں جتے ہوئے تھے کہ بس رہا ہوا تو دوبارہ کام چل سو چل، جب کام آگے بڑھنے کی طرف تھا تو اُن کو کہا کہ آپ کی گرفتاری بھی بار بار کی گرفتاریوں میں تبدیل ہو جائے گی اور وہاں سے بھی کام چل سو چل ہی رہے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے اس وقت امریکہ میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف جدوجہد کرنے والے دو بھائیوں کا تذکرہ کیا تھا کہ وہ کس طرح بار بار امریکہ کی ایٹمی ہتھیاروں کی پالیسی سے ٹکرا رہے تھے اور بار بار جیل یاترا کر رہے تھے اور اگر آپ بھی بار بار ٹکرائیں گے تو بار بار آپ کو بھی جيل یاترا کرائی جائے گی۔

ڈینیل اور فلپ بنیادی طور پر مذہبی شخصیات تھیں، یہ دونوں بھائی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مزاحمت اور جنگوں کے خلاف نقطہ نظر پیش کرنے والوں کے لیے اپنی جدوجہد کے باعث ایک مثال بن گئے، اِن دونوں بھائیوں کا نام اُس وقت اخبارات کی زینت بنا جب انہوں نے اپنے دیگر سات ہم خیال افراد کے ہمراہ ویتنام جنگ کیخلاف 1968میں غیرمعمولی کارروائی کر ڈالی۔ ان افراد نے ویتنام جنگ کے حوالے سے امریکی فوج کی 378ڈرافٹ فائليں حاصل کیں اور ان تمام ڈرافٹ فائلوں کو دیسی قسم کے نیپام بم سے جلا ڈالا۔ امریکی انتظامیہ اور فوج میں ایک شور مچ گیا، اس کارروائی کو کینٹن وِلا نائن ایکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تمام افراد گرفتار ہوئے، سزا ہوئی، جیل بھیج دیے گئے لیکن اُن کی اس کارروائی کو دیکھتے ہوئے ویتنام جنگ کے خلاف ایسی سینکڑوں کارروائیاں دیگر افراد نے کر ڈالیں۔ امریکی حکومت پر دباؤ ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ بات ایک واقعہ تک محدود نہیں رہی بلکہ 9ستمبر 1980کو یہ دونوں بھائی اپنے دیگر چھ ساتھیوں کے ہمراہ پینسلو ریٹا کے قصبے کنگ آف یوریشیا میں جنرل الیکٹرک ایٹمی پلانٹ میں داخل ہوئے، وہاں پر پڑے غیرمسلح ایٹم بم کے اگلے حصے پر ضربیں لگانا شروع کردیں، نتیجتاً قید کی سزا سنا دی گئی۔ 12فروری 1997کو فلپ نے باتھ آئرن ورکس کے اندر ایک امریکی نیوی کے ایٹمی اسلحہ بردار جہاز پر کارروائی کر ڈالی اور وہاں پر موجود ایٹمی ہتھیار پرضربیں لگانا شروع کر دیں، قيد تو ہونا ہی تھا۔ 1997ء میں Maineکی جیل سے انہوں نے لکھا کہ ہم اس وقت تک ایٹمی ہتھیاروں کو ختم نہیں کر سکیں گے جب تک حکومت میں اپنی نمائندگی حاصل نہیں کر لیتے۔ امیر اور غریب کے درمیان قطبین کا فرق ختم نہیں کر سکیں گے اور امریکی حکومت پر فوج اور بڑے سرمایہ داروں کا غلبہ ختم نہیں کر سکیں گے، جب تک NOکہنا نہیں سیکھ لیتے۔میں نے اس وقت خواجہ سعد رفیق کو کہا تھا کہ آپ رہا ہو بھی گئے تو بہرحال دوبارہ کبھی نہ کبھی جیل پھر ضرور بھیجے جائیں گے کیونکہ آپ نے NOکہنا سیکھ لیا ہے۔

برسبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ جنگ گروپ کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اس نے NOکہنا سیکھ لیا ہے تو پھر قید میں بھائی کی موت کی خبر بھی قیامت بن کر سامنے آ جاتی ہے، NOکہنے کی بہرحال قیمت چکانا پڑتی ہے۔ بہرحال یہ واقعہ مجھے کچھ دن قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں خواجہ سعد رفیق سے ملاقات کے وقت بار بار یاد آرہا تھا، وہ اُس وقت تک رہا نہیں ہوئے تھے لیکن پُرامید تھے کہ ان کو زبردستی جتنے دن قید رکھا جا سکتا تھا، رکھ لیا گیا اور اب ان کو رہا کرنا ہی پڑے گا اور جب ان کو رہا کرنا پڑے گا تو وہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے اس بیانیے کے ساتھ مکمل طور پر جڑے ہوئے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ آج جب وہ اس بیانیہ کے ساتھ جڑے ہیں تو ایسی صورت میں یہ طے شدہ امر ہے کہ ان کی شعلہ بیانی کسی صورت دوبارہ بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈینیل اور فلپ دونوں بھائیوں کے سامنے اپنے ملک امریکہ کی یہ پالیسی تھی کہ امریکہ ایٹمی ہتھیار رکھ سکتا ہے اور صرف رکھ ہی نہیں سکتا بلکہ جب اس نے ضرورت محسوس کی تو چلا بھی ڈالے اور وہ دونوں اس طریقہ کار کو نہ صرف عالمی امن کے خلاف تصور کرتے تھے بلکہ امریکہ یعنی اس کے عوام کے متعدد مسائل کا باعث بھی انہی پالیسیوں کو قرار دیتے تھے، جب قرار دیتے تھے تو ان کو قرار کیسے آسکتا تھا جن کو یہ پالیسیاں راس آئی ہوئی تھیں لہٰذا سو سے زائد بار گرفتار ہوئے۔سعد رفیق کے سامنے یہ مثال رہنی چاہئے کہ شہباز شریف واپس آئے تو نوٹس، شاہد خاقان عباسی کی ضمانت ہوئی مگر پھر وارنٹ اور ہاں! حمزہ شہباز کو رہا کر دینا سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔ ایسے میں سعد رفیق رہا ہو بھی گئے مگر شعلہ بیانی برقرار تو پھر نتائج بھی برقرار۔