آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ذیقعد 1441ھ9؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان میں حادثات پر تحقیقاتی رپورٹس کی تاریخ اچھی نہیں، تجزیہ کار

’پاکستان میں حادثات پر تحقیقاتی رپورٹس کی تاریخ اچھی نہیں‘


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال حادثے کا شکار طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈمل گیا، کیا حادثے سے متعلق غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات ہوسکیں گی؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہاکہ پاکستان میں حادثات پر تحقیقاتی رپورٹس کی تاریخ اچھی نہیں ہے۔

ایک دوسرے سوال پر تجزیہ کاروں نے کہاکہدھماکوں کے بغیر پاکستان کو عالمی سطح پر ایٹمی طاقت تسلیم کیا جانا ممکن نہیں تھا۔منیب فاروق نے کہا کہ پاکستان میں حادثات پر تحقیقاتی رپورٹس کی تاریخ اچھی نہیں ہے۔

کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ آنے سے پہلے نہیں کہا جاسکتا کہ تحقیقات شفاف نہیں ہوئی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ میں کسی کو بچانے کیلئے ڈنڈی ماری گئی تو پتا چل جائے گی، موجودہ حالات میں جبکہ عوامی دباؤ بہت زیادہ ہے تحقیقاتی رپورٹ میں کوئی بڑا جھول نہیں ہوگا۔ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شامل پی آئی اے کی آج سب سے زیادہ شرح حادثہ ہے، اب تک 15ہوائی حادثے ہوچکے ہیں کسی کی تحقیقات منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔

کراچی طیارہ حادثہ کا ذمہ دار بھی پائلٹ کو قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اب وہ جواب دینے کیلئے موجود نہیں ہے اور اسی میں پی آئی اے کا فائدہ ہے،کراچی طیارہ حادثہ کی تحقیقاتی رپورٹ ضرور آئے گی مگر غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات نہیں ہوں گی، حویلیاں طیارہ حادثہ کے پائلٹ کی ماں آج بھی روتی ہے کہ میرے بیٹے کو ناقص طیارہ دیا گیا تھا۔

حفیظ اللّٰہ نیازی نے کہا کہ کراچی طیارے حادثے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات نہیں ہوں گی، طیارہ حادثہ کی شفاف تحقیقات کیلئے حکومت کے پاس واجد ضیاء موجود ہے، جیسی رپورٹ یہ چاہیں گے ویسی وہ بنا کر پیش کردیں گے ، شہزاد اکبر تفصیل بتادیں گے کہ چونکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور میں ملک کو لوٹا گیا اس لئے یہ حادثہ ہونا ہی تھا۔

ریما عمر کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم آزاد اور غیرجانبدار نہیں ہے، تحقیقاتی کمیشن میں مفادات کا واضح تصادم ہے ، ایک ہی ادارے کے جونیئرز اپنے سینئرز کو کیسے موردِ الزام ٹھہرائیں گے، خودمختار اور باصلاحیت لوگوں پر مشتمل کمیشن بنائے بغیر شفاف تحقیقات ممکن نہیں ہیں۔مظہر عباس نے کہا کہ پی آئی اے کا اصل مالی نقصان پاکستان میں سیاحت ختم ہونے سے ہوا ہے، دہشتگردی کی وجہ سے لوگوں نے پاکستان آنا چھوڑدیا ہے۔

پی آئی اے کے جہازوں سے بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوتی رہی جس کی وجہ سے بہت سے ملکوں میں بلیک لسٹ ہوگئی، کراچی طیارہ حادثہ تحقیقاتی رپورٹ پر شاید سوالات اٹھیں مگر جہاز کریش کرنے کی وجوہات سامنے آجائیں گی، کنٹرول ٹاور کو اندازہ تھا کہ جہاز میں مسائل تھے لیکن ایئرپورٹ پر ایمرجنسی نہیں لگائی گئی، ایئرپورٹ پر ایسی کوئی تیاری نہیں تھی کہ طیارہ رن وے پر کریش کرجائے تو کیا کیا جائے گا۔

دوسرے سوال کیا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا صرف نوز شریف کو جاتا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ دھماکوں کے بغیر پاکستان کو عالمی سطح پر ایٹمی طاقت تسلیم کیا جانا ممکن نہیں تھا، ایک کال مشرف کو آئی تھی ان کا سرنگوں ہوگیا تھا، ایک کال نواز شریف کو آئی اس وقت مزاحمت کرنا آسان بات نہیں تھی۔

نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے ہی 1999ء میں ہٹایا گیا تھا۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اصل سہرا ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سر جاتاہے، پاکستان میں کسی شخص کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا کریڈٹ جاتا ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نہیں ہوتے تو پاکستان میں ایٹمی پروگرام شروع ہی نہیں ہوتا، ضیاء الحق کو ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ دینے والے بھول جاتے ہیں کہ بھٹو کو ہنری کیسنجر کی وارننگ پر عملدرآمد ضیاء الحق نے کروایا، مارشل لاء نہیں لگتا تھا تو پاکستان 1978ء میں ایٹمی دھماکا کرسکتا تھا۔

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیرخان کا تھا مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد کریڈٹ ان کی جگہ دوسرے سائنسدان کو دینا شروع کردیا گیا۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی طاقت بنانے میں سب سے پہلا نام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہے جنہوں نے وطن کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کردیا مگر ہم نے جواب میں انہیں رسوائیاں دیں۔

ان سے ٹی وی پر معافی منگوائیں اور وہ آج بھی اس ملک میں قیدی ہیں، گوہر ایوب لکھتے ہیں کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے نہیں کرنا چاہتے تھے، شہباز شریف نے اس وقت کے وزیر خارجہ گوہر ایوب سے کہا کہ بھائی جان کلنٹن سے بات کررہے ہیں اچھا پیکیج مل گیا تو ہم دھماکے نہیں کریں گے، مجید نظامی نے میٹنگ میں نواز شریف سے کہا کہ اگر آپ نے دھماکا نہیں کیا تو لوگ آپ کا دھماکا کردیں گے۔

اہم خبریں سے مزید