آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کوویڈ-19 بحران اور عالمی بینکاری و مالیاتی نظام

یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی جارہی ہے کہ کوویڈ19- بحران کے نتیجے میں بینکوں کا تمام تر ماحولیاتی نظام بشمول مالیاتی اداروں کے ساتھ صارفین سے تعامل کرنے کے سابقہ روایتی طور طریقے غیر مؤثر ہوکر رہ جائیں گے۔ مستقبل میں، ہم اس عرصے کو ایک ایسے نکتہ کے طور پر یاد رکھیں گے، جو سابقہ روایتی دور، اور کوویڈ-19 کے بعد پیدا ہونے والے ’نیونارمل‘ (New Normal)کو ایک دوسرے سے واضح طور پر الگ کردے گا۔

ایسا نہیں ہے کہ کوویڈ-19 سے قبل کے عرصے میں بینکاری نظام کے سربراہان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، صارف تجربہ، ڈیٹا اور ایڈوانسڈ اینالیٹکس، اور اختراع و ٹیکنالوجی کو بینکاری نظام میں کس طرح استعمال کرنا ہے؟ ہاں، یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ سب کچھ ٹھیک جارہا تھا، ایسے میں کسی کو کوئی عجلت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ کوویڈ-19 نے یہ سب بدل کر رکھ دیا ہے۔

’نیونارمل‘ کے دور میں ہم نے دیکھا ہے کہ کام کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے، صارفین بینکاری کس طرح کرتے ہیں، ملازمین نئے ہنر کس طرح سیکھتے ہیں اور برانڈز کے بارے میں کس طرح سوچا جاتا ہے؛ ان سب سے متعلق ہمارا نظریہ بدل گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں کس حد تک اپنی جڑیں ہمیشہ کے لیے مضبوط کرلیں گی، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کاروباری ادارے اور معاشرتی حرکیات کس قدر جلد نئے توازن کی طرف پیش قدمی کرجاتے ہیں۔

ایک بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری کردہ خصوصی رپورٹ ’’آفٹر دی وائرس‘‘ (وائرس کے بعد) میں کوویڈ-19 کے نتیجے میں پانچ سال بعد کام، تعلیم، تفریح، ای کامرس، انسانی سماجیات اور ماحولیات کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ، زندگی کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لے کر اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں یہ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں، مہینوں اور برسوں میں بینکاری صنعت کے لیے ایسے ضروری اقدامات کا تعین کیا جاسکے، جو اسے مستقبل میں صارفین کی بینکاری ضروریات کو بہتر اور مؤثر انداز میں پورا کرنے کے لیے لینے ہوں گے۔

دنیا راتوں رات ڈیجیٹل ہوگئی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کوویڈ19-سے قبل، بینکاری صنعت کے’ڈیجیٹل‘ پر منتقل ہونے کی باتیں بہت سُنی جاتی تھیں، لیکن درحقیقت 15فیصد سے بھی کم ادارے ایسے تھے، جنھیں حقیقی معنوں میں ’ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن لیڈرز‘ کہا جاسکتا۔ دراصل، مالیاتی بحران کے بعد کے پورے عشرے میں ہم نے چند ایک ہی ایسے بینکاری ادارے دیکھے جنھوں نے خود کو ڈیجیٹل دور کے لیے تیار بینک بنانے کی کڑوی گولی نگلی۔ کوویڈ19-کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال سے ایسے بینکاری ادارے یقیناً دیگر کے مقابلے میں زیادہ فوائد حاصل کرپائیں گے۔ ایسے بینکوں نے ڈیجیٹل بینکاری پر جو سرمایہ کاری ایک عشرہ قبل کی تھی، آج انھیں اس کا صحیح معنوں میں منافع حاصل ہوگا اور وہ مقابلہ کی دوڑ میں ایک قدم آگے رہیں گے۔

تاہم جیسے ہی کوویڈ-19 کی وبا پھیلی، سب کچھ ہی بدل کر رہ گیا۔۔ راتوں رات! سارے ادارے اپنے صارفین کو نعم البدل کے طور پر ڈیجیٹل بینکاری فراہم کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یہی نہیں، کئی ملازمین کو بھی آن لائن کام کرنے کا کہہ دیا گیا۔ ’’ہرکام جو آن لائن ہوسکتا تھا، اسے آن لائن کردیا گیا‘‘۔ وہ ادارے جو اس صورتِ حال کے لیے تیار نہیں تھے، وہ کاروبار کے نئے مواقع کھو بیٹھے اور ان کا روایتی کاروباری انداز ان کے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بھی بنا۔

تاہم، کئی ادارے، نئی دنیا سے ہم آہنگ ہونے سے ایک قدم آگے جانے کے راستے تلاش کررہے ہیں، جن کے بارے میں ماضی میں معلوم تھا کہ یہ ممکن ہے لیکن اس طرف پیش قدمی نہیں کی گئی تھی۔ جس طرح سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں کوویڈ-19 کے بعد کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، اسی طرح بینکاری صنعت میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جارہا ہے اور اختراعی پراڈکٹس پر کام تیز کردیا گیا ہے، جنھیں ماضی میں طویل مدتی منصوبوں کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔

چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو یا پھر بینکاری صنعت، ایک بار جب ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ممکنہ نتائج انھیں ملنا شروع ہوجائیں گے، وہ واپس کیوں جانا چاہیں گے؟ کوویڈ کے بعد کی دنیا میں ایک بینک کیوں چاہے گا کہ کھاتہ دار معمولی کاموں یا مسائل کے حل کے لیے بینک برانچ کا رخ کرے؟ جیسے قرض درخواست دینا وغیرہ۔ بینکاری ادارے یقینا سابقہ روایتی بینکاری کی طرف لوٹ جانے کے بجائے ڈیجیٹل عمل گیری میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور اسے مزید سہل بنانے پر کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔

کام کا نیا مستقبل (گھر سے کام کریں)

اس سے قبل، بینکاری صنعت سے وابستہ اکثر ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کی بحث صرف۔۔ برائے بحث ہی تھی۔ زیادہ سے زیادہ آؤٹ سائیڈ سیلز سے وابستہ افرادی قوت یا پھر چند بیمار ملازمین کو یہ رعایت حاصل تھی۔ عمومی طور پر، گھر سے کام کرنے کی درخواستوں کو یہ تصور کرتے ہوئے مسترد کردیا جاتا تھا کہ اس سے ادارے کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا۔ کوویڈ19-کے بعد ہر فرد کے لیے گھر سے کام کرنا مجبوری بن گیا۔

یقینا، ابتدائی ہفتہ، دس روز گھر سے کام کرنا آسان نہیں تھا کہ کوویڈ کے باعث خاندان کا ہر شخص ہی گھر پر تھا لیکن جلد ہی سب نے نئی روزمرہ کا تعین کرتے ہوئے اس کے مطابق خود کو ڈھال لیا۔ چند ایک نئی چیزیں خریدی گئیں، گھر میں نیا ماحول پیدا کیا گیا اور کام کے نئے شیڈول ترتیب دیے گئے (خاندانی زندگی اور کام میں توازن قائم کرنے کے لیے)۔

مستقبل میں جب کورونا وائرس کا مسئلہ ٹھنڈا پڑ جائے گا، کچھ ملازمین اپنے روایتی دفتروں کی جانب لوٹیں گے۔ لیکن کئی ایسا نہیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق، ’’دفاتر مکمل طور پر ختم نہیں ہوجائیں گے، لیکن ہفتے میں چالیس، پچاس یا ستر گھٹنے کام کرنے کا تصور ضرور اپنی موت مرجائے گا۔ دفتر، تیسرے صنعتی انقلاب کی پیداوار تھا۔ چوتھا صنعتی انقلاب اس کی ضرورت کا ختم کردے گا‘‘۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے، کیا مستقبل میں بینکس کے ہیڈ کوارٹرز قائم کرنے کے لیے کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کی ضرورت باقی رہے گی؟

جسمانی اور ذہنی تخلیق کے مواقع

انگریزی کا لفظ کرائسس چینی زبان میں دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ایک خطرے جبکہ دوسرا موقع کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک بحران کو خطرے کے طور پر دیکھا جائے گا یا موقع کے طور پر، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کی توجہ بحران کے نتیجے میں ہونے والے نقصان پر مرکوز رہی یا ان ممکنہ مواقعوں پر جو اس بحران کے نتیجے میں پیدا ہوئے، جن سے آپ بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے تھے۔

ایسے میں یہ بات اہمیت اختیار کرجاتی ہے کہ ہم ان چیلنجز کو ایک خاص زاویہ نگاہ سے دیکھیں اور ممکنہ مواقعوں اور فوائد پر توجہ رکھیں۔

جم، کمیونٹی سینٹر، ہیلتھ سینٹر اور پارکوں وغیرہ کے بند ہوجانے اور طویل مدتی تن دوری (سوشل ڈیسٹنسنگ) کے باعث کئی لوگوں کو جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بات خصوصاً ایسے لوگوں کے لیے زیادہ سچ ثابت ہوئی ہے جو ایک منظم روزمرہ کے مطابق چلتے ہیں۔

لوگوں نے عمومی زندگی کے دیگر کئی شعبہ جات کے امور انجام دینے کے لیے جس طرح تخلیقی طریقے اختیار کیے، کئی لوگوں نے ورزش کے بھی نت نئے طریقے ڈھونڈ نکالے۔ کچھ لوگوں نے ورزش کو مانیٹر کرنے والی ایپس ڈاؤن لوڈ کرلیں تو کچھ لوگوں نے ورزش کے نئے آلات خریدلیے۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے کیلوریز جلانے کے نئے اور انوکھے طریقے ڈھونڈ نکالے۔

گھر سے کام کرنے کے باوجود، کئی لوگوں کے پاس روزمرہ کی مصروفیات کے بعد نئی چیزیں کرنے کے لیے وقت نہیں بچتا۔ تاہم تھوڑی سی اضافی محنت سے اس وقت کو بہت اچھی طرح بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جیسے کئی لوگوں نے اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے آن لائن کورسز میں داخلہ لے لیا، کچھ لوگوں نے اپنے موجودہ ہنر میں اضافے کی کوششیں تیز کردیں تو کچھ لوگوں نے ذاتی شوق پورے کرنے کو ترجیح دی۔

کئی ادارے اپنے ملازمین کو کوویڈ19-کے بعد کی دنیا کے لیے تیار کرنے کے لیے ڈیجیٹل تربیت کے پروگرام ترتیب دے رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ شعبہ ایک بڑے رجحان کے طور پر سامنے آئے گا اور ڈیجیٹل اینالیٹکس، پروگرامنگ اور نئی ٹیکنالوجیز کی مانگ میں ہونے والا اضافہ، اس شعبہ کے ماہرین کی رسد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگا۔

فائدے پر مقصد کو فوقیت

کوویڈ-19 کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے باعث کئی کاروبار بند ہوگئے ہیں،جس کا ملازمین اور صارفین، دونوں پر فرق پڑا ہے۔ بحران اس لیے بھی شدت پکڑ گیا ہے کہ کئی حکومتیں سست روی کا شکار ہیں اور انھوں نے ملازمین کو سہولتیں فراہم کرنے کی پوری ذمہ داری کمپنیوں پر ڈال دی ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ کئی بڑی اور چھوٹی کمپنیوں نے اپنے ملازمین، صارفین اور کمیونٹی کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔

کئی کمپنیوں نے اپنی پروڈکشن لائنز کو وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی تیاری میں لگادیا تو کئی ادارے اپنے ملازمین اور ضرورت مندوں کو براہِ راست یا دیگر اداروں کے ذریعے معاونت فراہم کررہے ہیں۔ کئی اداروں نے گھر سے کام کرنے کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔

زندگی سابقہ معمول کی جانب کب لوٹے گی، کسی کو نہیں معلوم۔ ایسے میں اداروں پر کچھ مختلف سوچنے اور کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ وہ مالیاتی ادارے جو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوںگے، انھیں ’برانڈ‘ اور ’شیئرہولڈر‘ دونوں نکتہ نظر سے فائدہ ہوگا۔

مستقبل میں پائیداری (Sustainability)(یعنی ایک ادارہ کی اپنے فطری ماحول کو فروغ دینے، خصوصی مقاصد کے حصول اور کارپوریٹ گورننس پرعمل درآمد سے نیک نیتی ) کو دیگر تمام امور پر فوقیت حاصل ہوجائے گی۔ کئی لوگ پہلے ہی دنیا کے بند ہوجانے کے ماحولیات پر اثرات کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم ایک بار جب کوویڈ19- بحران سے نکل آئیں گے، صارفین کے لیے پائیدار اقداما ت اولین اہمیت اختیار کرجائیں گے۔یہی وقت ہے کہ مالیاتی ادارے بھی اس طرح کے اقدامات کو اپنی ترجیحات میںشامل کرلیں۔

مستقبل کا خاکہ تیار کرنے کا یہی وقت ہے

ہرچندکہ ابھی کسی پر یہ واضح نہیں کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی، ایک حقیقت البتہ سب پر عیاں ہوگئی ہے۔ تبدیلی ایک لمحہ میں آسکتی ہے۔ تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسے میں مالیاتی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات لیں اور خود کو اس طرح پوزیشن کریں کہ وہ تبدیل شدہ ماحول سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں۔

بینکاری نظام کا تحفظ

کورونا وائرس ایک ایسی وبا کی شکل میں سامنے آیا ہے، جس کے اثرات عالمی مالیاتی بحران سے زیادہ شدید دیکھے گئے ہیں۔ اس سے پہلے جدید معیشتیں یوں دیکھتے ہی دیکھتے کبھی بند نہیں ہوئیں۔ ایک سے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی کئی لوگ اپنے روزگار اور آمدنی کے ذرائع کھو بیٹھے۔ ریستوران، ہوٹل، ایئرپورٹ، سب خالی پڑگئے اور کئی کاروباری اداروں اور صارفین نے شدید نقصانات اٹھائے ہیں، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر متعدد ادارے اور افراد دیوالیہ پن میں جاچکے ہیں یا چلے جائیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بینکاری نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ حکومتی بیل آؤٹس اور ادائیگیوں کو ایک خاص عرصے تک مؤخر کرنا، ایک حد تک ہی سو دمند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ جب پھر سے ادائیگیوں کا سلسلہ شروع ہو گا تو بینکاری نظام پھر سے دباؤ میں آسکتا ہے اور گزشتہ مالیاتی بحران سے زیادہ شدید حالات دیکھے جاسکتے ہیں۔

ایسے میں، بینکاری نظام کے پالیسی سازوں کے ذہنوں پر یہی سوال ہے کہ، ایسی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

2008کے مالیاتی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی پالیسی سازوں نے تباہ حال مالیاتی شعبہ کے ریگولیٹری فریم ورک کو ازسرنو مرتب کرنے کے لیے بے مثال باہمی اشتراک کا مظاہرہ کیا تھا۔ بینکوں کے سرمایہ اور لیکویڈٹی کے معیار اور حجم کے لیے مقرر کم از کم معیارات میںقابلِ ذکر اضافہ کیا گیا تھا تاکہ بینکاری نظام کسی بھی غیرمعمولی دباؤ کا مقابلہ کرسکے۔ موجودہ بحران میں بھی عالمی پالیسی سازوں کو اسی نوعیت کے اقدامات لینے کی ضرورت ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں اور مرکزی بینک اہم اور ضروری اقدام لے رہے ہیں، جوکہ ایک خوش آئند بات ہے۔